متفرقہ

نیویارک: دہشت گردوں کاالخوئی سینٹرکی مسجد پربموں سےحملہ

khu center امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں الخوئی سینٹر میں قائم شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد سمیت چار مقامات کوجزوی طورپرنذر آتش کیا گیا ہے،حملہ آور بلوائیوں نےپٹرول بموں اور مالٹوف کاکٹیل سے حملے کئے جس کے نتیجےمیں الخوئی سینٹر کی مسجد کے صدر دورازہ میں آگ لگ گئی تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی حملہ آورگرفتار ہوئے ہیں۔
یہ حملے نیویارک میں تارکین وطن کے سب سے بڑے علاقے کوئنز میں ہوئے جہاں اکثیریت جنوبی ایشائی، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ سےآئےہوئےباشندوں کی ہے۔
علاقے میں موجود شیعہ مسلمانوں کی مسجد اورالخوئی سینٹر کےسربراہ اورخطیب حجتہ الاسلام حسین السہلانی نےمیڈیا کو بتایا ہے کہ اتواراور پیرکی درمیانی شب الخوئی سینٹر کے صدر دروازے پرنامعلوم دہشت گردوں نے آگ لگانے والے بوتل بموں کو پھینکا جس سےسینٹر کے صدر دروازے میں آگ لگ گئی اور اسےشدید نقصان پہنچا۔
مولانا سہلانی کا کہنا تھا گزشتہ شب عشاء کی نماز کے بعد مرکز پرحملے کے وقت اسّی کے قریب نمازی مسجد کےعمارت کے تہہ خانے میں موجود تھے لیکن واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
نیویارک میں کوئنز کے علاقے جمیکا میں واقع الخوئی سینٹر کو شیعہ مسلمانوں کےمرکز کے طور پر اہم حّیثیت حاصل ہے اور یہ عالمی شہرت یافتہ ادارہ ہے جسے امریکی عراقیوں نے قائم کیا تھا۔عراقی اور ایرانی حکومتی سربراہ اور سفیر بھی الخوئی سینٹر میں آتے رہے ہیں۔
دوسرا حملہ اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے کے قریب اسی کوئنز کے علاقے میں مشہور ہندو مندر پر ہوا۔ نامعلوم افراد نے وہاں بھی ایک بوتل بم پھینکا جس سے مندر کے دروازے اور کچھ حصّوں کو نقصان پہنچا۔ تیزی سے پھیلنے والی آگ سے قریبی نجی عمارت کو بھی نقصان پہنچا،تاہم مندر پر حملے میں بھی کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
ایک اور حملہ کوئنز کے علاقے میں ہسپانوی بولنے والی آبادی میں ایک اسٹور پر ہوا جسے ہندوعبادت گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ نیویارک پولیس کا نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف قائم یونٹ اب اس کی بھی تفتیش کر رہا ہے کہ آیا اتوار کی رات ہونے والے حملوں کا تعلق نفرت آمیز جرائم سے تو نہیں۔
اگرچہ الخوئی سینٹر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دے دی تھی جو بروقت وقوعہ پر پہنچی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے پہلے انہیں نفرت انگیز جرائم قرارد دینا قبل از وقت ہوگا۔
وسیع الثقافتی اور لسانی علاقے کوئنز میں رہنے والے تارکین وطن خاص طور جنوبی ایشیائیوں اور عربوں میں خوف و تشویش کی لہر پائي جاتی ہے۔
ادھر نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے نئے سال کی پہلی شب مسجد اور مندروں پرحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جس شخص نے بھی جس ارادے سے یہ حملے کئے ہیں اس نے نیویارک کی روایتی روارداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی روایت کے خلاف کام کیا ہے۔‘

متعلقہ مضامین

Back to top button