بحرین:انقلابی تحریک کچلنے کے لیے بادشاہ نے پاکستانی شہریوں کی بھرتی شروع کر دیi

بحرین میں جاری عوامی انقلابی تحریک اور بادشاہ آل خلیفہ کے تسلظ کے خلاف عوام کی بیداری کی تحریک کو کچلنے کے لیے بحرینی بادشاہ آل خلیفہ نے پاکستان سے فوج میں بھرتی کے لیے افراد بلوانا شروع کر دیے ہیں ۔شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دنوں پاکستانی اخبارات میں ایسے اشتہارات شایع کیے جا چکے ہیں کہ جن میں پاکستان سے افراد کو بحرینی فوج میں بھرتی کرنےکی اپیل جبکہ فوری ضرورت کی اپیل کی گی ٔ ہے۔بحرین کی فوج اور پولیس پہلے سے ہی بیرون ملک مزدوروں سے تشکیل پائی ہے اور پاکستانیوں کی تعداد بھی ان میں کم نہیں ہے اور حال ہی میں ہمیں بعض پہکستانیوں کے پیغامات بھی ملے ہیں جنہوں نے ہم سے آل خلیفہ کی زبان میں بات کی تھی اور آل خلیفہ خاندان نے اپنی قوت کی نمائش کے لئے بھی پاکستانی اور ہندوستانی مزدوروں کی ریلیاں بھی منعقد کرائیں اور اب جبکہ بحرین کی اپنی فوج اور پولیس بحرینی عوام کے ساتھ مل رہی ہے تو بحرین کی خاندانی آمریت و استبداد کے لئے کرائے کے قاتلوں اور ٹوٹے کھانے والوں کی ضرورت پڑی ہے اور اس نے شاید دیگر ممالک کے لئے بھی اشتہارات شائع کئے ہوں لیکن پاکستان کے لئے شائع ہونے والا اشتہار پاکستانیوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے شائع کیا گیا ہے جو یقینا پاکستانی اخبارات میں بھی چھپا ہوگا۔ بات صرف اتنی ہے کہ پاکستانیوں کو بحرینی انقلابی عوام کی آواز دبانے اور ان کی خواہشات کچلنے کے لئے بلایا گیا ہے اور یہ قابل فخر اور با ضمیر پاکستانیوں کے ضمیر کا امتحان بھی ہے اور دنیا والوں کے لئے لمحۂ فکریہ بھی۔
اس بھرتی کے دوران ایجنٹ حضرات شیعہ اور سنی اختلاف کے موضوع سے بھی استفادہ کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ بحرین کے شیعہ اور سنی مسلمانوں نے مل کر اس تحریک کا آغاز کیا ہے۔
دوسری جانب جعفریہ الاینس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے حکومت سے سخت احتجاج کرتے ہویے کہاہے کہ اس قسم کے اشتہارات کا پاکستانی روزناموں میں شایع ہونا شرمناک فعل ہے حکومت کو چاہیے کہ اس قسم کے اشتہارات کے خلاف سختی سے نوٹس لیا جایے کہ جس میں غٓصب اور سفاک حکمرانوں کی جانب سے مسلم امہ کو کچلنے کے لیے فوجیوں کی بھرتی کا تذکرہ کیا گیا ہے انہوںے اوور سیز ایمپلاءمنٹ سیل کی شدید مذمت کرتے ہویے کہا کہ اس طرح کے اقدامات اسلام اور مسلم امہ سے خیانت کاری کے مترادف ہیں۔








