دہشت گردی کا مقابلہ حکومت عراق کو مشکلات کا سامنا

28 جون, 2013 10:03

iraq14عراق کے نائب وزیر اعظم حسین شہرستانی بعث پارٹی کے بچے کھچے افراد اور دہشت گردوں کو اس ملک میں بدامنی اور بے ثباتی کا سبب جانتے ہیں۔ شہرستانی کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گذشتہ برسوں کی طرح عراق میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام نہیں دے سکتے ہیں اس لئے کہ پورے ملک میں پولیس کو ان کی تلاش ہے اور جب وہ پکڑے جاتے ہیں انھیں سزا دی جاتی ہے ۔ حکومت عراق کی خاص طور پر گذشتہ برس کی کوششوں کے باوجود دہشت گرد داخلی اور خارجی عناصر کی مدد سے دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دے رہے ہیں ۔ حالیہ مہینوں میں بیرونی طاقتوں سے وابستہ افراد کے اکسانے پر عراق کے مختلف شہروں میں بدامنی رہی ہے ۔ تازہ ترین دہشت گردانہ واقعات میں عراق کے شمال میں صوبہ صلاح الدین کے تکریت شہر میں کل ایک بم دھماکے میں ایک عراقی فوجی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ۔
دوسری طرف تکریت کے جنوبی علاقے میں بھی ایک بم دھماکے میں دوپولیس اہلکار زخمی ہوگئے ، اور تکریت کے مشرق میں ( الطوز خورماتو ) علاقے میں دودہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں اٹھارہ افراد ہلاک اور بتیس زخمی ہوگئے ۔
حقیقت یہ ہےکہ شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے علاقے میں اسلامی بیداری کے آغاز سے عراق میں بم دھماکوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں میں شدید اضافہ ہوگیا ہے ۔ خطے میں وابستہ حکومتوں کی تبدیلی یا خاتمہ سبب بناکہ بیرونی طاقتوں سے وابستہ سازشی عناصر کی پوزیشن خطرے میں پڑگئی ۔استقامت کے فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سےان لوگوں نے شام اور عراق میں بدامنی پھیلانے کی کاروائیوں کواپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے ۔اس سلسلے میں بڑی طاقتوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ پھٹھو حکام کوجن کی حکومتوں کی بنیادیں کمزور پڑ چکی ہیں ان دہشتگردانہ اقدامات پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے ۔ عراق میں بعض داخلی عناصر جن کی انتخابات میں کوئی آؤ بھگت نہیں ہوئی وہ اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے مغربی طاقتوں کے ساتھ ہوگئے ہیں ،قابل غور اور اہم نکتہ یہ ہےکہ یہ لوگ اپنے اہداف کے حصول کے ل‍ئے عراق کی سابق بعث حکومت کے بچےکھچے عناصر سے جاکر مل گئے ہیں اور دونوں ایک ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ان مسائل کے پیش نظر دہشت گردی کا مذموم عمل عراق کے مختلف شہروں اورعلاقوں میں پھیل گیا ۔ دہشت گردوں کو خود عراق کے داخلی دشمنوں ،علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مالی اور تسلیحاتی حمایت اور مدد ملنے گی ۔ عراق میں بم دھماکوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے نتیجے میں بہت سے ملکی اورغیرملکی زائرین اور شہری جاں بحق یا زخمی ہوچکے ہیں۔ حکومت عراق کی طرف سےملک میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں داخلی دہشت گردوں اور دشمن عناصر کے ملوث ہونے کے تعلق سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں متعدد ثبوت پیش کئے گئے ہیں جن میں عراق کے سابق نائب صدر طارق ہاشمی کی مداخلت کا ثبوت ہے جوسب سے زیادہ مضبوط اور معروف ہے ۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ عراق میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں طارق ہاشمی اور اس کے حا میوں کی مداخلت کے آشکار ہونے کے بعد بعض علاقائی ممالک اور بیرونی طاقتیں طارق ہاشمی کی کھل کرحمایت کرنے لگیں ۔
اس طرح کے ثبوت وشواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عراق سے دہشت گردی کے خاتمے کی سب سے بڑی اور بنیادی مشکل وہ خود خواہ اور بیرونی طاقتوں سے وابستہ داخلی عناصر ہیں جو قومی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں نیزعراق کی سابق اورظالم حکومت کے بچے کھچے افراد جو اقتدار سےمحروم ہوچکے ہیں اوربعض عرب حکومتیں جو اپنی بقا کو مغرب کی پیروی اور جی حضوری میں دیکھ رہے ہیں اور اسی طرح مغربی طاقتیں جو اسلامی بیداری کی لہر کو اپنے مفادات کے حق میں نہیں دیکھ رہی ہیں عراق سے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں اصلی اور بنیادی مشکلات ہیں۔

10:56 شام مارچ 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔