سعودی عرب کے شیعہ عالم دین علامہ سید احمد بن ہاشم کا انتقال پرملال

سعودی عرب کے شیعہ عالم دین اور الاحساء شہر کی مسجد امام حسن عسکری (ع) کے امام جماعت کل مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف جارہے تھے کہ ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاکر دار فانی سے کوچ کرگئے۔یہ عالم ربانی سنہ 1384 میں نجف اشرف مشرف ہوئے اور اپنے بھائی اور والد ماجد نیز شیخ علی بن زین العابدین، شیخ باقر شریف القرشی، سید محمد سبزواری اور سید محمد حسین الحکیم کے محضر میں سطوح فقہ و اصول طے کردیں۔
انھوں نے فقہ و اصل کے درس خارج کے مراحل آیات عظام سید ابوالقاسم الخوئی، سید محمد باقر الصدر، سید عبدالاعلی سبزواری، سید نصراللہ المستنبط، شیخ ابراہیم کرباسی اور سید محمد شاہرودی کے محضر میں طے کئے۔
سيد أحمد بن ہاشم السلمان سنہ 1400 ہجري میں الاحساء کی طرف لوٹے اور ایک سال بعد 1401 میں اعلی دینی تعلیم جاری رکھنے کے لئے قم المقدسہ مشرق ہوئے اور سیدالفانی اور آیت اللہ العظمی سیدکاظم الحسینی الحائری سے فیض حاصل کیا اور 1405 کو الاحساء واپس لوٹے۔
سيد أحمد بن ہاشم السلمان نے اٹھائیس سال تک الاحساء میں دین مبین اسلام کی خدمت کرتے ہوئے مکتب اہل بیت (ع) کی ترویج اور علماء و فضلاء کی تربیت میں صرف کئے۔








