شہید آیت اللہ خامنہ ای نے مستقبل کے رہبر کے لیے کسی فرد کا نام تجویز نہیں کیا، رکن مجلس خبرگان
شیعیت نیوز: رکن مجلس خبرگان آیت اللہ عباس کعبی نے کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بعد رہبر کے طور پر کسی کا نام نہیں دیا تھا، مجلس خبرگان قانونی و شرعی معیاروں کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق رکن مجلس خبرگان رہبری آیت اللہ عباس کعبی نے کہا ہے کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای نے آئندہ قیادت کے لیے کسی خاص شخصیت کا نام تجویز نہیں کیا تھا۔ اس بارے میں فیصلہ کرنا مجلس خبرگان کی قانونی اور شرعی ذمہ داری ہے۔
آئندہ کے رہبر کے انتخاب کے طریقہ کار کے حوالے سے جاری اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ مجلس خبرگان کے متعلقہ کمیشن نے متعدد بار شہید رہبر انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں رہبر انقلاب نے تاکید کی تھی کہ قیادت کے معیار اور خصوصیات کو واضح طور پر معین کیا جائے اور انہی معیاروں کی بنیاد پر عمل کیا جائے۔
آیت اللہ کعبی نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں مرحوم آیت اللہ سید محمود شاہرودی، شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی، آیت اللہ سید احمد خاتمی، آیت اللہ محسن قمی اور میں خود شامل تھا۔ اس کمیٹی نے قیادت کے لیے مختلف اصول اور معیار مرتب کیے اور بعد کی ملاقاتوں میں ان کی رپورٹ رہبر انقلاب کے سامنے پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران ہرگز نہیں جھکے گا، غیر مشروط تسلیم کا خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے گا، پزشکیان
آیت اللہ کعبی کے مطابق شہید رہبر انقلاب نے اس موقع پر فرمایا تھا کہ قیادت کی متعدد خصوصیات میں سب سے اہم مالی تقوی ہے، کیونکہ رہبر کے وسیع اختیارات اور ذمہ داریوں کے پیش نظر اگر مالی کرپشن پیدا ہوجائے تو اس کے اثرات دیگر امور تک بھی سرایت کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور نشست میں شہید رہبر انقلاب نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مستقبل کے رہبر کو انقلاب اسلامی کے بنیادی اصولوں پر گہرا ایمان، سیاسی بصیرت، دشمن شناسی، فتنہ شناسی، استکبار کے خلاف جدوجہد اور امریکہ و صہیونی حکومت کے مقابلے میں مزاحمت کے نظریے پر کامل یقین ہونا چاہیے۔
آیت اللہ کعبی کے مطابق مجلس خبرگان کے ایک اجلاس میں بعض ارکان نے رہبر انقلاب سے درخواست کی تھی کہ اگر وہ کسی شخصیت کا نام نہیں بتانا چاہتے تو کم از کم کوئی اشارہ دے دیں تاکہ خبرگان کو رہنمائی مل سکے، تاہم رہبر انقلاب نے جواب دیا کہ اس کی ضرورت نہیں، فکر نہ کریں، خدا مدد کرے گا اور آپ راستہ تلاش کر لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبر انقلاب نے یہ بھی یاد دلایا تھا کہ امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد بھی حالات ابتدا میں پیچیدہ تھے لیکن خدا کی مدد اور امام زمانؑ کی عنایت سے صحیح راستہ واضح ہوگیا تھا۔
آیت اللہ عباس کعبی نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ تمام شواہد سے یہی واضح ہوتا ہے کہ رہبر انقلاب کی رائے یہی تھی کہ مجلس خبرگان رہبری اپنے قانونی اور شرعی فرائض کے مطابق معیاروں اور اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ انہوں نے آئندہ قیادت کے لیے کسی خاص شخصیت کی نہ وصیت کی اور نہ ہی کوئی مصداقی اشارہ دیا۔







