حزب اللہ: ہم بدلہ لینا جانتے ہیں/ اسرائیل ملوث ہے/ دھماکے سے تیل کے ڈالروں کی بو آرہی ہے

21 نومبر, 2013 09:33

haj rizwanرپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے نمائندے علی مقداد نے المیادین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ جانتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے ہونے والے بم دھماکوں کا بدلہ کس طرح لینا چاہئے۔
انھوں نے کہا: ہم حملہ کرنے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمیں شکست نہیں دے سکتے ہو؛ ہم نے ایک پیغام وصول کیا ہے جس کے بھیجنے والے کو ہم بخوبی جانتے ہیں اور ہم اس کا جواب دینا جانتے ہیں۔
دہشت گردی کے تیسرے رکن کی گرفتاری
العالم نے اپنے ذرائع سے نقل کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے سامنے حملہ کرنے والے تیسرے شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق لبنانی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے سامنے دو خودکش دھماکے ہوئے ہیں ایک موٹر سائکل سوار خودکش حملہ آور نے ابتدائی دھماکہ کیا اور دوسرے دہشت گرد نے ایک جیپ کے ذریعے حملہ کیا لیکن یہ دونوں سفارتخانے کی عمارت کے قریب نہيں پہنچ سکے کیونکہ سفارتخانے کا راستہ بند تھا چنانچہ ان دونوں نے عمارت تک پہنچنے سے پہلے ہی دھماکے کئے۔ اور پھر سفارتخانے کے حفاظتی عملے نے بھی دہشت گردوں پر گولی چلائی اور ان دونوں دہشت گردوں کے جسموں کے باقیات کو لیبارٹری میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کی شناخت ڈی این ٹیسٹ کے ذریعے کی جاسکے۔
العالم نے کہا ہے کہ ایک تیسرا شخص ان دو دہشت گردوں کو ہدایات دے رہا تھا جس کو گرفتار کیا گیا ہے اور بظاہر لبنانی پولیس ان تین افراد کا تعاقب کررہی تھی۔
منگل کے روز بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک ہونے والے دہشت گردانہ حملوں ميں 23 افراد شہید اور 146 زخمی ہوئے۔
صدر میشل سلیمان نے حملہ آوروں کا سراغ لگانے پر زور دیا۔
لبنان کے صدر میشل سلیمان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے سامنے ہونے والے دہشت گردانہ دھماکوں کی مذمت کی اور وعدہ دیا کہ ان دھماکوں کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
میشل سلیمان نے صدر حسن روحانی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس حملے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا اور اس حملے کی مذمت کی۔
سلیمان نے ایران کے سفارتخانے اور سفارتی مقامات کی حفاظت پر زور دیا۔
صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی اس موقع پر امید ظاہر کی کہ بیروت کے واقعے میں ملوث افراد جو بیرونی قوتوں کی تحریک پر دہشت گرد ٹولوں نے لبنان کا امن غارت کرنے کے لئے بھجوائے ہیں، کا سراغ لگائے جائے اور انہیں جلد از جلد عدالت کے سپرد کیا جائے۔
ڈاکٹر روحانی نے صدر لبنان کے ٹیلی فونک رابطے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس واقعے میں متعدد لبنانیوں کے شہید اور زخمی ہونے پر لبنانی حکومت اور عوام سے تعزیت کی۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات لبنان کے عوام اور حکومت کے درمیان اختلاف کا سبب نہیں بن سکیں گے اور لبنانی راہنما کیاست کے ساتھ اپنے ملک کی یکجہتی کا تحفظ کریں گے۔
انھوں نے کہا: یہ وقعہ مغربی ایشیا کا اہم واقعہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہمآہنگ اقدامات کئے جائیں گے۔
منگل کے روز دہشت گردوں کے حملوں ميں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے عملے کے چھ افراد سمیت 23 افراد شہید اور 150 افراد زخمی ہوئے۔
منگل کے روز دہشت گردوں کے حملوں ميں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے عملے کے چھ افراد سمیت 23 افراد شہید اور 150 افراد زخمی ہوئے۔
القاعدہ نے دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرلی
دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے وابستہ ٹولے "عبداللہ عزام گروپ” نے اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اس ٹولے کے ایک سرغنے سراج الدین الزریقات نے ٹویٹر پر اعلان کیا کہ اس طرح کے حملے دو مقاصد کے لئے جاری رہیں گے: ایک یکہ کہ حزب اللہ شام کو چھوڑ کر چلی جائے اور دوسرا یہ کہ اس گروپ کے اراکین لبنانی جیلوں سے رہا کردیئے جائیں۔
ادھر المنار ٹی وی چینل نے لبنانی فوج کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پہلا حملہ خودکش تھا اور دوسرا ایک کار بم دھماکہ تھا۔
ادھر المنار ٹی وی چینل نے لبنانی فوج کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پہلا حملہ خودکش تھا اور دوسرا ایک کار بم دھماکہ تھا۔
اس رپورٹ کے مطابق کار بم دھماکے میں ایک جی ایم سی جیپ استعمال کیا گیا جس میں پہلے ہی سے 100 کلوگرام دھماکہ خیز مواد بھرا گیا تھا۔ اور یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پہلا دھماکہ ہونے پر عوام کی ایک بڑی تعداد موقع پر اکٹھی ہوئي تھی۔
المیادین ٹی وی چینل نے کہا ہے کہ خودکش حملہ آور کا بالائی دھڑ محفوظ ہے اور اس کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر بھی ممکن ہے۔
ایرانی سفیر: حملہ اسرائیل نے کرایا
ادھر لبنان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ بیروت میں دہشت گردی کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔
رکن آبادی نے کہا کہ بیروت میں ہونے والے اس حملے میں استعمال کئے جانے والے دہشت گرد صہیونی ریاست کے گماشتے ہیں اور یہ حملہ در حقیقت محاذ مزاحمت کی حقانیت اور اس محاذ کے دشمنوں کی شکست کی علامت ہے۔
انھوں نے کہا: بےشک اس طرح کے حملے یہودی ریاست کے مفاد میں ہیں اور دہشت گرد بہر صورت اس ریاست کی خدمت کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا: اس طرح کے اقدامات ہمیں اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لئے زيادہ قوت عطا کرتے ہیں اور ہم اپنے موقف کی حقانیت اور اپنے اصولوں کے اثبات اور دنیا کے مسلمانوں اور مستضعفین کے حقوق کے احیاء کے لئے اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ سفارتخانے کے حفاظتی حملے کے کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا: ہم دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ جس راستے پر ہم گامزن ہوئے ہیں وہ درست ہے اور ہمارے دشمن ناکامی اور شکست کے اس درجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اس طرح کے بے منطق اقدامات کا سہارا لے رہے ہیں۔
رکن آبادی نے دہشت گردوں سے مخاطب ہوکر کہا: اگر تمہارے پاس کوئی منطق اور دلیل ہے تو بیان کرو ورنہ تمہارا یہ اقدام تمہاری شکست کا بہترین ثبوت ہے۔
انھوں نے کہا: یہ ہمارا راستہ ہے اور ہم نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے کہ اس راستے میں باقی رہیں گے اور ہم سب اس راستے میں شہید ہونے کے لئے تیار ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔
رکن آبادی نے کہا کہ سفارتخانے کے اندر تمام کارکنان محفوظ ہیں لیکن ہمارے ثقافتی قونصل زخموں کی شدت کی وجہ سے جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔
انھوں نے کہا: حجت الاسلام والمسلمین ابراہیم انصاری دھماکے کے وقت سفارتخانے کے سامنے سے گذر رہے تھے۔
شام: بیروت دھماکے سے تیل کے ڈالروں کی بو آرہی ہے
شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے کہا: بیروت میں ہونے والے بم دھماکے سے تیل سے حاصل ہونے والے ڈالروں کی بو آرہی ہے اور علاقے میں سعودی عرب اور خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں سمیت علاقے کے خاص خاص فریق خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا: بالکل واضح ہے کہ بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے میں ہونے والے دھماکوں میں عرب اور مغربی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اور عالمی برادری کو اس قسم کے دہشت گردانہ حملوں کا سد باب کرنا چاہئے اور لبنان، شام اور عراق میں دہشت گردی کے انسداد کے لئے خاص ممالک پر دباؤ لایا جانا چاہئے۔
الزعبی نے کہا: بیروت میں دہشت گردانہ اقدام ایک ناگہانی اقدام نہ تھا بلکہ منصوبہ بندی کے مطابق تھا اور سعودی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں اس اقدام میں ملوث ہیں۔
انھوں نے کہا: بیروت کہ دھماکوں کا تعلق شام کے بحران، جنیوا 2 کانفرنس اور ایران اور 1 + 5 گروپ کے درمیان مذاکرات سے ہے اور ان دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکام اور اسرائیل نے مذاکراتی پالیسی کے بجائے دہشت گردی کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔
الزعبی نے کہا: شامی افواج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اپنے فرائض نبھانے کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔
حملے میں ایران کے کلچرل قونصل شہید ہوگئے
اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے سامنے ہونے والے دھماکوں میں بیروت میں مقیم اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل قونصل حجت الاسلام والمسلمین ابراہیم انصاری شہید ہوگئے ہیں اور سفیر رکن آبادی نے ان کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔
سیکریٹری جنرل عرب لیگ نے بیروت دھماکوں کی مذمت کی
نبیل العربی نے عرب ليک اور افریقی یونین کے مشترکہ اجلاس کے اختتام پر لبنان کے عوام اور حکومت سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کو خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اس خطے کو استحکام کی ضرورت ہے۔
ادھر لبنان میں مصری سفارتخانے بھی ہر اس اقدام کی مذمت کی ہے جو لبنان میں بدامنی کا سبب بنتا ہو۔
نبیہ بری: اس حملے میں تمام لبنانیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے
لبنانی پارلیمان کے سربراہ نبیہ بری نے منگل کو اس ملک کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کو بلکہ پوری لبنانی قوم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران لبنانیوں کی یکجہتی، استحکام اور آزادی اور سلامتی کے لئے مسلسل کوششیں کررہا ہے اور یہ حملہ در حقیقت لبنان کی سالمیت پر حملہ ہے اور تمام لبنانی عوام جانتے ہیں کہ یہ حملہ ان کے خلاف ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔
نبیہ بری نے شہید حجت الاسلام والمسلمین انصاری کی شہادت کے سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی، صدر اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی عوام سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد از جلد صحت یابی کی دعا کی۔
امل تحریک: دہشت گردی لبنان کو ویران کرنے کے درپے ہے
لبنان کی سیاسی جماعت تحریک امل نے بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے ہونے والے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے عوام کو اندرونی سلامتی کے سلسلے میں خبردار کرتے ہوئے زيادہ ہوشیاری پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردوں نے قومی یکجہتی اور امن و سلامتی نیز ملکی استحکام کو نشانہ بنایا ہے۔
لبنان کی امل تحریک کے سیاسی دفتر کے سربراہ جمیل حائک نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ملک کی داخلی سلامتی اور اتحاد و یکجہتی نیز لبنان کو تباہ کرنے کے درپے قوتوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: ہمیں صبر، دانشمندی اور ہوشیاری کی ضررت ہے کیونکہ یہ بہت بڑی مصیبت ہے اور دہشت گرد پورے لبنان کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں۔
انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا: سب کو اپنے فرائض پر عمل کرنا چاہئے اور ذمہ داری سے پہلو تہی کرنا ملک میں بدامنی کا سبب بنتی ہے اور تمام حصولیابیاں (Achievements) تباہ ہوجاتی ہیں؛ دہشت گردوں نے پورے لبنان کو نشانہ بنایا ہے۔
تحریک امل کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات طلال حاطوم نے کہا: منگل کے روز کا حملہ ان حملوں سے مشابہت رکھتا ہے جو اس سے قبل لبنان کے استحکام کو نشانہ بناتے رہے ہیں؛ سب کو ان شہداء کے خون کا قدردان ہونا چاہئے جو اس حملے میں شہید ہوئے اور سب کو جاننا چاہئے کہ لبنان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی اس ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
العالم ٹیم کے چار افراد زخمی ہوئے
بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے سامنے ‏عالی استکبار و صہیونیت کے وہابی چیلوں کے حملوں میں العالم چینل کی ٹیم کے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکوں کے مقام پر لبنانی راہنماؤں کی العالم کے ساتھ بات چیت
لبنان کے بعض راہنما اور نمائندگان نے سفارتخانے کے سامنے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے مقام پر العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی:
لبنانی پارلیمان میں "وفاداران مزاحمت” دھڑے کے رکن علی عمار نے کہا: دہشت گردی چند قومی فتنہ ہے لیکن مزاحمت کا راستہ روک نہيں سکے گی۔
انھوں نے دہشت گردوں سے مخاطب ہوکر کہا: تم جس قدر کے لوگوں کو قتل کرو گے لبنانی قوم زیادہ سے زیادہ بیدار ہوگی۔
رکن پارلیمان علی المقداد نے کہا: دہشت گردی با استقامت اور ڈٹے ہوئے لبنان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکے گی۔
لبنانی پارلیمان کے "حریت و ترقی” نامی دھڑے کے رکن "ہانی القبسی” نے بیروت کے جنوب میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ملت لبنان کے خلاف مجرمانہ اور دہشت گردانہ اقدام قرار دیا اور کہا: ہم اس دہشت گردانہ اقدام کی مذمت کرتے ہیں جس نے لوگوں کی جان و مال سلامتی اور استحکام کو نشانہ بنایا اور تمام لبنانیوں کو اس قسم کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا چاہئے۔
فیس بک کے صارفین نے بھی آل سعود کو مورد الزام ٹہرایا
فیس بک پر سرگرم عمل عرب صارفین نے بیروت میں ایرانی سفارت کے سامنے ہونے والے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی حکمرانوں کے مورد الزام ٹہرایا اور بندر بن سلطان کے کارٹونز شائع کئے جن میں بندر بن سلطان کو جرم و شر کی علامت کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ اور ان کارٹونوں پر یہ جملہ درج تھا کہ "قاتل بہت جلد کیفر کردار تک پہنچتا ہے”۔
سائبر دنیا کے فعالین نے بیروت میں جرائم پیشہ دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے افراد کی تصاویر شائع کرکے ان کے ساتھ ہیہات منا الذلہ، شہادت ہمارے لئے افتخار ہے، تمہارے دھماکے ہمیں ڈرا نہیں سکتے، اور ہمیں قتل کرو ہماری قوم زیادہ بیدار اور ہوشیار ہوجاتی ہے، جیسی عبارتیں درج کی ہیں۔
فاطمہ محمود نامی صارفہ نے لکھا ہے: ہم جانتے تھے کہ الرویس کا دہشت گردانہ حملہ آخری حملہ نہیں ہے اور ہم جانتے تھے کہ صدر اسد اور حزب اللہ کی فتوحات کا رد عمل دہشت گرد لبنان میں دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے ظاہر کریں گے، وہ دہشت گرد جو اپنی شکست کا بدلہ بےگناہوں کا خون بہا کر لیتے ہیں۔ اے بزدل دہشت گردو! شہادت ہمارا افتخار ہے۔
ناصر الدین ررئیفہ نے لکھا: اے خون خوار بندر! تو بےگناہوں کے خون سے کب سیراب ہوگا؟!
فاطمہ حسن نصراللہ نے لکھا: اے خونخوارو! اے ہند جگر خوار اور یزید کے فرزندو! کیا حسین علیہ السلام کا خون بہانا تمہارے لئے کافی نہ تھا کہ اب ان کے عاشقوں کو قتل کررہے ہو؟ لعنت بر خاندان سعود۔

10:43 صبح اپریل 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔