عراقی عوام اندرونی اور بیرونی دھشت گردوں کی زد میں

عراق میں گزشتہ سالوں کے دوران دہشت گردانہ کاروائیوں اور دھماکوں کے نتیجے میں پچاس لاکھ سے زیادہ عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے ہیں۔
عراق میں علاقائی اور بیرونی طاقتوں کی حمایت سے دہشت گردانہ کاروائیوں میں اضافے اور بڑھتے ہوئے دھماکوں نے اس ملک کے عوام کو ان طاقتوں کے مقابلہ میں لاکھڑا کردیا ہے ۔ عراق میں اتوار کے دن مغرب اور بعض عرب ممالک کی حمایت سے جاری دہشت گردانہ کاراوائیوں اور بم دھماکوں کے نتیجے میں بہت سے عراقی شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں ۔عراق کے شمالی شہر کرکوک میں اتوار کے دن بازار میں پولیس ہیڈ کواٹرس کے سامنے ایک کام بم دھماکہ ہوا نیز لوگوں کے درمیان دو خود کش حملے بھی ہوئے حس کے نتیجے میں 33 افراد جاں بحق اور 85 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائي جاتی ہے۔
آج سموار کو بغداد سے پچیس کلو میٹر دور واقع تاجی نامی ایک قصبہ مین ایک خود کش بمبار نے القاعدہ مخالف بیداری کونسل کے ارکان کو نشانہ بنایا جبکہ وہ ایک دفتر کے باہر اپنی تنخواہیں لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے ۔ اس دھماکہ میں مزید ۲۲ افراد ہلاک اور ۴۰ سے زیادہ زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
حالیہ مہینوں میں عراق میں بدامنی اور کشیدگی میں کافی اضافہ ہوگیا ہے ، عراق میں سعودی عرب ، قطر ، ترکی نیز بیرونی طاقتوں خاص طورپر امریکہ کی حمایت اور اشاروں پر دہشت گردانہ کاروائیوں اور بم دھماکوں اور حکومت مخالف احتجاج اور مظاہروں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ عراق میں بدامنی اور کشیدگی کی اصل وجہ اس ملک کے آئین اور لوگوں کی اکثریت پر توجہ کئےبغیر فرقہ وارانہ رجحانات اور قدرت کی تقسیم خواہی کا نتیجہ ہے ۔ عراق میں صدامی حکومت کے خاتمہ کے بعد اس ملک میں منجملہ آئین میں تبدیلی سمیت بہت سی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں تھیں ۔ عراق کے نئے سیاسی نظام کے تحت آبادی کے تناسب سے طاقت تقسیم کردی گئی ۔ آبادی کے تناسب کے مطابق شیعوں نے جن کی عراق میں اکثریت ہے حکومت تشکیل دی اور سنیوں کو عراق میں دوسرے اکثریتی گروہ کی حیثیت سے پارلمنٹ کی سربراہی مل گئی اورکردوں نے عراق میں تیسرے اکثریتی گروہ کی حیثیت سے ملک کی صدارت اختیار کرلی ۔لیکن اس مسئلے کے سامنے فہرست العراقیہ سمیت بعض عراقی گروہوں نیز سعودی عرب اور قطر نےسنیوں کےدفاع کا دعوی کرتے ہوئے منفی رد عمل کااظہار کیا۔ ادھر حکومت عراق نے بڑی جدو جہد کے ذریعہ دوہزار بارہ میں اپنے ملک سے امریکی فوجیوں کو نکالوایا اوردہشت گردانہ کاروائیوں میں نائب صدر طارق الہاشمی کے ملوث ہونے کی وجہ سے اسے گفتار کروانے کا حکم صادر کیا ۔ جس کے سبب سعودی عرب ،قطر ،ترکی اور امریکہ نے حکومت اور عوام کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی ۔
اس ہدف کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے عراق کے مختلف شہروں اور علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیاں اور بم دھماکے زیادہ ہونے لگے اور عوام کو حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے پر اکسا یا جارہا ہے ۔ دہشت گردانہ کاروائیاں اور بم دھماکے القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ذریعہ سعودی عرب ، قطر ،ترکی اورامریکہ کی مالی اور اسلحہ جاتی حمایت اور مدد سے انجام پارہے ہیں جس کے نتیجے میں عراقیوں کی ایک بڑی تعداد جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں ۔
دہشت گردانہ کاروائیوں اور دھماکوں کے نتیجے میں پچاس لاکھ سے زیادہ عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے ہیں ۔ نوری مالکی کے داخلی اور خارجی مخالفین جنھوں نے عراق کی بدامنی پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے بدامنی کےاس طرح کے واقعات کو نوری مالکی کی عدم صلایت کا بہانہ بناکر پیش کیاجو عراق کے صدر جلال طالبانی کی درایت کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکا ۔ جلال طالبانی کے برینڈہیمرج ہونے کے سبب وہ عراق کے سیاسی میدان سے عملی طور پر حذف ہوگئے اور حکومت عراق کے داخلی اور خارجی مخالفین نے ان کے عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نوری مالکی کے اوپر شدید دباؤ ڈالنا شروع کردیا ۔
جس کی بنیاد پر سنی نشین عراقی صوبوں منجملہ صوبہ الانبار کے رہنے والوں کوحکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کے سلسلے میں گمراہ کردیا گیا ۔ ا ہم مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں بدامنی اور کشیدگی میں خود عراقی شہری قربانی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، اور نوری مالکی کے مخالفین اپنے ہی شہریوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھاکر حکومت کو بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ نوری مالکی کے مخالفین نے ملک میں ایسے خطرناک موقع پر طاقت کے کھیل میں ہاتھ دیا ہے اور عراق کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے کہ جس نے معیشتی خاص طورپر عراق کی سلامتی اور اقتصادی صورت حال کو بد حالات سے دوچار کردیا ہے ۔
عراق نوری مالکی کی حکومت کے خلاف داخلی مخالفین اور ان کے علاقائی اور بیرونی حامیوں کی زور آزمائی کے میدان میں تبدیل ہوچکاہے ۔








