میانمار کے مسلمان بدستور ظلم و ستم کا شکار

میانمار کے مسلمان بدستور ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کے لئے بھیجی جانے والی عالمی برادری کی امداد بھی ان تک نہیں پہنچ رہی ہے بلکہ اس امداد کے راستے میں متعدد رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں اقوام متحدہ کے دفتر نے کہا ہے کہ راخین صوبے میں پانی کی کمی ایک ہفتے میں بحرانی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگي گذارنے والے ہزاروں مسلمان بچوں کو سماجی اور طبی امور میں امداد کی سخت ضرورت ہے لیکن وہ اس امداد سے محروم ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ حملوں سے مسلمانوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مشکلات میں ایک مسلمانوں بچوں کا طبی امداد سے محروم ہونا بھی ہے۔ واضح رہے میانمار کی حکومت نے صوبہ راخین میں ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی لگادی ہے جس کے نتیجے میں اس صوبے میں مسلمانوں کے حالات بحرانی ہوگئے ہیں۔ میانمار کے انتھا پسند بودھوں نے صوبہ راخین میں بیرونی امدادی مراکز پر حملے کرکے ان مراکز کی امدادی سرگرمیوں کی راہ میں روکاٹیں کھڑی کردی ہیں۔ انتھا پسند بودھوں کے نسل پرستانہ حملوں میں سیکڑوں مسلمان جاں بحق اور لاکھوں ترک وطن پر مجبور ہوچکے ہیں۔








