پناہ گزين مسلمانوں کي افسوسناک صورتحال

ہندوستان پہنچنے والے ميانمار کے مسلمان پناہ گزينوں کي حالت انتہائي ناگفتہ بتائي جارہي ہے –
پريس ٹي وي کے مطابق ميانمار کي حکومت کے ظلم و ستم سے بچ کر ہندوستان پہنچنے والے مسلمان سرحدي علاقے ميں انتہائي کس مپرسي کي حالت ميں پڑے ہوئے ہيں-
کہا جارہا ہے کہ اقوام متحدہ پناہ کي تلاش ميں ہندوستان آنے والے مسلمانوں کو پناہگزين کا درجہ دينے سے گريز کر رہي ہے لہذا انہيں ہندوستان ميں غير قانوني مہاجر سمجھا جارہا ہے-
خبروں ميں کہا گيا ہے کہ ميانمار کي حکومت کے ظلم ستم سہنے والے مسلمانوں کي ايک بڑي تعداد کو ہندوستان ميں موت اور بھوک جيسے خطرات کا سامنا ہے-
ماہ رمضان کے دوران ميانمار کے مہاجرين کو غذائي اشيا اور دواؤں کي اشد ضرورت ہے ليکن تاحال کسي بھي جانب سےان کي امداد نہيں کي جارہي – ہندوستان نے اگرچہ مہاجرين کے بارے ميں انيس سو اکياون کے کنوينشن پر دستخط نہيں کئے ہيں تاہم اس نے اقوام متحدہ کے ہائي کميشن برائے پناہگزينان کو ميانمار کے مسلمانوں کے لئے امدادي پروگرام چلانے کي اجازت دے دي ہے-
دوسري جانب ہندوستان ميں مقيم ميانمار کے مسلم پناہ گزينوں نے اقوام متحدہ کے ہائي کميشن پر اميتازي سلوک کا الزام لگايا ہے-
اس وقت ميانمار کے آٹھ لاکھ مسلمانوں کو اپنے ملک کے اندر نسلي اور مذہبي تصفيئے کا سامنا ہے اور ملک کي بودھسٹ آبادي اور سرکاري اہلکار انکے گھروں پر حملے کر رہے ہيں-








