عرب امارات ایران کے خلاف جارحیت میں براہ راست شریک تھا، ایرانی وزیر خارجہ
شیعیت نیوز : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران اماراتی نمائندے کے بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف جارحیت میں براہ راست شریک تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایران پر حملہ شروع ہوا تو امارات نے نہ صرف اس کی مذمت نہیں کی بلکہ بعد میں امریکا اور اسرائیل کو فوجی اڈے، فضائی حدود اور دیگر سہولتیں فراہم کر کے عملی طور پر اس کارروائی میں شامل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں، سابق امریکی وزیر خارجہ کا انکشاف
عراقچی نے کہا کہ امارات نے اسرائیلی اور امریکی افواج کو انٹیلی جنس سمیت ہر قسم کی سہولت فراہم کی تاکہ ایرانی عوام کو نشانہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امارات نے نہ صرف اسکول پر ہونے والے وحشیانہ حملے کی مذمت نہیں کی جس میں 170 سے زائد معصوم طلبہ شہید ہوئے بلکہ بعد میں حملہ آوروں کا ساتھ بھی دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران امارات کو ہمسایہ اور برادر ملک سمجھتا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امارات نے اسرائیل اور امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے امارات کو مشورہ دیا کہ امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کے ساتھ اتحاد نے انہیں تحفظ نہیں دیا، اس لیے ابوظبی کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ عراقچی نے برکس رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ منصفانہ موقف اختیار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں امریکا، اسرائیل اور امارات کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی جارحیت کی مذمت کرنی چاہیے۔







