بحرین / ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہید کی بوری بند لاش گھر کے سامنے پھینکی گئی

07 اپریل, 2011 08:25

hameeh_1آل خلیفی اور آل سعودی جلادوں کے ہاتھوں دو دن قبل گھر سے اغوا ہو کر ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہید شہید حاج سید حمید محفوظ کی بوری بند لاش گھر کے سامنے پھینکی گئی۔
بنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سید زادے "الحاج سید حمید محفوظ” کا تعلق بحرین کے علاقے سار سے ہے جنہیں دو روز قبل اغوا کیا گیا تھا۔
شہید الحاج سید حمید محفوظ کو دو روز سرکاری غنڈوں نے گھر سے اٹھایا تھا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا۔ ان پر تشدد کی داستان ان کی بے جان جسم سے سمجھی جاسکتی ہے۔
شہید کو شدید تشدد اور آزار و اذیت پہنچانے کے بعد قتل کیا گیا اور آج صبح ان کی "بوری بند لاش” ان کے گھر کے سامنے پھینکی گئی!!!؟
سوال یہ ہے کہ جو قوت پورے اصرار کے ساتھ حکومت کہلواتی ہے اس کے اس طرح کے اقدامات سے کس چیز کا پتہ ملتا ہے؟
ریاستی دہشت گردی کے کسی بھی اقدام سے کسی حکومت کی قوت نہیں بلکہ ضعف اور بے بسی کا ثبوت ملتا ہے۔
بوری بند لاشیں ملنا قارئین و صارفین کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اگر بعض ممالک میں غنڈے اور دہشت گرد اس طرح کے اقدامات سرانجام دیتے ہیں تو بحرین میں آل خلیفی سرکار اس طرح کے اقدامات سرانجام دے رہی ہے اور اگر ایک طرف سی سیاہ پلاسٹک کے تھیلے میں بند کرکے ان کی لاش ان کے گھر کے سامنے پھینکی گئی ہے تو دوسری طرف سے ان پر درندگی کی تمام حدود عبور کرکے غیر انسانی اور غیر اسلامی اقدام کرکے ان کو شدید ترین تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس حوالے سے ایک بحرینی کا مرثیہ پڑھنا بے مناسبت نہ ہوگا:
المئے کے بعد المیہ … ابھی ایک شہید کی تشییع اور مجلس فاتحہ ختم نہیں ہوتی کہ دوسرے شہید کے جنازے کو کندہا دینا پڑتا ہے ….. ہم ان لوگوں میں تبدیل ہوگئے ہیں جن کو قربانیوں کی طرح ذبح کیا جاتا ہے … لیکن دنیا ہماری لاشیں اور ہمارے آنسو اور ہماے خون کا تماشا دیکھ کر شادمان ہوتی ہے اور جشن مناتی ہے … یہی نہیں بلکہ بعض تو ہم پر ہی ملامت کرتے ہیں … لیکن یہ کیس اللہ کی عدالت میں ہے ….. اس کیس کے منصفانہ فیصلے کا ہمین یقین  اور اللہ کی فیصلون پر ہمارا ایمان پختہ ہے … ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمیں اپنی مدد و نصرت سے نوازے گا اور ہمارے موقف کو مستحکم کرے گا … اس لئے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ مظلوم کا ساتھی ہے … ہمیں یقین ہے کہ ہمارا خون ہرگز رایگان نہ جائے گا … بلکہ یہ خون حریت اور عزت و عظمت اور کرامت کا راستہ روشن سے روشن تر کرے گا … اسی لئے تو ہم پامردی کی علامت بنے ہوئے ہیں. .. ہماری نظر صرف اللہ کی ذات پر ہے ….. ہم ایمان و اطمینان سے مالامال قلب لے کر کہتے ہیں: "اگر یہی تیری مرضی ہے ہمارے پروردگار! تو لیتا رہ ہم سے جب تک کہ تو راضی نہیں ہوتا …”۔
بہر صورت ایک سرکاری ڈاکٹر نے کہا ہے کہ شہید کو کوئی بھی بیرونی زخم نہیں لگا ہے جو موت کا سبب بن سکتا ہے صرف پوسٹ مارٹم سے وفات کے اسباب کا پتہ چل سکے گا لیکن اس جھوٹی رپورٹ کی تردید شہید کی تصویرون سے ہوہی جاتی ہے.
تا ہم ڈاکٹر نے کہا ہے کہ شہید کی رگوں میں خون جم گیا تھا جس کی وجہ سے وہ انتقال کرگئے ہیں جو شاید صحیح بھی ہو کیونکہ آل سعود اور آل خلیفہ کے جلادوں کا تشدد اس عارضے کا سبب بن سکتا تھا۔
hameed                                                                                         

9:29 صبح مارچ 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔