سانحہ عاشورا راولپنڈی :دیوبندی وفاق المدارس کے اجلاس میں مولوی لڑپڑے

سانحہ عاشورا راولپنڈی کے مسئلے پر دیوبندی وفاق المدارس کے مولوی حضرات آپس میں لڑ پڑے ۔دیوبندی مولویوں کا کہنا تھا جب سبھی کچھ ایک فرد کو طے کرلینا تھا تو اجلاس کیوں طلب کیا گیا، مفتی محمد نعیم نے حنیف جالندھری پرشدید تنقید کی اور نوبت گالم گلوچ سے ہوتی ہوئی ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ سانحہ عاشورا پنڈی کے بعد وفاق المدارس کے بعض سرگرم ذمہ داران اور مقامی علماء کے دہرے رویہ اور حکومتی اقدامات کی چمچہ گیری کے باعث بہت سے بڑے دیوبندی علماء نے وفاق المدارس کے اہم اجلاس میں شرکت سے گریزکیا۔ اجلاس کے پہلے سیشن میں سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے غیر ضروری،مشکوک اور حکومت کے حامی موقف کو باربار پیش کئے جانے پر متعدد جید دیوبنددی علما نے دوسرے سیشن کا بائیکاٹ کیا۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کے صدر شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم کا کہناہے کہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ بلا مقصد اجلاس کیوں طلب کیا گیا۔ اگر سب کچھ ایک فرد کی مرضی کے مطابق ہی طے کرنا تھا تو اجلاس بلانے کی ضرورت کیاتھی۔ 4 دسمبرکو اسلام آباد کے وفاق ہاوس میں ہونے والے اجلاس کا اہم ایجنڈا سانحہ جامعہ دارالعلوم تعلیم القران، راجہ بازار، راولپنڈی تھا۔ اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ کے صدر شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، مفتی اعظم محمد رفیع عثمانی، مولانامفتی محمد تقی عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی،مولانا انوار الحق اور مفتی محمد نعیم کو شرکت کرنی تھی۔ مگر مولانا عبدالمجید لدھیانوی اور مفتی محمد نعیم کے سوا کسی بڑی شخصیت نے شرکت نہیں کی۔








