بحرین : آل خلیفہ کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا

ایک بحرینی سیاستدان نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے شہریوں کے خلاف آل خلیفہ کی جبر و تشدد اور انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کو فاش کرکے اس خاندان کی پلید حکومت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرلیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ حکام کے کان بہرے ہوگئے ہیں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی جانب سے شہریوں کے حقوق کو ملحوظ رکھنے کی تمام اپیلوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور عالمی سطح پر اپنے غیر انسانی کرتوتوں پر ہونے والی تنقید کو نہیں سنا کرتے اور دوسری طرف سے امریکہ آل خلیفہ کے غیر انسانی جرائم کو جمہوریت کی بحالی کا نام دے رہا ہے۔
انھوں نے کہا: عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے خلیفی جنگی جرائم اور جبر و تشدد کی مذمت کرکے اس حکومت کی پلیدی اور بھونڈے پن کو آشکار کردیا ہے اور اب یہ حکومت زیادہ احتیاط کے ساتھ غیر انسانی جرائم کا ارتکاب کرنے لگی ہے۔
الماحوزی نے نام نہاد قومی مذاکرات اور اس کی انجام پانے والی نشستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: خلیفی حکومت کے زیر نگرانی ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا پہلے ہی دن سے اندازہ کیا جاسکتا تھا کیونکہ جس ملک میں جبر و تشدد کا سلسلہ جاری ہو، لاشیں اٹھ رہی ہوں اس ملک میں مذاکرات بے معنی ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا: اب تک ہونے والی نشستوں سے ثابت ہوا کہ ان مذاکرات میں غیر اہم مسائل پر گفتگو ہوتی ہے اور یہ مذاکرات میں عوامی مطالبات کا جائزہ نہیں لیا جاتا اور حکومت نے موجودہ بحران کو سرے سے نظرانداز کردیا ہے۔
الماحوزی نے کہا: مذاکرات کے اس ڈرامے کی تجویز ابتدائے انقلاب سے ہی امریکہ نے دیا تھا تا کہ مخالفین کسی شرط کے بغیر ہی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔








