پاکستان میں اہل تشیع کے قتل عام پر حکومتیں خاموش ہیں ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ مداخلت کرے۔ریٹا بورسلینو

یورپی پارلیمنٹ کی ممبر ریٹا بورسلینو نے کہا ہے کہ پاکستان میں اہل تشیع کے قتل عام پر اقوام عالم کی خاموشی افسوسناک ہے ، شیعہ ہزارہ قوم کی نسل کشی پر حکومتوں نے ہمیشہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے قتل عام کی وارداتیں ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہیں ان کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ فوری مداخلت کرے ،انہوں نے کہا کہ
اس وقت صا ف نظر آ رہا ہے کہ ایک دہشت گرد گروہ ، شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلہ کو کافر قرار دے کر قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے.
اس سے پہلے کہ کوئی بڑا سانحہ رونما ہو اور حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں، اس سلسلہ کو رک جانا چاہیے ، انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں مستونگ اور دیگر علاقوں میں گزشتہ چند مہینوں میں قتل ہونے والوں کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کر چکی ہے جو پاکستان کے دیگر علاقوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ لشکر جھنگوی مزید دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ ہزارہ قبیلہ کے آخری فرد کو قتل کرنے تک خاموش نہیں بیٹھے گا یورپی یونین کی نمائندہ نے حکومت پاکستان ور یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اس قتل عام کو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں ۔








