آل سعود: العوامیہ کی پوری شیعہ آبادی کو قتل کریں گے؛ دوہفتوں کے دوران 28 شیعہ آل سعود کے ہاتھوں گرفتار

23 فروری, 2012 11:33

saudiaسعودی وزارت داخلہ کی طرف سے نہتے مظاہرین کے خلاف آہنی مکے پر مبنی پالیسی کا اعلان اور آل سعود سے وابستہ روزنامے کی طرف سے شیعیان الشرقیہ کو قتل عام کی دھمکی آل سعود کے سیاسی دیوالیہ پن اور عوام کے سامنے بالکل بے بسی کی علامت قرار دی گئی ہے۔ 
گدشتہ چند روز میں آل سعود کے زير قبضہ مسلمانوں کی مقدس ترین سرزمین کے باسیوں پر کیا گذری؟ انھوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے کیا کیا اور آل سعود نے ان کے جواب میں کیا اقدامات کئے؟ مطالعہ فرمائیں:
ــ سعودی عربي دوہفتوں کے دوران 28 افراد آل سعود کے ہاتھوں گرفتار
سعودی عرب میں انسانی حقوق کے ذرا‏ئع کے حوالے سے سرگرم ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ چارہفتوں کے دوران آل سعود کے گماشتوں نے دو نوجوانوں کو شہید، 12 کو زخمی اور 28 کو گرفتار کرلیا ہے۔ 
اسی مدت میں آل سعود کے گماشتوں کے ہاتھوں 12 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ اکثر زخمیوں کو بدن کے فوقانی حصے میں گولیاں لگی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کے بادشاہ اور ولیعہد (جو وزیر داخلہ بھی ہیں) نے الشرقیہ کے عوام پر رحم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور سیکورٹی فورسز کو عوام کو جان سے ماردینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی بحرین پر مسلط آل خلیفہ حکومت کی مانند، حکومت عوام کے خلاف میدان جنگ میں اتری ہوئی ہے ورنہ جس طرح بحرین میں کوئی حکومت نہیں ہے اور جارحین اور عوام کے درمیان جنگ کی سی کیفیت ہے الشرقیہ کے علاقے میں بھی یہی صورت حال ہے اور یہاں بھی جارحین اور عوام کے درمیان جنگ کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے اور یہاں بھی بحرینی عوام کی مانند عوام اپنے خالی ہاتھوں اور پر امن جدوجہد کے ذریعے مسلح آل سعود اور اس کے اندرونی اور بیرونی کرائے کے قاتلوں کو بے بس کئے ہوئے ہیں۔
ان ذرا‏ئع نے بتایا کہ آل سعود کی فورسز نے شیعہ علاقوں میں چیک پوسٹ اور ناکے لگائے ہیں جن کی سابقہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اٹھائیس افراد کو ان ہی چیک پوسٹوں اور ناکوں پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اکثر اسیر القطیف میں گرفتار ہوئے ہیں جن کی عمریں 16 سے 45 برس کے درمیان ہیں اور ان افراد کو الدمام، الاحساء اور القطیف میں واقع سعودی اذیتکدوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ 
اسیروں میں سن سے مشہور اور نماياں شخصیات میں سے قلمکار "نذیر الماجد” اور انسان حقوق کے شعبے میں فعال راہنما "فاضل المناسف” شامل ہیں جن کو اس سے قبل بھی کئی مرتبہ آل سعود کے اذیتکدوں میں اسیری کی زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ 
ــ سعودی وزارت داخلہ کا دھمکی آمیز بیان/ آل سعود کی تشویش کی علامت
آل سعود کی وزارت خارجہ نے اپنے دھمکی آمیز بیان میں ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ عوامی تحریک کو کچل دے گی۔ 
اطلاعات کے مطابق آل سعود کی وزارت داخلہ نے منطقۃالشرقیہ کے پر امن مظاہروں پر روا رکھے جانے والے سعودی جبر و تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لئے دعوی کیا ہے کہ "سیکورٹی فورسز جدید دہشت گردی (!) اور بیرونی قوتوں سے وابستہ (!) اقلیت کو شدت کے ساتھ کچل دیں گی اور یہ کہ بیرونی دنیا سے وابستہ اقلیت اپنے مقاصد تک نہیں پہنـچ سکے گی۔ 
واضح رہے کہ منطقۃ الشرقیہ میں شیعیان اہل بیت (ع) کی مطلق اکثریت ہے اور آل سعود کے پاس ان کی بیرون ملک وابستگی کا کوئی ثبوت ہوتا تو اس کو پیش کرنے سے ہرگز اجتناب نہ کیا جاتا اور پھر آل سعود پوری دنیا میں دہشت گردی کا اصل مجرم ہے یہ نہیں معلوم کہ اس خاندان کے افراد نہتے اور پر امن مظاہرین کو جدید دہشت گرد اور ان کے پر امن احتجاج کو جدید دہشت گردی کا نام دے کر کس کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں؟ الشرقیہ کے عوان کہتے ہیں کہ ہرگز خدا کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں جھکیں گے اور یہ کہ وہ موت سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
سعودی عرب کے معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کا یہ موقف الشرقیہ کے علاقے میں عوامی احتجاج کے دوام سے آل سعود کی شدید تشویش کی علامت ہے کیونکہ اس علاقے کے عوام آل سعود کے شدید ترین اقدامات اور بے رحمانہ و غیر انسانی درندگی کے باوجود اپنی تحریک گذشتہ ایک سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان مبصرین کا کہنا ہے کہ الشرقیہ کے عوام کی تحریک کے باعث سعودی عرب کے سنی اکثریتی علاقوں کا خوف بھی زائل ہوگیا ہے اور وہ بھی آل سعود کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے لگے ہیں گو کہ انہیں کوئی کوریج نہیں دی جاتی اور ان کو مولوی اور مفتی حضرات یعنی وعاظ السلاطین کے فتوؤں کی بنیاد پر مکمل میڈیا بائیکاٹ اور زبردست جبر و تشدد کا سامنا ہے لیکن مظاہرے بدستور جاری ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے تمام باشندے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ آل سعود کی مکمل ہماہنگی اور حکومت کی جانب سے ان کی مکمل اطاعت سے تنگ آچکے ہیں اور دوسری طرف سے معاشرتی طبقوں میں وسیع خلیج حائل ہوئی ہے۔ عوام غریب، بے گھر اور بے روزگار ہیں اور ملک کی پوری دولت یا تو آل سعود کے ہاتھوں میں ہے یا پھر ان کی بادشاہت کا تحفظ کرنے والوں کو بھی کچھ حصہ دیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے سعودی عرب کے تمام طبقات حکومت سے سخت ناراض ہیں۔
ــ مظاہرین کے لئے آل سعود کا آہنی مکا/ شرمناک حد تک ہرزہ سرائی
ایک سعودی سیکورٹی اہلکار نے القطیف میں عوامی مظاہروں کو "جدید دہشتگردی” سے تعبیر کیا ہے جس میں "گمراہ ہونے والے” لوگ شرکت کررہے ہیں!
اطلاعات کے مطابق آل سعود کی وزارت خارجہ کے اس اعلی اہلکار نے دعوی کیا ہے کہ القطیف میں جو کچھ ہورہا ہے ایک قسم کی نئی دہشت گردی پر مبنی اقدامات میں شمار ہوتے ہیں!!
آل سعود کی وزارت داخلہ کے اس اہلکار نے عوام کے پر امن مظاہروں کو ایسے حال میں دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے کہ اس خاندان کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود اپنے ملک میں مظاہروں کو کچلنے اور بحرین پر جارحیت کا ارتکاب کرنے کے باوجود شام میں جمہوریت کے نام پر ہر قسم کی مداخلت کررہے ہیں، وہاں دہشت گردوں کی مالی اور فوجی حمایت کرتے ہیں اور شام کے عوام کو جمہوریت اور آزادی کے حصول کی تلقین کرتے ہیں اور ان کو حمایت کے پیغامات بھیجتے ہیں!!!
سعودی اہلکار نے کہا کہ صوبہ القطیف میں سیکورٹی اہلکاروں اور گمراہ شدہ افراد کے درمیان جھڑپوں کا مشاہدہ کررہے ہیں اور گمراہ افراد کا احتجاج جدید دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ 
سعودی اہلکار نے ہزاروں گرفتاریوں اور عوام کو قلع قمع کرنے کے سعودی اقدامات کی طرف اشارہ کئے بغیر کہا کہ اگر القطیف میں حالات نازک ہوجائیں تو سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز اپنی پوری طاقت استعمال کرکے آہنے مکے سے مظاہرین کو کچل دیں گی۔ 
سعودی اہلکار نے دعوی کیا کہ مٹھی بھر افراد جو بیرونی قوتوں سے وابستہ ہیں، اجنبی قوتوں کے اشاروں پر سرگرم عمل ہیں اور ان لوگوں کے اقدامات کا سبب عالم اسلام اور عالم عرب کے سلسلے میں آل سعود کے اقدامات ہی ہیں۔
سعودی اہلکار نے البتہ یہ نہيں بتایا کہ شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور صہیونی ریاست کی صف میں کھڑا ہونا اور آل خلیفہ کی حقاظت کی خاطر بحرین پر جارحیت کرنا عالم اسلام اور عالم عرب کی خدمت کیونکر ہوسکتی ہے۔ 
سعودی اہلکار نے الشرقیہ میں عوام کے قتل عام، بحرین میں عوام کے قتل عام میں آل خلیفہ کا ہاتھ بٹانے اور عراق اور شام نیز پاکستان میں دہشت گردوں کو مسلح کرکے ہزاروں افراد کا قتل عام کرانے کی طرف اشارہ کئے بغیر نہایت وقیحانہ انداز سے کہا ہے کہ الشرقیہ کے مظاہرے آل سعود کو ان لوگوں کے خلاف اقدامات کرنے سے نہیں روک سکتے جو اپنی ملت کا خون بہا رہے ہیں!!!!!!!!!!
ــ سعودی روزنامے نے الشرقیہ کے عوام کو قتل عام کرنے کی دھمکی دی
سعودی وزارت داخلہ اور اس وزارت کے ایک اہکار کی طرف منطقۃالشرقیہ کے عوام کو آہنی مکے سے نمٹنے کی دھمکیوں کے بعد ایک سعودی روزنامے نے ایک قدم آگے بڑھا کر الشرقیہ کے عوام کا قتل عام کرنے اور ان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی ہے۔ 
اطلاعات کے مطابق آل سعود سے وابستہ روزنامے "الاقتصادیہ” نے العوامیہ کے عوام کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ احتجاجی مظاہروں سے باز نہ آئیں تو ان کو اجتماعی طور قتل کیا جائے گا۔ 
آل سعود نے اپنے ٹوٹوں پر پلنے والے قلم فروش قلمکاروں کو اس قدر آزادی دی ہوئی ہے کہ وہ عوام کی پرامن تحریکوں کے بارے میں اس لب و لہجے میں بات کرتے ہیں اور انہیں قتل عام کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
روزنامہ الاقتصادیہ کا چیف ایڈیٹر "سلمان الدوسری” انتہاپسند اور شیعہ دشمن وہابی ہے جس نے اس سے قبل بھی کئی بار اپنے اداریوں میں انتہاپسندی اور تکفیر نیز قتل و غارت کی دھمکیوں کے ذریعے الشرقیہ کے عوام کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی ہیں۔
دریں اثناء العوامیہ ویب سائٹ نے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت کی عادت ہے کہ جب بھی الشرقیہ کے عوام اپنے حقوق کے لئے کوئی پر امن اقدام کرتے ہیں یہ حکومت نہ صرف عوامی مطالبات کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتی بلکہ عوام کو کچل دیتی ہے اور ان کے مطالبات نظر انداز کرنے کی خاطر عوامی تحریک کو ایران سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے اور دنیا والوں کو جتاتی ہے کہ گویا سعودی عرب کے عوام بادشاہوں کی سی زندگی گذار رہے ہيں اور تیل کی دولت سعودی شہزادوں کے ذاتی اکاؤنٹس میں نہیں بلکہ عوام کی جیب میں ڈال دی جاتی ہے۔ 
الدوسری کے روزنامے کے وہابی تجزیہ نگار "علی الجحلی” نے لکھا ہے کہ آالعوامیہ کے عوام نے اگر اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھی اور اگر عوام نے مظاہروں کو کچلنے میں آل سعود کے ساتھ تعاون نہ کیا تو ان کو مکمل طور پر نیست و نابود کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ العوامیہ اور مجموعی طور پر الشرقیہ کے تمام علاقوں کے عوام سعودی عرب کے پرچم اٹھا کر سعودی عرب کے اندر رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق مانگ رہے ہیں۔
ــ سعودی اہلکاروں کا موقف سیاسی دیوالیہ پن کا اعتراف
سعودی عالم دین نے آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے الشرقیہ کے علماء اور مظاہرین پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موقف سعودی اہلکاروں کی سیاسی دیوالیہ پن کا اعتراف ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عالم دین "شیخ غازی الشبیب” نے شیعہ عالم دین شیخ الصفار کے خلاف سعودی ذرائع ابلاغ کی یلغار اور آل سعود کی وزارت داخلہ کی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کا یا موقف درحقیقت سیاسی دیوالیہ پن کا اعتراف اور مسائل حل کرنے کے لئے منطقی روش اپنانے سے فرار کی کوشش ہے۔ 
منطقۃالشرقیہ کے اس نامور شیعہ عالم دین اور دینی راہنما نے سعودی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں گھٹن کے ماحول کے خاتمے کے لئے تعمیری حکمت عملی اپناتے ہوئے موجودہ بحران کا خاتمہ کریں اور وزارت داخلہ کے اہلکاروں نیز ذرہئع ابلاغ کو اشتعال انگیز بیانات دینے سے روک لیں۔ 
انھوں نے کہا: شیعہ راہنما اس سے قبل حکومت کو ضروری نصیحتیں کرچکے ہیں اور موجودہ بحران کے حل کے لئے ضروری تجاویز دے چکے ہیں لیکن اس ملک میں کوئی بھی کان سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ 
الشبیب نے کہا: سعودی عرب کا مسئلہ سیاسی ہے اور گوکہ بعض لوگ اس کو سیکورٹی کا مسئلہ بنا کر پیش کررہے ہیں لیکن یہ سیکورٹی کا مسئلہ نہيں ہے۔ ہمارے سرکاری فریق نے بہت بڑی بڑی غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ 
انھوں نے آل سعود کی طرف سے شیعیان اہل بیت (ع) پر "فرقہ واریت پھیلانے” کا الزام لگائے جانے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا: بعض لوگ اہل تشیع پر مسلسل الزامات لگا رہے ہیں لیکن حال ہی میں دارالحکومت ریاض میں "اہل سنت کو درپیش شیعہ عقائد کے خطرات” کے عنوان سے ایک اجلاس ہوا اور اس میں جو دعوے کئے گئے اور جو فیصلے ہوئے وہ سعودی عرب کے اندر بھی اور علاقے کے دوسرے ممالک میں بھی فرقہ واریت کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں جبکہ فرقہ واریت امت کے لئے نقصان دہ اور زہر قاتل اور دشمنان اسلام کے مفاد میں ہے۔
انھوں نے سوال اٹھایا: کون ہے جو اس قسم کے اجلاسوں کے انعقاد کی اجازت دے رہا ہے جس میں سعودی عرب کے معاشرے ایک اہم حصے پر حملے کئے جاتے ہیں؟
ادھر سعودی قلمکار "خالد النزر” نے سعودی ذرائع ابلاغ میں شیخ الصفار پر لگائے گئے الزامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شیخ الصفار سعودی عرب کے معتدل شیعہ راہنما ہیں۔
النزر نے لکھا ہے کہ سعودی روزنامے کبھی بھی سرکاری اہلکاروں اور حکام پر تنقید نہیں کرتے اور جب کوئی ان پر تنقید کرتا ہے کہ یہ سارے مل کر اس کو اپنی تشہیراتی یلغار کا نشانہ بناتے ہیں۔
ــ  آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ
منطقۃالشرقیہ کے علماء نے آل سعود کی فورسز کی طرف سے پرامن مظاہروں پر جبر و تشدد روا رکھنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے آل سعود کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقے کو پولیس اسٹیٹ بنانے سے باز رہیں اور پرامن احتجاجی مظاہروں کو سرکاری طاقت کے ذریعے کچلنے کا رویہ ترک کردیں۔
اطلاعات کے مطابق حوزہ علمیہ الاحساء کے علماء نے ایک بیان میں پرامن مظاہروں پر آل سعود سے وابستہ سیکورٹی فورسز کے تشدد آمیز رویئے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ القطیف میں سرکاری کاروائی کے دوران اب تک متعدد افراد کی شہادت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے بارے میں فوری تحقیقات کی جائیں اور سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ 
حوزہ علمیہ الاحساء کے علماء نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ احتجاجی تحریک کی بنیاد وہ احساس ہے جو علاقے کے شیعیان اہل بیت (ع) کے ہاں پایا جاتا ہے؛ اس علاقے کے عوام حکومت سے مکمل طور پر مایوس ہیں اور حکومت نے ان کو وعدے دیئے ہیں جن پر ایک لمحے کے لئے بھی عملدرآمد نہیں ہوا ہے اور یہ وعدہ خلافی علاقے کے مسائل اور مشکلات کی پیچیدگی کا سبب بنے ہوئی ہے۔ 
اس بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ گولی کی زبان میں بات کرنے کا رویہ قابل مذمت ہے اور القطیف کے عوام کے دینی اور شہری مطالبات کو توجہ دی جانی چاہئے۔ 
سعودی عرب کے علماء نے شیخ توفیق العامر سمیت تمامی سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: اہل تشیع کے خلاف اجلاسوں اور کانفرنسوں کا انعقاد، مساجد میں مولویوں کی اشتعال انگیز تقاریر اور جرائد اور روزناموں میں پروپیگنڈا مہم مسائل کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتی بلکہ اس مسائل اور بھی پیچیدہ ہونگے۔ 
علماء نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ شیعیان اہل بیت (ع) کے اکثریتی علاقوں میں مساجد اور حسینیات پر لگی ہوئی سرکاری پابندی فوری طور پر اٹھائی جائے اور انہیں اپنے عقائد کے مطابق اپنے علاقوں میں دینی اور مذہبی شعائر و اعمال کی پوری پوری آزادی دی جائے۔
ــ سعودی ادیب کا انتباہ: بھوکوں کا انقلاب آل سعود کو چیلنج کررہا ہے
ایک سعودی اديب و قلمکار نے آل سعود کو خبردار کیا ہے کہ تیل کے عظیم ترین ذخائرکے مالک اس ملک میں بھوکوں کا انقلاب آسکتا ہے۔ 
"زهير كتبي” نے "الدلیل” ٹیلی ويژن کے پروگرام "البيان التالي” (اگلا بیان) میں كه اناؤنسر "عبدالعزيز القاسم” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: آل سعود کو خبردار کیا کہ سعودی عرب کے حالات ان کے خاندانی حکومت کے مفاد میں نہیں ہیں اور تیل کی دولت سے مالامال اس ملک میں بھوکے انسانوں کا انقلاب خارج از امکان نہيں ہے۔ 
انھوں نے آل سعود کو نہایت ہمدردانہ انداز سے کہا: حالات کو توجہ دو ورنہ دیر ہوجائے گی۔
آل سعود نے الکتبی کے اس ہمدردانہ انتباہ کا جواب دیتے ہوئے البیان التالی پروگرام کو فوری طور پر روک لیا۔
آل سعود کی انفارمیشن منسٹری نے اس پروگرام کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ پروگرام کب تک بند رہے گا۔ 
عبدالعزیز القاسم نے اپنے حامیوں کے ایمیل پیغام کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ انھیں یہ پروگرام روکنے کا حکم نامہ انفارمیشن اینڈ کلچر منسٹر کے نائب عبداللہ الجاسر کی طرف سے موصول ہوا۔ 
آل سعود کی انفارمیشن اینڈ کلچر منسٹری نے اسی مہینے ملک میں موجودہ غربت اور غریبوں کے بارے میں کسی بھی پروگرام کی نشر و اشاعت پر پابندی لگائی ہے کیونکہ اس کے بقول ایسے پروگراموں سے آل سعود کے "ہردلعزیز” چہرے (!) پر بدنامی کا داغ لگنے کا خدشہ ہے!۔
مختلف انٹرنیٹ ویب بیسز نے آل سعود کی انفارمیشن اینڈ کلچر منسٹری کے اس قانون پر رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ آل سعودی کی انفارمیشن اینڈ کلچر کی وزارت عوام کی صدا گھونٹنا چاہتی ہے اور انہیں مجبور کررہی ہے کہ رنج و غم پر خاموش رہیں اور مر جائیں لیکن ایک لفظ بھی زبان پر جاری نہ کریں۔
دریں اثناء زہیر کتبی نے سعودی وزارت خانے کے قانون کو بالائے طاق رکھ کر آل سعود کی سرخ لکیروں کو پامال کرتے ہوئے الدلیل ٹیلی ویژن پر "سعودی عرب میں غربت و افلاس” کے عنوان کے تحت ایک پروگرام ترتیب دیا جو گذشتہ جمعہ کے روز نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں انھوں نے سعودی "بنك الاثمار” کے سربراہ عمروالفیصل کو مہمان کے طور پر مدعو کیا تھا۔ 
زہیر الکتبی نے اس پروگرام کے آغاز پر کہا: سعودی عرب کے پاس سات ٹریلین مکعب میٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں ۔۔۔ اس ملک میں کھربوں ڈالر کی لوٹ مار ہوئی ہے اور دنیا کے 25 دولتمند ترین افراد میں 10 سے لے کر 15 تک افراد سعودی باشندے [یعنی آل سعود کے شہزادے] ہیں۔ 
انھوں نے کہا: ہمارے ملک کے ارد گرد انقلابات رونما ہونا شروع ہوئے تو ہماری حکومت نے اچانک، کسی تمہید کے بغیر، عوام کو رہائش کی سہولت دینے کے منصوبے پر کام کرنا ضروری سمجھا۔ جبکہ یہ ایجنڈا کسی طور بھی درست نہیں ہے اور اس کے اوپر کوئی مطالعہ نہیں ہوا ہے اور اس کے لئے درست اور ماہرانہ منصوبہ بندی نہیں ہوئی ہے اور اور اس کا فیصلہ عجلت میں ہوا ہے۔  
الکتبی نے کہا: غربت و افلاس وہ واحد خطرہ ہے جو سعودی عرب کو چلینچ کررہا ہے۔ غربت حتی اسرائیل سے بھی زيادہ خطرناک ہے۔ میں سعودی عرب میں غریبوں اور بھوکوں کے انقلاب اور ملک کے داخلی امن و امان کی تباہی کے حوالے سے فکرمند ہوں۔ کیونکہ جب انسان کو کھانے کے لئے کچھ نہ ملے وہ قتل تک کا ارتکاب کرسکتا ہے۔
ــ امریکا میں سعودی خاندان کا علاج گرجا گھر کے صدقے سے!
سعودی آئل کمپنی کے ایک سابق اہلکار نےکہا انھوں نے امریکی گرجاگھروں سے صدقہ وصول کرکے اپنی بیوی اور بچوں کا علاج کرایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی آئل کمپنی کے سابق اہلکار "دریم النجرانی”جو اپنی بیوی اور اپنے چار بچوں کے علاج کے سلسلے میں امریکہ میں پھنس گئے ہیں، نے ذرائع کو بتایا: مجھے آرامکو آئل کمپنی، واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے اور سعودی وزارت صحت کی بدسلوکی سے شکوہ ہے۔ 
انھوں نے کہا: میرے بچوں کو دل کے امراض لاحق ہیں اور مجھے ان کے کھانے پینے اور اسپتال کے اخراجات نیز دوائیں خریدنے کے لئے گرجاگھروں میں جاکر ان سے صدقہ وصول کرنا پڑ رہا ہے۔ 
النجرانی نے کہا: ہمارا ایک 17 سالہ بیٹا اور ایک چھوٹا بچہ امراض قلب کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوئے جس کے بعد میری بیوی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہوئی اور وہ اس وقت نفسیات کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہے۔ 
انھوں نے کہا: میرے بچوں کو وراثتی طور پر خطرناک قلبی امراض لاحق ہیں اور ان میں سے ایک کو ہر روز 20 قسم کی دوائی لینی پڑرہی ہے۔ 
انھوں نے کہا: میں نے سعودی عرب میں مختلف اسپتالوں سے رجوع کیا اور ان اسپتالوں نے تحریری طور پر مشورہ دیا کہ مجھے امریکہ آنا چاہئے اور اپنے بچوں کو ایک امریکی اسپتال میں داخل کرانا چاہئے۔ 
انھوں نے کہا: بادشاہ نے سعودی وزارت صحت اور آرامکو کمپنی کو بعض قوانین کے تحت مجبور کیا ہے کہ مجھ جیسے لوگوں کے بچوں کے علاج معالجے کے اخراجات برداشت کریں لیکن انھوں نے اخراجات ادا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ 
انھوں نے کہا: امریکی اسپتال نے نادہندگی کا الزام لگا کر میرا کیس عدالت کے سپرد کیا ہے اور آرامکو کمپنی نے غیرمجاز غیرحاضری کے بہانے مجھے اٹھائیس سال خدمت کے باوجود کام سے بے دخل کردیا ہے۔
ایک سعودی شہری کی آپ بیتی دیکھ کر سعودی شہزادوں کی دولت یاد آتی ہے جو ان ہی شہریوں کے محنت کے نتیجے میں ان کے اکاؤنٹس میں بھری جاتی ہے یا  شام، عراق اور پاکستان جیسے ممالک میں سعودی شہزادوں کی شاہ خرچیاں یا لاکھوں ڈالرز کے ٹپ وغیرہ۔۔۔۔
ــ  خلیج فارس کنفیڈریشن کی تجویز مسترد، کویتی اسپیکر کا بیان آل سعود کو جھٹکا
عربی زبان کے ایک نیوز ویب بیس نے سعودی بادشاہ کی جانب سے عرب ریاستوں کے کنفیڈریشن تشکیل دینے کی تجویز پر کویتی پارلیمان کے سربراہ کے بیان کو آل سعود کے لئے ایک جھٹکا قرار دیا ہے۔ 
اطلاعات کے مطابق نہرین نیٹ نے کویتی پارلیمان کے سربراہ احمد السعدون کے حالیہ بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: سعودی بادشاہ نے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو زير نگین لانے کے لئے خلیج کنفیڈریشن تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تھی لیکن کویتی پارلیمان کے سربراہ نے اس سعودی تجویز کو مسترد کرکے آل سعود کو زبردست سیاسی جھٹکا دیا ہے۔ 
نہرین کے مطابق احمد السعدون نے سعودی بادشاہ کی تجویز نیز بحرین میں کویتی فورسز بھجوانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اس ملک کا اندرونی مسئلہ ہے۔
انھوں نے سعودی بادشاہ کی تجویز کو مسترد کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں نے 1994 میں ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس میں اس طرح کی کسی تجویز کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے اور دوسری طرف سے کویت کا آئین ہے جو اس طرح کے کسی مفاہمت نامے پر دستخط کو ناممکن بناتا ہے۔ 
النہرین نے لکھا ہے کہ کویتی پارلیمان کے سربراہ کا یہ بیان آل سعود کے لئے ایک زبردست جھٹکا شمار ہوتا ہے کیونکہ آل سعود کا کویت کے اندر کافی اثر و رسوخ ہے اور اس ریاست میں تکفیری اور وہابی ٹولہ آل سعود کے آلہ کار کے طور پر سعودی مفادات کے لئے کام کررہا ہے۔  
بے شک مذکورہ بالا حقائق کو پیش نظر رکھ کر چنانچہ سعودی بادشاہ کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ کویتی حکومت کی کوئی اعلی شخصیت ان کے بڑھاپے اور مختلف قسم کی بیماریوں اور بوڑھی و فرسودہ حکومت اور بوسیدہ حکومتی ڈھانچے پر بھی ترس نہ کھائے گی اور اس طرح کا بے رحمانہ موقف اپنائے گی۔ ویسے بھی سعودی حکام آج کل عرب دنیا میں اپنے معمر ہونے کے ناطے "بزرگ” کہلوانے کی توقع رکھتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ لوگ ان کی بات مانیں اور ان کی جائز و ناجائز کو جائز سمجھ کر قبول کریں!۔
نہرین نیٹ نے کویتی پارلیمان :الامۃ” کے شیعہ رکن عبدالحمید الدشتی کے حوالے سے لکھا ہے کہ "ہم خلیج فارس کی ریاستوں کے کنفیڈریشن کی سعودی تجویز کی مخالفت میں پارلیمان کے سربراہ کے موقف کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کا موقف در حقیقت واضح کرتا ہے کہ کویت نے سب سے پہلے، سعودی مدعا کو مسترد کیا ہے۔ 
نہرین نیٹ نے ایک اور شیعہ رکن پارلیمان "صالح العاشور” کے حوالے سے بھی لکھا ہے کہ ہم خلیج فارس کے کنفیڈریشن کی تجویز کی مخالفت کے حوالے سے کویت کر سربراہ پارلیمان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ 
ــ ٹویٹر کے صارفین کے خلاف سعودی سلاطین کے مقتی اعظم کا فتوی!
آل سعود ہر دروازے پر دستک دے رہا ہے کہ اپنے دروازے پر دستک دینے والے نوجوانوں کے انقلاب کو روک لے چنانچہ سعودی حکام نے عربی اور اسلامی انقلابات سے ہراساں وعاظ السلاطین کا دامن پکڑ لیا ہے اور مفتی صاحب نے کہا ہے کہ "سچے مسلمان ٹویٹر کے صارف نہیں ہوسکتے”۔
اطلاعات کے مطابق عرب اور اسلامی دنیا میں رونماہونے والے انقلابات میں نوجوانوں کے اہم کردار کو دیکھ اپنے ملک کے نوجوانوں سے خوفزدہ سعودی حکام نے ٹویٹر پر سعودی عرب کے انقلابی نوجوانوں کی سرگرمی دیکھ کر اپنی مطلق العنان بادشاہت کے بچانے کے لئے ایک بار پھر دین کے ٹھیکیداروں کا دامن تھاما اور انہیں ٹویٹر استعمال کرنے سے روک لیا۔ لیکن بات صرف یہی نہیں ہے بلکہ سعودی حکام نے آل سعودی کی بادشاہت کے خلاف نیٹ سرگرمیوں میں مصروف نوجوانوں کا سراغ لگانے کے لئے تیل کی دولت سے اربوں ڈالر خرچ کرکے ٹویٹر کے شیئرز کا ساڑھے تین فیصد حصہ خرید لیا۔ جس کا مفہوم یہ ہوا کہ جس ویب بیس میں کام کرنا حرام ہے اسی ویب بیس کی مالکیت کا کچھ حصہ آل سعود کے پاس !!!
آل سعود نے  ٹویٹر کے 3.6 فیصد خریدنے کے بعد اپنے دربار کے مفتی اعظم سے یہ فتوی جاری کروایا۔ 
حجاز و نجد و الشرقیہ اور جنوب و حرمین کے عوام کی دولت سے ارب پتی بننے والے سعودی شہزادے ولید بن طلال بن عبدالعزیز ۔ <جو اسپین میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ زنا بالجبر کے جرم میں ہسپانوی عدلیہ کو مطلوب ہے> ـ نے دسمبر 2011 میں تیس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم ادا کرکے ٹویٹر کے 3.6 فیصد شیئرز خرید لئے۔ 
اور سلام ہے اسلام پر جس کو ان جیسوں سے پالا پڑ رہا ہے۔
ــ سعودی سیاستدان: حکمران خاندان (آل سعود) کے اختیارات محدود ہونے چاہئیں
ایک سعودی سیاستدان نے آہنی مکے کے عنوان سے آل سعود کی وزارت داخلہ کے دھمکی آمیز بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا: القطیف میں عوامی احتجاج پرامن ہے لیکن آل سعود کا خاندان ان مظاہروں کو دہشت گردی کا نام دے کر انہیں کچل رہا ہے جبکہ یہی خاندان بحرین، عراق، یمن اور شام میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق منطقۃالشرقیہ کے عوام کے خلاف آل سعود کی تشہیراتی یلغار اور وزارت داخلہ نیز سعودی اخبارات کی طرف سے اس علاقے کے پرامن عوام کے خلاف دھمکی آمیز بیانات کو سعودی عرب کے سرگرم سیاسی و سماجی شخصیات اور سیاستدانوں کی جانب سے ملے جلے رد عمل کا سامنا ہے۔ 
العالم نیٹ ورک کے ویب بیس کے مطابق ایک طرف سے آل سعود سے وابستہ فورسز منطقۃالشرقیہ کی انتفاضہ تحریک کو کچلنے کی کوشش کررہی ہیں تو دوسری طرف سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کی سعی لاحاصل رہے گی۔ 
سعودی عرب کے فعال سماجی و سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ القطیف میں ہونے والے مظاہرے پرامن ہیں لیکن آل سعود کی طرف سے اس علاقے کے عوام پر دہشت گردی کے الزامات جاری ہیں جبکہ یہی سعودی خاندان بحرین، عراق، یمن اور شام میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ 
اسی حوالے سے سعودی اپوزیشن راہنما فؤاد ابراہیم نے العالم نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: القطیف میں ہونے والے عوامی مظاہروں کی خبر دنیا والوں تک پہنچ چکی ہے اور حکمران خاندان مختلف قسم کے الزامات لگا کر انہیں کچلنے سے عاجز ہے۔ 
انھوں نے کہا: آل سعود کی حکومت اصلاح پسندی کی ہر تحریک اور ہر اقدام پر بیرون ملک وابستگی یا دہشت گردی کا الزام لگا کر کچلنا چاہتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آج آل سعود کے حکمران کے لئے یہ سمجھنا دشوار ہورہا ہے کہ عوام کی اصلاحی تحریک کے لئے کونسا لفظ استعمال کریں تو مناسب ہوگا۔ 
انھوں نے سعودی وزارت داخلہ کے دھمکی آمیز بیانات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: سعودی عرب میں دو اہم محاذ پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہیں اور زورآزمائی میں مصروف ہیں: ایک محاذ حکمران خاندان اور برسر اقتدار طبقہ ہے جو ملک کی زمین، وسائل اور تمام اختیارات کا مالک بنا بیٹھا ہے اور دوسرا طبقہ عوام کا طبقہ ہے جس کو کچھ کرنے، منتخب ہونے حتی کہ منتخب کرنے اور کـچھ بولنے اور لکھنے یا کسی چیز کا مالک بننے کا اختیار حاصل نہیں ہے اول الذکر طبقہ ایک خاندان پر مشتمل ہے اور آخرالذکر طبقہ ملک کا اکثریتی عوامی طبقہ ہے جن میں سے کچھ لوگ اعلانیہ اختلاف کررہے ہیں کچھ لوگ حالات کی وجہ سے خاموش ہیں۔
انھوں نے کہا: منطقۃ الشرقیہ کے عوام کے مطالبات قانونی اور جائز اور پر امن ہیں جبکہ آل سعود کے ولیعہد نائف بن عبدالعزیز اپنے بیٹے محمد بن نائف پاکستان اور افغانستان اور دیگر ملکوں میں القاعدہ کی تشکیل نو میں مصروف ہیں اور یہی لوگ سعودی عرب میں الشرقیہ کے علاقے کے عوام کے مطالبات کو دہشت گردی کا نام دے رہے ہیں!۔
فؤاد ابراہیم نے کہا: سعودی عرب میں بسنے والے عوام کا مطالبہ ایک ایسے آئین کی منظوری ہے جس کے تحت بادشاہ اور اس کے خاندان کے اختیارات محدود کئے جاسکیں اور مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ الگ کیا جاسکے کیونکہ عوام کی رائے کے مطابق سعودی عرب آل سعود کا خاندانی مزرعہ  نہیں ہے۔
ــ آل سعود کے حکمران رائے عامہ کو گمراہ کررہے ہیں
مصری روزنامہ نویس کا کہنا تھاکہ منطقۃالشرقیہ میں عوام کے خلاف آل سعود کی تشدد آمیز کاروائیاں بے سود ہیں کیونکہ اس سے عوام کے مطالبات کی سطح وسیع تر ہوجائے گي۔
اطلاعات کے مطابق ایک مصری روزنامہ نویس نے منطقۃالشرقیہ میں آل سعود کے سیکورٹی اقدامات کو مہمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح عوامی مطالبات میں اضافہ ہوگا اور ان کی مطالبات کی سطح بھی وسیع تر ہوجائے گی۔
مصری جریدے "الغد العربی” (عربی مستقبل) کے چیف ایڈیٹر "عادل الجوہری” نے کل بدھ کے روز العالم نیوز نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: الشرقیہ کے عوام پر بیرونی قوتوں سے وابستگی کا الزام لگانے سے آل سعود کا مقصد اندرونی بحران کو بیرون ملک منتقل کرنا ہے۔
انھوں نے کہا: منطقۃالشرقیہ کے احتجاجی مظاہروں کے بارے میں آل سعود کی وزارت داخلہ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومت عوامی احتجاج کے خلاف سیکورٹی اقدامات اور جبر و تشدد کا رویہ جاری رکھے گی۔
انھوںنے کے کہ آل سعود کا تشدد بے فائدہ ہے اور سعودی عرب کے نوجوان اپنے مطالبات سے پسپائی اختیار نہیں کریں گے اور معیشت، سیاسی مسائل اور جمہوریت کے حوالے سے عوامی مطالبات کی سطح مزید وسیع ہوگی۔ 
انھوں نے کہا: وزارت داخلہ کا بیان اس پیغام پر مشتمل تھا کہ ریاض کے حکمران سنہ 2008 کی دستاویز (جس میں عبداللہ بن عبدالعزيز نے الشرقیہ کے عوام کی دینی آزادیوں کی ضمانت دی ہے) نیز 1930 کے عشرے میں آل سعود کے پہلے بادشاہ اور موجودہ بادشاہ کے والد عبدالعزیز بن سعود کے اسی طرح کے ضمانت نامے کے پابند نہیں ہیں اور پابند رہنا بھی نہیں چاہتے۔
انھوں نے منطقۃالشرقیہ میں آل سعود کے تجاوزات کے بارے میں اِنسانی حقُوق کے تحفظ کی عِلمبردار بین الاقوامی ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان تجاوزات کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ خاندان آل سعود ظلم و جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور معترضین کے ساتھ مذاکرات کی کسی بھی دعوت کو لبیک کہنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ــ عوام کو دھمکیاں؛ آل سعود پر گومگو اور حیرت کی کیفیت طاری ہے 
ایک سعودی سیاستدان نے عوام کے خلاف آل سعود کی دھمکیوں کو غیر اہم قرار دیا اور کہا کہ منطقۃالشرقیہ کے سلسلے میں آل سعود پر حیرت اور گومگو کی کیفیت طاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق ابواحمد نے بدھ کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ نے اپنی دھمکیوں کو العوامیہ کے علاقے پر مرکوز کیا ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وزارت داخلہ الشرقیہ کے عوام کو چند گروہوں میں تقسیم اور عوامی تحریک کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔
ابو احمد نے الشرقیہ کے عوام کے مطالبات کے سلسلے میں آل سعود پر طاری حیرت اور گومگو کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل سعود کے حکمران ایک طرف سے اپنے مشیروں کو علاقے کے عمائدین اور علماء کے پاس روانہ کرتے ہیں اور ان سے مذاکرات کی اپیل کرتے ہیں اور عوامی مطالبات کو سننے اور توجہ دینے کے وعدے دیتے ہیں اور دوسری طرف سے ان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور ان کے نوجوانوں کو قتل کرتے ہیں!۔
انھوں نے آل سعود کی یک بام و دو ہوا کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ال سعود کے حکمران ایک طرف سے دوسرے ملکوں کو عوامی مطالبات سننے اور توجہ دینے کی سفارش کرتے ہیں اور اسی اثناء میں اپنے عوام کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں اور قتل کرتے ہیں۔۔۔
انھوں نے کہا: آل سعود نے دنیا والوں کے سامنے اپنا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔
ــ مصر میں آل سعود کے خلاف احتجاجی مظاہرے
آل سعود کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل مصریوں کے اہل خانہ نے دارالحکومت قاہرہ میں سعودی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کرکے اپنے عزیزوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 
اطلاعات کے مطابق سعودی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھی ہوئی عبارتوں کے ضمن میں مصری وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ سعودی اذیتکدوں میں پابند سلاسل مصری باشندوں کی رہائی کے لئے فوری اقدامات کرے۔
ایک مصری باشندے نے ذرائع کو بتایا کہ ان کا بھائی دوسرے مصریوں کے ساتھ ایک ہی جیل میں بند ہے اور آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے شدید بدسلوکیوں کی وجہ سے سب نے مل کر بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔
انھوں نے کہا: ان مصری باشندوں کی گرفتاری کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس بعض دوائیاں تھیں جو سعودی عرب میں نہيں پائی جاتیں اور سعودیوں نے ان دوائیوں کو منشیات قرار دیا اور ان افراد کو مقدمہ چلائے بغیر قید کرلیا۔

مآخذ: ابنا

9:57 صبح اپریل 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔