سید حسن نصراللہ کی مغرب کو وارننگ

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری قتل کیس کی عدالت کی جاری کردہ فرد جرم کو غیر شفاف قرار دیا ہے۔ادھر حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ محمد یزبک نے لبنان کے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لبنان اس کے سرمائے کے ساتھ کھلواڑ کرنے سے باز آجائيں۔ شیخ یزبک نے حکومت لبنان سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری قتل کیس کے جھوٹے گواہوں کا کیس شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ لبنان چاہتی ہے کہ حریری قتل سے متعلق حقائق آشکار ہوں اور اس کیس کے جھوٹے گواہوں سے تفتیش کرنے کے بعد ہی اس سلسلے میں حقائق کا پتہ چل پائے گا۔ شیخ یزبک نے کہا کہ حزب اللہ کی برکت سے لبنان پھر سے طاقت حاصل کررہا ہے لیکن دشمن اس راہ میں مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے گزشتہ روز لبنان کی ایک خصوصی عدالت کے حوالے سے دعوی کیا تھا کہ رفیق حریری کے قتل میں ملوث افراد پر مقدمہ چلائے جانے کے لئے کافی دلائل موجود ہیں۔ لبنان کے چودہ مارچ گروپ اور حزب اللہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے حریری ٹریبیونل کو سیاسی اور صیہونی ٹریبیونل قرار دیا ہے جو رفیق حریری قتل میں صیہونی حکومت کے ملوث ہونے پر مبنی ثبوت و شواہد کو اہمیت نہیں دیتا۔
لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری فروری سنہ دو ہزار پانچ میں بیروت میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔








