داعش کا نام نہاد وزیر دفاع مارا گیا

عراقی فوج کی” اسپیشل فورسز "نے دہشت گرد گروہ داعش کے نام نہاد وزیر دفاع کو ہلاک کردیا ہے۔ عراق کے الحدث پریس کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج کی اسپیشل فورسزنے باوثوق سکورٹی اطلاعات ملنے کے بعد بدھ کے روز صوبۂ الانبار میں داعش کے نام نہاد وزیر دفاع خلیل مفخخہ کو اس کے نو ساتھیوں کے ساتھ الرمادی میں ہلاک کردیا ہے ۔عراق کے سکورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کی ہلاکت سے بعثی اور داعشی عناصر کو سخت دھچکا لگا ہے جب کہ تکفیری دہشت گردوں کے ساتھ جنگ میں عراقی فورسیز کو بڑی کامیابی ملی ہے. اسی طرح شمالی عراق کے شہر بیجی میں آئیل ریفائنری پر دہشت گردوں کے دوسرے دہشت گردانہ حملےمیں ، عراقی فورسیز کے ہاتھوں 70 دہشت گرد مارے گئے ہيں۔ دجلہ فورس سے موسوم عراقی فوج ،کہ جس کی سربراہی عبد الامیر زیدی کررہے تھے ، ایک بار پھر شمالی عراق کے نزدیک قلاچوالان میں محمد خلف نے منظم کی ہے جس میں 350 افسر شامل ہيں ۔ دوسری جانب عراق کے سکورٹی ذرائع نے مشرقی عراق کے صوبے الدیالہ کے علاقے العظیم سے دہشت گردوں کے فرار کے بعد ان کے چھوڑے ہوئے ایسے ہتھیاروں کا انکشاف کیا ہے جو اسرائیلی ساخت کے ہیں ۔ یہ ہتھیار عوامی رضاکار فورس اور عراقی فوج نے اس علاقے سے دہشت گردوں کو باہر نکالنے کے بعد حاصل کیا ہے ۔ مغربی عراق کے شہر فلوجہ کی نجات کونسل کے نائب سربراہ محمد الدلیمی نے بھی اس شہر میں اردنی فوج کے سو سے زائد جدید ترین ہتھیاروں کے انکشاف کی خبر دی اور کہا کہ یہ ہتھیار اردنی فوج کے ہیں جو اس فوج کے لئے اردن ارسال کئے جاتے ہيں ۔ الدلیمی نے مزید کہا کہ الرمادی میں عراقی حکومت کے مخالف گروہوں کے حالیہ دھرنے کے پیش نظر ، بارہا اردن سے اسمگلروں اور تاجروں کے ذریعے ہتھیاروں کی منتقلی کے بار ےميں خبردار کیا جا چکا ہے۔








