امریکا نے شام پر حملے کا ارادہ انسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ اسرائیل کی نابودی کے خوف سے ترک کیا، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی

25 ستمبر, 2013 09:01

semenar mujtaba hussainایم ڈبلیو ایم کراچی اور امامینز کراچی کے تحت تحت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نمائندہ ولی فقیہ برائے شام نے کہا کہ شامی بشار حکومت نے خطے میں صیہونی اسرائیل مخالف حقیقی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کا ساتھ دیا، حزب اللہ کی حمایت کی، فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کا ساتھ دیا جس پر پروردگار عالم نے شامی حکومت کی استقامت پر اسکی تائید و نصرت فرمائی۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن اور امامینز کراچی کے زیراہتمام سیمینار بعنوان ’’شام کے خلاف اسلام دشمن قوتوں کی سازشیں‘‘ کا انعقاد کیتھولک گراؤنڈ سولجر بازار کراچی میں کیا گیا۔ سیمینار سے رہبر مسلمین جہان حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے شام میں نمائندے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی نے مرکزی خطاب کیا۔آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی کے مترجم کے فرائض آغا سید مبشر زیدی نے انجام دیئے۔ سیمینار سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ شفقت حسین شیرازی، صوبائی سیکریٹری جنرل سندھ علامہ مختار احمد امامی، ڈویژن ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ دیدار علی جلبانی بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر علامہ شیخ محمد حسن صلاح الدین، علامہ سید صادق رضا تقوی، علامہ یاور عباس زیدی، علامہ محمد حسین کریمی، علامہ علی انور جعفری، علامہ علی افضال رضوی، علامہ نثار احمد قلندری، علامہ جعفر رضا نقوی و دیگر علماء و ذاکرین سمیت امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، امامیہ آرگنائزیشن، پیام ولایت فاؤنڈیشن کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ سیمینار میں خواتین و حضرات کثیر تعداد میں شریک تھے۔
شام کے خلاف اسلام دشمن قوتوں کی سازشیں کے عنوان سے منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی نے کہا کہ تاریخ انسانیت میں ہمیشہ حق و باطل ہمیشہ صف آراء ہوتے ہیں۔ حق و باطل کی جس جنگ کا آغاز حضرت آدم (ع) سے ہوا یہ سلسلہ کبھی رکا نہیں رسول اکرم (ص) کے بعد عالم انسانیت نے اس جنگ کا سب سے بڑا معرکہ کربلا میں دیکھا۔ اسکے بعد بھی حق و باطل کی جنگ کا سلسلہ جاری رہا اور آئمہ اطہار علیہم السلام اور انکی اولادوں نے حق و باطل کی جنگوں باطل کا مقابلہ جاری رکھا۔ یہاں تک کہ آج کے موجودہ دور میں بھی یہ جنگ داخل ہو چکی ہے اور حق و باطل ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہیں۔ اس جنگ میں باطل نے ہمیشہ حق کا لبادہ اوڑھ کے اپنے باطل کی ترویج کی اور باطل نے ہمیشہ چاہا کہ لوگوں کو حق کے ذریعے، حق کا نعرہ لگا کر غافل کر دے۔ 19ویں اور 20ویں صدی کے آغاز میں باطل جمہوری لباس میں اپنے ناپاک مشن کو آگے بڑھاتا ہے۔ جمہوریت دراصل وہ نعرہ تھا کہ جس کے ذریعے عالمی استعمار اور طاغیتی طاقتوں نے اپنے پنجوں کو مزید گاڑنے کیلئے یہ ڈھال بنائی اور اور اپنے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ تاریخ میں بہت سے مواقع ایسے دیکھنے میں آئے کہ بہت سے تحریکیں شروع ہوئیں، انہوں نے زور پکڑا، عوامی تبدیلیوں کے نعرے لگے لیکن ان سب کے پس پشت جو عوامل کارفرما رہے وہ یہی طاغوتی طاقتیں تھیں جنہوں نے ان انقلابات کے اند ر شامل ہوکر اپنے ہی مقاصد کو کارفرما کیا۔ عالمی استعمار و طاغوتی طاقتوں کی تمام تر سازشوں اور منصوبہ بندیوں کے باوجود ہم نے اس صدی کا سب سے بڑا معجزہ انقلاب اسلامی ایران کی صورت میں دیکھا کہ جو ایک عادل، فقیہ، بابصیرت انسان یعنی حضرت امام خمینی (رہ) کے ہاتھوں انجام پایا۔ دنیا نے دیکھا کہ تمام تر سازشوں کے باوجود یہ تحریک آگے بڑھی اور حکومت کی تبدیلی کا باعث بنی۔ اس اسلامی انقلاب کو بھی دشمن نے چاہا کہ اس انقلاب کو بھی ہائی جیک کر کے اپنے مفادات و منافع کیلئے اپنے راستے پر ڈال دیا جائے لیکن امام خمینی (رہ) کی بابصیرت قیادت اور ملت ایران کی شعور، فہم و بصیرت پر مبنی قربانیوں کے نتیجے میں یہ سازش کامیاب نہیں ہو سکی اور آج بھی ان اسلامی انقلاب رہمر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کو دیکھ کر دنیا بھر کے مستعضفین نے حقیقی آذادی کو دیکھنا شروع کیا اس لئے شرق و غرب کی طاغوتی طاقتیں اس انقلاب سے خوفزدہ ہونا شروع ہوئیں اور کوششی کیں کہ کسی طرح اس انقلاب کا راستہ روکا جائے۔ لیکن نہ تو استعمار اس اسلامی انقلاب کا راستہ روکنے میں کامیاب ہو سکا۔ اسی انقلاب اسلامی کی ایک برکت حزب اللہ کی صورت میں لبنان کے اندر وجود میں آئی، جس نے تاریخ انسانیت میں ایک عظیم مقاومت کی داستان رقم کی اور خطے میں عالمی صیہونیت کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
گزشتہ سالوں میں عرب ممالک میں خصوصاَ مصر و تیونس میں اسلامی بیداری کی تحریکوں سے عالمی استعمار و طاغوت حقیقیت میں گھبرا چکے ہیں، انہوں نے اسے عرب اسپرنگ یا عرب بہار کا نام دینا شروع کیا تا کہ اس کے اسلامی چہرے کو قومیت میں ڈھال سکیں۔ انہوں نے ان جگہوں پر اسے ناکام بنانے کیلئے شدت پسندوں کو آگے لائے اور بعض جگہ لبرل ازم کے سامنے لائے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں اسلامی تبدیلی کے تصور کو بد ل دیں اور اس کام کیلئے شدت پسندوں کو آگے بڑھایا گیا۔ اسی پلاننگ کے تحت انہوں خطے میں شام کا انتخاب کیا جس کے تمام تر شواہد عام ہو چکے ہیں۔ استعمار و طاغوت کی جانب سے شام کے نشانہ بنانے کی خاص وجہ یہ بھی ہے کہ شام انقلاب اسلامی ایران کا شروع دن سے اساتھ دیتا چلا آرہا ہے، حزب اللہ لبنان کی پشت پناہی کرتا ہے اور فلسطینی مزاحمتی و مقاومتی اسلامی تحریکوں کو شامی حکومت سپورٹ کرتی رہی ہے۔ پہلے انہوں نے شام پر دباؤ الا کہ آپ ایران سے روابط ختم کریں، حزب اللہ کی حمایت ترک کریں اور شام میں فلطینیوں کے ٹریننگ کیمپوں کو بند کریں کہ جہاں فلسطینی آکر ٹرینگ کرتے ہیں اور اسرائیل کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔ شامی حکومت نے جب عالمی استعمار کے اس دباؤ کو مسترد کر دیا تو انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح عوام کو سڑکوں پر لاکر ایک عوامی تحریک کے ذریعے شامی حکومت کا خاتمہ کرکے اپنی من پسند حکومت شام پر مسلط کر دیں۔ لیکن دشمن نے یہاں جو پہلی غلطی کی کہ وہ شام، وہاں کی عوام اور حکومت کی صحیح معنیٰ میں شناخت نہیں کر سکا، اسکے ساتھ ساتھ دشمن نے اپنی تدبیر اور منصوبہ بندی میں غلطی کی اورتیسری چیز جو شام کو بچانے کی وجہ بنی وہ یہ تھی کہ شامی حکومت کے پیچھے جو کارفرما افراد تھے وہ بہت بابصیرت و باشعور تھے اور شامی حکومت کو بہت زیادہ سپورٹ کرنے والے تھے۔ دشمن یہ سمجھا کہ شاید بشار الاسد اور اس سے پہلے حافظ الاسد کے طولانی اقتدار سے شامی عوام پریشان ہو کر تبدیلی چاہتی ہوگی اس نے اس قسم کے اقدامات اٹھائے۔ لیکن حقیقت میں تمام تر غلطیوں و غامیوں کے باوجود شامی حکومت کے صیہونی اسرائیل مخالف کردار، استعمار کے خلاف ڈٹ جانے اور شامی حکومت کی مقاومت نے اسے شامی عوام کے دلوں میں زندہ رکھا جس کی وجہ سے دشمن کو اپنے منصوبوں میں ناکام ہونا پڑا۔ دنیا میں تبدیلی کے تحریکوں عوام اپنے حقوق کی بات کرتی ہے مگر شام میں شروع میں ہی جو نعرے لگائے گئے وہ تفرقے پر مشتمل تھے، وہاں شیعت کے خلاف نعرے لگائے گئے، عیسائیت کے خلاف نعرے لگے، علویوں کے خلاف نعرے لگے، کہیں پر بھی عوامی حقوق کی بات نہیں کی جاتی تھی بلکہ ہر جگہ تفرقہ پر مشتمل شرنگیزی کی جاتی تھی۔ عوامی تحریکوں میں لوگ خود پرجوش طریقے سے حصہ لیتے ہیں اور اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں مگر شام میں جو لوگ سامنے آئے، جنہوں نے کام کیا انہیں تمام تر فنڈنگ بیرون ممالک سے ہوا کرتی تھی حتیٰ انہیں شام کے اندر کہیں سے بھی فنڈز نہیں ملتے تھے، شام مخالف ممالک نے انہیں فنڈنگ کی۔ لہٰذا شام میں حکومت مخالف گروہ کو نہ صرف کامیابی اور عوامی پزیرائی حاصل نہیں ہوئی بلکہ خود شامی عوام نے اس دہشت گرد گروہ کو اپنے لئے حقیقی خطرہ تصور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شامی حکومت کے خلاف تمام تر بیرونی فنڈنگ کے باوجود چند ہزار سے زائد لوگوں کے مظاہروں کا انعقاد نہیں ہوسکا مگر اس کے مقابلے میں شامی بشار حکومت کے حق میں دنیا نے لاکھوں افراد پر مشتمل شامی عوام پر مبنی ریلیاں دیکھیں۔ شام مخالف دمشن ممالک کی تمام تر سیاسی، اقتصادی و دیگر حوالوں سے نقصان پہنچانے کی کوششوں کے باوجود شامی حکومت نے بہترین استقامت کا مظاہرہ کیا اور پہلے سے بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے خاص طور پر گزشتہ دو تین ماہ سے اپنے راستے پر بہترین انداز میں گامزن ہے۔ یقیناشام مخالف دشمن ممالک کی تمام تر سازشوں کی ناکامی کے پیچھے خداوند عالم کی تائید و نصرت ہے۔ اللہ تعالیٰ استقامت کو پسند فرماتا ہے اور چونکہ شامی بشار حکومت نے خطے میں صیہونی اسرائیل مخالف حقیقی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کا ساتھ دیا، حزب اللہ کی حمایت کی، فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کا ساتھ دیا لہٰذا پروردگار عالم نے بھی شامی حکومت کی استقامت پر اسکی تائید و نصرت فرمائی اور آج شامی حکومت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
صیہونی میڈیا نے بھرپور انداز میں شام میں شیعہ سنی لڑائی کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا اس جھوٹے پروپیگنڈا کے لئے یہ حقیقی مثال ہی کافی ہے کہ جب شام کے شہر حمص میں لڑائی شروع ہوئی تو وہاں سے دمشق ہجرت کرنے والی دو ہزار شیعہ تھے جبکہ گیارہ ہزار سے زائد اہلسنت افراد نے شامی حکومت کے مرکز دمشق میں پناہ لی۔ شواہد عام ہیں کہ شامی میں لڑائی کے باعث جو افراد ہجرت کر چکے تھے اب واپس آنے والوں اہلسنت افراد کی تعداد دیگر فرقوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔ شام میں جس لڑائی کو شیعہ سنی رنگ دینے کی ناکام کوشش کی گئی یہ ایک خالصتاََ سیاسی مسئلہ ہے ہے جسے عالمی استعمار و استکبار و طاغوت نے بنایا، اسے اسلامی نقاب پہنانے کی کوشش کی گئی اور اس کیلئے ایک تکفیری گروہ کا وجود ایجاد کیا گیاجس کا نظریہ یہ ہے کہ ہمارے مخالف جو بھی آئے، جو بھی ہم سے اختلاف رکھتا ہے وہ واجب القتل ہے۔
شام کے معاملے میں مفتیوں سے ایسے فتاویٰ دیئے کہ جس پر ذرہ برابر بھی سوچا جائے تو معلوم ہو جائے کہ بات غلط ہے۔ وہاں باغیوں کو اس بات کی اجازت تھی کہ وہ تین تکبیر کہہ کر اپنے لئے ہر چیز کو جائز کر سکتے ہیں، حرام چیز آپ کیلئے حلال ہو جائے گی۔ لوگوں کی جان، مال حتیٰ کہ لوگوں کی ناموس بھی تین تکبیریں کہہ کر اپنے لئے حلال کر لیتے تھے۔ انہیں شرم آوار کاموں میں ایک انتہائی شرم آور کام کہ جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیاوہ جہاد النکاح کے نام سے ایک فتویٰ تھا کہ جو ایک سعودی تکفیری شخص نے صادر کیا، اس میں حلال و حرام کی تمیز مٹا دی گئی، جس میں محرمیت کو ختم کر دیا گیا۔ اس شرمناک فتویٰ کی رو سے شام میں نام نہاد جہادیوں پر یہ جائز قرار دیا گیا تھاکہ شادی، عقد و نکاح کے مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک خاتون کے ساتھ بغیر کسی عدت کے ایک ہی ہفتے میں کئی مرد شادی کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ کئی ایسے شرمناک فتاویٰ صادر کروائے گئے کہ جس کو ہم شرم سے بیان بھی نہیں کر سکے۔
شام میں معترضین کا جو گرہ تھا اگر اس کو شامی اپوزیشن کا نام بھی دے دیا جائے، جو حکومتی پالیسیوں کو قبول نہیں کرتا تھا، شامی حکومت نے انکا مقابلہ کئے بغیر، انکی رائے کے نتیجے میں قوانین تک میں تبدیلیاں کیں اور شام کے ایک بنیادی و اساسی قانون تھا کہ وہاں ایک ہی حزب ہو گی جس کو حکومت کا حق حاصل ہوگا ، اس میں تبدیلی کی گئی اور دیگر تنظیموں کو حکومت میں آنے کا حق دیا گیا۔ دوسری بڑی تبدیلی اساسی قانو ن کہ جس کی رو سے شامی صدر تاحیات صدر رہ سکتا ہے اس میں تبدیلی کی گئی اور ایک شخص دو مرتبہ صدارت کے عہدے کیلئے منتخب ہو سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں، تبدیلی لائی گئی۔ یہ تمام تبدیلیاں بشار حکومت پہلے ہی لا چکی تھی۔ اس حوالے سے شام میں معترضین کے ساتھ مزاکرات کئے گئے، گفتگو بھی کی گئی جسے ذرائع ابلاغ پر کئی بار دکھایا بھی گیا، حکومتی کابینہ تک میں ان معترضین کو لیا گیا۔ اس کے بعد جن گروہ نے مسلح کارروائیاں شروع کیں انہیں بات کرنے کی دعوت دی گئی، مل کر کام کرنے کی بات کی گئی، اسلحہ رکھنے کی صورت میں معافی کا کہا گیا، حکومت نے معترضین اور دہشت گردوں کے سامنے تواضع کا مظاہرہ کیا لیکن چونکہ یہ منصوبہ بندی بیرون ممالک تیار کی گئی تھی جسکا ہدف نہ تو جمہوریت تھی ، نہ جمہوریت کا ارتقاء تھا، نہ عوامی خواہشات کا احترام تھا، بلکہ اس کا مقصد اس نظام کو ختم کرنا تھا، بشار الاسد کی حکومت کو گرانا تھا۔ اسی لئے بشار حکومت نے انکی خواہشات پر ملکی اساسی قوانین میں جو تبدیلیاں کیں انہوں نے اسے بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا اور باغی دہشت گرد گروہ کی حمایت سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا۔
باغی دہشت گردوں کے عوامی مظالم پر شامی عوام میں مقاومت کی ایک لہر بیدار ہوئی، انتظامات اپنے ہاتھ میں لئے، حکومت کی حمایت میں جہادی و عسکری گروہ بنائے، اسلحہ اٹھایا اور باغی دہشتگردوں کا مقابلہ کیا تو اس کے بعد عوامی مقاومت کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا اور اس وقت شام کے اکثر علاقے دشمنوں کے تجاوز سے محفوظ ہیں۔ شامی عوام نے بشار حکومت اور فوج کی مدد سے باغی گروہ کا مقابلہ کیا اس وجہ سے باغیوں کی شدت میں کمی آئی اور انہیں علاقوں سے باہر نکلنا پڑا۔ یہی وہ موقع تھا کہ عالمی استکباری، استعماری و طاغیتی قوتوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ عوام بشار حکومت اور اسکی فوج کے ساتھ ہے لہٰذ ا اسے نے ایک بار پھر پوری کوشش کی کہ کسی طرح اس معاملے کو باغیوں کے حق میں ختم کرایا جائے۔ اسکے بعد شام میں ایسے واقعات رونما ہونا شروع ہوئے کہ جس سے شام میں بیرونی مداخلت کی ہموار کرنے کا راستہ ہموار کیا جائے۔ امریکا نے ایک جنگی محاذ کھڑا کرنے کی کوشش کی اور اعلان کیا کہ امریکا خود اس جنگ میں کودنا چاہتا ہے۔ بشار حکومت پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اپنی عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کئے۔ لیکن کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے جو شواہد دنیا کے سامنے آئے وہ باغیوں کی جانب سے استعمال کرنے کے حوالے سے آئے۔ شامی حکومت نے یہاں بھی عالمی ایٹومک انرجی کمیشن کو دعوت دی کے آ کر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معائنہ کریں۔ شامی حکومت نے شواہد بھی دینے کا کہا کہ یہ ہتھیار استعمال ضرور ہوئے ہیں لیکن باغیوں کی طرف سے ہوئے ہیں۔ لہٰذا دنیا کے سامنے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ شامی عوام پر کیمیائی ہتھیار باغیوں نے استعمال کئے۔ انہوں نے یہاں بھی غلطی کہ کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ شامی حکومت خود دنیا بھر سے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین کو بلائے، عالمی ایٹمی ادارے کو بلائے اور پھر ان کی موجودگی میں بجائے باغیوں کے علاقوں کے اپنے فوجی کنٹرول کے علاقے میں اپنی ہی عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرے۔ اس موقع پر پھر امریکا نے عجلت میں شام پر حملے کرنے کا اعلان کرکے غلط کر دی مگر پھر اسکا دو گھنٹے میں حملہ کرنے کا اعلان دنوں، ہفتوں میں تبدیل ہوکر تاخیر ہو کر صرف دھمکیوں تک محدود ہوگیا اور یہاں بھی امریکا کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ پھر انہوں نے محدود حملے کا اعلان یا مگر یہاں بھی پسپائی اختیار کرنا پڑی اور پھر اس نے جنگ کاارادہ تبدیل کر دیا۔ امریکا نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کسی انسانی بنیادوں پر نہی کیا بلکہ اس کے پیچھے یہ خوف لاحق ہے ہے امریکی حملے کی صورت میں اسرئیل جسے شیشے کا محل تعبیر کیا جاتا ہے وہ شامی میزائیلوں اور حزب اللہ کے حملوں کے نتیجے میں نابود کر دیا جائے گا۔

1:13 صبح اپریل 7, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔