متفرقہ

حسنی مبارک کا زوال عبداللہ بن عبدالعزیز کے زوال کا پیش خیمہ

husni_with_saudiحسنی مبارک کے بعد سعودی حکومت چھ مہینوں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکے گی۔سعد اللہ زارعی عالمی سیاست کے ماہر اور مشرق وسطی کے مسائل کے تجزیہ نگار ہیں۔انھوں نے  "بین الاقوامی امت واحدہ ایسوسی ایشن” کے زیر اہتمام منعقدہ تہران میں منعقدہ "خاموشی کا اختتام” کے عنوان سے منعقدہ  کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مصری انقلاب غیر متوقع اور غیر معمولی تھا اور اس طرح کے واقعات آنے والے دنوں میں سعودی عرب، مراکش،  لیبیا اور الجزائر میں بھی رونما ہونے والے ہیں۔
انھوں نے تیونس، مصر اور یمن میں اٹھنے والی تحریکوں کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: ان سب ملکوں میں اٹھنے والی تحریکوں کے اسباب تقریبا ایک جیسے ہیں جن میں ان ممالک کی حکومت کی مغرب نوازی اور مغرب اور امریکہ سے شدید وابستگی، مغربی حکومتوں کی جانب سے ان حکومتوں کی سیاسی، فوجی اور سفارتی حمایت، مذہب اور دین اسلام کے خلاف ان حکومتوں کے شدید اقدامات اور لادینیت، آمریت اور استبداد اور طویل عرصے سے عوام کے مقدرات پر ظالمانہ تسلط، فوجی اور پولیسی عنصر کا غلبہ، فوج، پولیس اور سیکورٹی و جاسوسی اداروں کا بے تحاشا استعمال بہت اہم ہیں۔
البتہ جناب زارعی نے ان حکومتوں کے ہاتھوں اپنے ملکوں کی دولت لوٹنے کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے عوام شدید غربت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
انھوں نے امریکہ کے لئے مصر کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مصر کے تمام واقعات پر امریکہ کی گہری نظر ہے اور اس نے مصری آمر کو تحفظ دینے کی بہت کوشش کی لیکن اب بھی وہ چین سے نہیں بیٹھا اور وہ مصر کے موجودہ نظام کو مبارک کے بغیر بھی قائم و دائم رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔
انھوں نے کہا: مصری انقلاب پورے خطے پر اثر انداز ہوگا کیونکہ مصر عالمی اداروں میں عربوں کا نمائندہ سمجھا جاتا رہا ہے؛ اس ملک میں بننے والی جماعت "اخوان المسلمون 17 ملکوں میں سرگرم عمل ہے؛ اس ملک کے عوام عرب دنیا میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں، تا ہم یہ ملک اتنی ساری ممتاز خصوصیات کے باوجود 30 سال تک آمریت کے جوتوں تلے روندا جاتا رہا ہے اور ایک مستبد حکومت نے اس ملک کو ہر لحاظ سے لوٹا ہے اور اس کی بین الاقوامی عزت وعظمت خاک میں ملا کر رکھی ہے۔
انھوں نے کہا: مصری عوام نے آمر حسنی مبارک کی شخصی اور موروثی اور تاحیات حکمرانی کے خلاف احتجاج کیا لیکن نے مغرب نے اس انقلاب کو ایک جذباتی انقلاب کا نام دیا جو تیونس کے انقلاب سے متأثر ہوکر رونما ہوا تھا اور اگر یہ جذباتی انقلاب ہوتا تو 340 افراد کے قتل کے بعد لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے کیونکہ اتنے افراد کی ہلاکت ایک جذباتی تحریک کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔
زارعی نے ایران کی اسلامی انقلاب اور مصر کے انقلاب کے درمیان اختلاف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ایران کے اسلامی انقلاب قائد تحریک کی قیادت میں رونما اور کامیاب ہوا جبکہ مصری انقلاب کا کوئی واحد قائد نہیں ہے اور یہی مصری انقلاب کی سب سے بڑی کمزوری ہے اور اگر آنے والے دنوں میں کوئی فرد اس انقلاب کی قیادت نہ سنبھالے تو اس انقلاب کا کوئی منطقی اور معقول نتیجہ نہ ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ حسنی مبارک کے چلے جانے کے بعد سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور ان کی حکومت چھ مہینوں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکے گی اور اس سے قبل یا اس کے بعد شمالی افریقہ کی تمام مغرب نواز حکومتیں بھی سرنگون ہوکر رہیں گی۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر مغربی قوتوں کا تجزیہ یہ تھا کہ حسنی مبارک اور ان کا خاندان مزید اقتدار میں نہیں رہنا چاہئے اور ایک نئے مہرے کو نظام حکومت سونپنا پڑے گا جو سیکورٹی اور فوجی عنصر ہونا چاہئے کیونکہ مصر کی یہ صورت حال رہے تو نظام حکومت ہی ختم ہوجائے گا۔ چنانچہ انھوں نے حسنی مبارک کو پہلی مرتبہ نائب کی تقرری پر آمادہ کیا اور مصر کی سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہ عمر سلیمان کو نائب بنوادیا [اگرچہ مبارک کے چلے جانے کے بعد اقتدار فوج کے پاس ہے اور عمر سلیمان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے]۔
انھوں نے کہا کہ [اگر انقلاب مصر جاری رہا تو] امریکہ کا نیا متبادل مصر میں انارکی پھیلانا ہے اور امریکہ یہ عمل مصر کے 20 لاکھ فوجیوں اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے پورے ملک میں پھیلانے کی کوشش کرسکتا ہے۔
انھوں نے آخر میں کہا: مصر کا نظام حکومت ختم ہونے کی صورت میں صہیونی ریاست کی عمر بھی گھٹ جائے گی اور اگر اس سے قبل اس ناجائز ریاست کی عمر 10 سال تصور کی جاتی تھی تو مصری نظام حکومت کے خاتمے کے بعد یہ عمر ایک سال ہوجائے گی۔ اسی بنا پر صہیونی ریاست اپنی پوری قوت سے مصری نظام حکومت کی بقاء کے لئے زور لگارہی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button