غاصب دُشمن کے سوا کسی پر ہتھیار نہیں اٹھائیں گے: اسماعیل ھنیہ

فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ عالم اسلام اور عرب ممالک فلسطینیوں کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کےحصول کا واحد سہارا ہیں۔
فلسطینی حکومت اورتمام مزاحمتی تنظیمیں عرب ممالک میں عدم مداخلت کے اصول پرسختی سےکاربند ہیں اورصہیونی دشمن کے سوا کسی کے خلاف اسلحہ نہیں اٹھایا جائے گا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں خطبہ جمعہ کے دوران وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہاکہ ان کی حکومت جزیرہ نما سینا میں مصری فوج کی جانب سے جاری آپریشن کے نتائج اور اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ مصری فوج کے اس آپریشن کے دوران غزہ کی پٹی اور پڑوسی ملک کے درمیان بنائی گئی سرنگوں کی مسماری غزہ کے محصور عوام کے لیے سخت نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی ہتھیار صرف فلسطینی قوم کے غصب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ہے جسے صرف اسرائیلی دشمنوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ فلسطینی مزاحمت کاروں سے کسی بھی مسلمان یا عرب ملک کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وزیراعظم کاکہنا تھا کہ غزہ حکومت تحریک آزادی کے لیے مسلح جدو جہد کی حمایت ترک نہیں کرے گی۔
فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمت کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشترکہ قومی مقاصد بنیادی اصولوں کو مضبوطی سے تھامنے اور باہمی اتحاد ہی کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی صہیونی سازشوں کی شدید مذمت کی اور کہا غزہ حکومت اور اسلامی تحریک مزاحمت \[حماس] ملک میں موجود تمام مقدس مقامات کےدفاع کے لیے ہرممکن اقدام کرے گی۔








