مولانادیدارجلبانی خیرپورمیں سپردخاک سندھ بھرمیں احتجاجی مظاہرے

کراچی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے شیعہ عالم مولانا دیدارحسین جلبانی کو خیر پور میں سپردخاک کردیا گیا، دیدار حسین جلبانی کے قتل کے خلاف خیرپور سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں ہڑتال کی گئی اور شیعہ تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق مولانادیدار حسین جلبانی کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے کراچی سےسکھر ائر پورٹ لائی گئی، جہاں سے میت کو جلوس کی شکل میں مرحوم کے آبائی شہر ٹھری میرواہ لایا گیا، نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد مرحوم کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، اس موقع پر دیدار حسین کے اہل خانہ اور دیگر دوست احباب غم سے نڈھال تھے، دریں اثناء مولانادیدار حسین جلبانی کے قتل کے خلاف خیرپور میں ہڑتال رہی، کاروبار مکمل طور پر بند رہا اور سڑکوں پر ٹریفک بھی کم رہی، اسکولوں اور دفاتر میں حاضری کم رہی، اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے ،احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین و شیعہ علماءکونسل کے رہنماؤں میجر علی عباس کاظمی ،مولانا مظہر عباس نقوی، امداد حسین خمیسانی اور امتیاز حسین نے کہاکہ سندھ حکومت کراچی سمیت سندھ بھر میں امن قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، شیعہ علماءو کارکنوں کو چن چن کر شہید کیا جارہاہے، انہوں نے کہاکہ آج(جمعرات کو) دیدار حسین جلبانی کے قتل اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔حیدرآباد میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے حیدرآباد بائی پاس پر احتجاجی دھرنا دیا گیا ، دو گھنٹے تک جاری رہنے والے دھرنے کے باعث بائی پاس پر ٹریفک مکمل طور پر جام ہو گیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ، دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے مولانا امداد علی نسیمی اور دیگر نے کہا کہ ایک سازش کے تحت شیعہ رہنماؤں کو قتل کیا جارہا ہے ،حکومت دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہوگئی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم میں اب مزید لاشیں اٹھانے کا حوصلہ نہیں رہا، ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، ایسا نہ ہو کہ معاملات ہمارے ہاتھ سے بھی نکل جائیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ شیعہ رہنماؤں کے قاتلوں کو فوری طو رپر گرفتار کیا جائے۔کوٹری ، جامشورو ، سیہون ، مانجھند ، تھانہ بولاخان اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی ہڑتال کی گئی ،سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں حاضری کم رہی ، کوٹری میں شیعہ علماءکونسل کی جانب سے مسجد ابو الفضل عباسؓ سے احتجاجی ریلی نکالی گئی، مقررین نے مطالبہ کیا کہ ملت جعفریہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے۔ تلہار اوراس کے گرد و نواح کے شہروں راجو خانانی ، پیرو لاشاری اور سعید پورمیں بھی ہڑتال رہی ، شہید بینظیر چوک، اللہ والا چوک، بدین بس اسٹاپ، مین بازار سمیت تمام کاروباری مراکز بند رہے اور ٹریفک بھی معمول سے کم رہا ۔میرپوربٹھورو میں مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور سجاول میرپوربٹھورو روڈ پر دھرنا دیا گیا، جس وجہ سے ٹریفک معطل ہوگیا، مقررین مختار دایو ، عادل جعفری ، نفیس علی حیدری ، سید جلال شاہ ، رضا خواجہ ، سجاد خواجہ اور دیگر نے کہا کہ ہمارے رہنما ؤں کو قتل کیا جارہا ہے لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ڈگری میں مجلس وحدت مسلمین ، شیعہ علماءکونسل اور شیعہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے مرکزی امام بارگاہ باب العلم سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء نے پریس کلب ڈگری کے سامنے احتجاج کیا۔ نوشہروفيروز میں مظاہرے کی قيادت اعجاز علی ممنائی،مولانا محب علی مری اور دیگر نے کی، مقررین نے مطالبہ کیا کہ مولانادیدار حسین جلبانی کے قاتلوں کو جلد گرفتار کيا جائے۔








