امریکی وزیرِ دفاع کی وائرل ویڈیو پر سوشل میڈیا میں ہنگامہ، حقیقت کیا ہے؟
شیعیت نیوز: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک غیر معمولی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ 6 اپریل 2026 کو کی گئی ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران وائرل ہونے والی ویڈیو ہے۔
انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین اس ویڈیو کلپ کو تیزی سے شیئر کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دورانِ تقریر ایک ایسی آواز سنائی دی جو بظاہر غیر معمولی نوعیت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں عوامی ردعمل، لاکھوں افراد دفاعِ وطن کے لیے میدان میں آگئے
پیٹ ہیگستھ کی اس ویڈیو کو کینیا میں موجود ایرانی سفارت خانے نے بھی شیئر کیا اور طنزیہ انداز میں لکھا: ”آبنائے کھل گئی“۔
فی الحال یہ واضح نہیں کہ پیٹ ہیگستھ کی وائرل ہونے والی ویڈیو اصلی ہے یا اس میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔
تاہم اس واقعے نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور لوگ اسے مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وزیرِ دفاع امریکی حکومت کے عسکری مؤقف اور ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر بات کرنے کے لیے پوڈیم پر آئے تو اسی دوران ایک غیر متوقع آواز سنائی دیتی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس مخصوص حصے کو کاٹ کر اسے مزاحیہ ویڈیوز اور میمز کی شکل دے دی ہے۔
ایک ایکس صارف نے طنزیہ لکھا کہ ”ہیگستھ نے آبنائے ہرمز پر ایسی شدید بمباری کی کہ اسے ملیامیٹ کر دیا“۔
ایک اور صارف نے ایران کے حسِ مزاح کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی ہونے کے باوجود وہ ایران کی حسِ مزاح سے لطف اٹھاتے ہیں۔
ایک اور صارف نے سوال اٹھایا کہ کیا ایران نے اپنے بہترین سوشل میڈیا ماہرین مختلف سفارت خانوں میں تعینات کیے ہیں یا تمام سفارت خانوں کا عملہ ہی اس کام میں مہارت رکھتا ہے؟
جہاں ایک طرف حکومت کے مخالفین اس موقع کو انتظامیہ پر تنقید کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بہت سے لوگ اسے محض ایک انسانی تقاضا یا مائیکروفون کی خرابی (آڈیو گلچ) قرار دے کر نظر انداز کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب خطے میں شدید تناؤ موجود ہے اور وزیرِ دفاع ایران سے متعلق حساس موضوعات پر بریفنگ دے رہے تھے۔
اس سنجیدہ ماحول میں اس طرح کی غیر متوقع ویڈیو کے وائرل ہونے نے صارفین کو ایک طرف تفریح فراہم کی ہے اور دوسری جانب سنجیدہ حلقوں میں یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ آیا ایسے واقعات کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے یا نہیں۔
فی الحال امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس وائرل ویڈیو پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔







