سعودی عربیہ :شیعہ حمایت پر سعودی خاتون معلمہ کی برطرفی

متعصب سعودی حکومتی اہلکاروں نے سعودی عربیہ کے صوبہ قنطیف کی ایک خاتون معلمہ کو شیعوں کی حمایت کرنے پر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔خاتون معلمہ امتہال ابو السعود کا کہنا ہے کہ انھیں ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا سبب شیعہ اساتذہ کے ساتھ سعودی حکومت کا متعصبانہ روا رکھا جانے والے فرقہ وارانہ اور مذہبی امتیازی سلوک پر احتجاج کرنا تھا۔امتہال جو سعودی عربیہ کے صوبے القنطیف میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور معلمہ کے فرائض انجام دے رہی تھیں نے الزام عائد کیا ہے کہ صامر امران نے انھیں ان کے عہدے سے برطرف کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ،امتہال السعود کاکہنا ہے کہ انھیں علاقے میں موجود ایک اہم وہابی شخصیت کا پیغام موصول ہوا تھا جس میں انھیں متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ خود کو شیعہ حمایت سے دور رکھیں۔
شیعہ رہنماؤں نے سعودی حکام کی جانب سے امتہال السعود کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر منصفانہ اور متعصبانہ سلوک کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امتہال کو گھنٹوں ائیر پورٹ پر انتظار کروانا اور ان کے ساتھ سعودی حکام کا روا رکھے جانے والا مجرمانہ سلوک انتہائی افسوس ناک ہے ۔
امتہال کے مطابق سعودی عربیہ کے صوبہ القنطیف کے الشرقیہ ضلع میں چار ہزار سے زائد شیعہ اساتذہ اپنی علمی خدمات انجام دے رہے ہیں جن کو اسکول پرنسپل اور اہم ذمہ داریوںسے سعودی حکام کے تعصبانہ رویہ کے سبب دور رکھا جاتا ہے باوجود یہ کہ وہ اس کے اہل ہیں اور صلاحیت رکھتے ہیں۔








