شیخ النمر پر عائد مقدمہ کی دوسری سماعت/ آزادی کی مخالفت

30 اپریل, 2013 09:40

nimar12سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ النمر کے خلاف مقدمہ کی گزشتہ روز ۲۹ اپریل کو سعودی عدالت میں دوسری سماعت ہوئی۔
اس رپورٹ کے مطابق شیخ النمر کے خلاف مقدمہ کی دوسری سماعت میں انہیں ویل چیئر پر بٹھا کر حاضر کیا گیا۔
اس جلسہ سماعت میں شیخ النمر کے بھائی محمد باقر النمر کو ان کے نمائندہ کے طور پر ان کے وکیل صادق الجبران کے ساتھ حاضر کیا گیا۔
شیخ نمر کے بھائی باقر النمر کے بقول عدالت میں شیخ نمر کی اس پیشی کے دوران سعودی عرب کے تین جج اور متعدد نامہ نگار موجود تھے اٹارنی کی طرف سے شیخ پر عائد الزامات کی ایک فہرست دفاع کے لیے وکلاء کو تھمائی گئی۔
باقر نمر نے ٹویٹر سائٹ پر اپنے ذاتی صفحہ پر لکھا: ججوں نے اٹارنی کو حکم دیا کہ وہ شیخ پر عائد الزامات کی فہرست ان کے وکلاء کو دیں اور آدھا گھنٹہ منعقدہ اس جلسہ کے بعد سماعت کی دوسری تاریخ معین کر کے عدالت کا یہ جلسہ ختم ہو گیا۔
محمد باقر النمر نے مزید لکھا کہ قاضی سے مطالبہ کیا گیا کہ مقدمہ کی سماعت عام جلسہ میں منعقد کی جائے لیکن ججوں نے اس مطالبہ کی مخالفت کرتے ہوئے تیسری سماعت کو بھی خفیہ طور پر منعقد کرنے پر تاکید کی۔
شیخ نمر کے بھائی کا کہنا ہے کہ ہمارے وکیل نے مطالبہ کیا کہ شیخ کو ضمانت پر آزاد کیا جائے لیکن عدالت نے اس درخواست کی بھی مخالفت کر دی۔
واضح رہے کہ اسی عدالت کے اٹارنی جنرل نے اس مقدمہ کی پہلی سماعت میں جو گزشتہ مہینہ میں منعقد ہوئی تھی عدالت سے شیخ نمر کو سزائے موت دینے کی درخواست کی تھی۔
شیخ نمر پر عائد الزامات کی جو فہرست مرتب کی گئی ہے اس میں ’’فرقہ واریت پھیلانے‘‘، دھشتگردی کے لیے لوگوں کو تحریک کرنے‘‘، ’’حفاظتی دستوں کے قتل کرنے‘‘ جیسے الزامات ہیں۔ جبکہ سعودی عرب کی حکومت گزشتہ دو سالوں سے قطیف، العوامیہ، القصیم اور مشرقی علاقوں میں حکومت مخالف عوامی مظاہروں کا مشاہدہ کر رہی ہے جو اس ملک میں موجود سیاسی اور سماجی امتیازی سلوک کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔
سعودی حفاظتی دستے مظاہرین کو سرکوب کرنے کے لیے دسیوں جوانوں کو شہید اور سینکڑوں کو جیلوں میں بند کر چکے ہیں۔
شیخ النمر کی گرفتار کے بعد سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں شیخ کی رہائی کے سلسلے میں تقریبا ہر آئے دن احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔

2:40 صبح مارچ 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔