کشمیر میں اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے مولانا مختار صاحب کا دورہ

ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے صوبہ پونچھ میں واقع حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام کے بانی حجۃ الاسلام و المسلمین سید مختار حسین جعفری نے ڈسٹک راجوری کی ہمالین ایجوکیشن مشن کی لائبریری کا دورہ کرتے ہوئے اس مشن کے بانی فاروق مضطر سے ملاقات کی اور ریاست میں تعلیمی سطح میں پیشرفت اور اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
حجۃ السلام و المسلمین سید مختار حسین جعفری نے اپنے اس دورے میں ہمالین ایجوکیشن مشن راجوری کی لائبریری کا معائنہ کیا۔ ہمالین ایجوکیشن مشن کے بانی فاروق مضطر نے مولانا کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جید علمائے کرام ہی صحیح اسلامی تعلیمات کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مولانا مختار حسین جعفری نے ہمالین ایجوکیشن مشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے میں ہمہ تن مستعد ہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔
انہوں نے کہا: علم کی کمی کے باعث ہم فلسفہ اسلام سے نا آشنا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہمالین ایجوکیشن مشن کی لائبریری سے طلبا کو مستفید ہونا چاہیے کیوںکہ صوبہ جموں کا یہ سب سے بڑا کتب خانہ ہے جس پر انہیں فخر ہے۔ بعد از آں اتحاد بین المسلمین کے موضوع پر مذکراتی عمل شروع ہوا جس پر ہمالین ایجوکیشن مشن کے بانی فاروق مضطر نے سخت زور دیتے ہوئے کہا کہ نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اور مسالک سے اوپر اٹھ کر ایک پیلٹ فارم پو جمع ہو کر دوستانہ ماحول میں ایسے اقدامات اٹھانے چاہیے جس سے اتحاد بین المسلمین کو تقویت ملے مگر یہ تب ممکن ہے جب ہم زبانی نعروں کو چھوڑ کر عملی کام کریں۔
مدرسہ علمیہ امام محمد باقر (ع) کے پرنسیپل نے کہا: فلسفہ اتحاد کا مختصر وقت میں بیان ممکن نہیں یہ ایک وسیع موضوع ہے جس پر احقر نے صدائے اتحاد نامی کتاب میں سیر حاصل کی ہے اس کتاب کے مصنف اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک بزرگ عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین محمد واعظ زادہ خراسانی ہیں اور ترجمہ کرنے کا شرف احقر کو حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا: فاروق مضطر صاحب اتحاد کے عمل کو بڑھانے میں ایک اہم رول ادا کر سکتے ہیں اور ہمالین ایجوکشین مشن کو ہی ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دیا جا سکتا ہے جہاں تمام مسالک کے معتبر متدین دانشور حضرات اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کر سکتے ہیں۔
اس دوران ماہر تعلیم سید محمد اعظم شاہ، ڈاکٹر زبیر احمد، ڈاکٹر عبد المعبود، ارشد احمد، اکبر علی بانڈے کے علاوہ ادارہ کے متعدد اساتذہ کرام بھی موجود تھے۔








