شہادت امام کاظم (ع) کے موقع پر: بغداد اور حلہ میں بم دھماکے، 57 سے زائد افراد شہید اور متعدد زخمی

13 جون, 2012 08:57

iraq blast imam musa kazim بغداد میں متعدد بم دھماکے ہوئے ہیں جبکہ حل میں بھی بم دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں/ بلد میں چار اور کربلائے معلی میں کار بم دھماکے میں بھی تین افراد شہید ہوگئے ہیں۔

ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج (بدھ 13 جون 2012 کو) حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے سلسلے میں منعقدہ مجالس اور جلسے جلوسوں کے پیش نظر اور آل سعود و آل ثانی کی مالی امداد کے نتیجے میں ہمسایہ عرب ریاستوں کے زیر سرپرستی دہشت گردوں نے عراق میں بم دھماکوں کا نیا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ بغداد میں کار بم دھماکوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے زائرین کے راستے میں بم دھماکے کے نتیجے میں 9 افراد جبکہ بغداد کے دیگر دھماکوں میں 9 مزید افراد شہید اور 37 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ جنوبی شہر حلہ میں بھی بم دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد شہید جبکہ 32 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

کربلائے معلی میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد جبکہ شہر بلد میں 3 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

بیشتر دھماکے کار بم دھماکے تھے۔

ایک رپورٹ میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ اکثر دھماکے زائرین کے راستے میں ہوئے ہیں اور آل سعود، امریکہ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر شیعیان عرا‍ق بالخصوص شیعہ زائریں کو نشانہ بنایا ہے۔
بغداد، کربلا، کاظمین اور حلہ کے علاوہ بابل، کوت، سماوہ اور کرکوک میں بھی دھماکے ہوئے ہیں لیکن جانی نقصانات کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہيں آسکی ہیں۔
عراقی پولیس حکام نے حلہ میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں کہا کہ دو کار بم دھماکے حلہ کے ایک ریسٹورنٹ کے سامنے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے۔ سومریہ کے علاقے میں بس ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا جہاں کم از کم 14 افراد زخمی ہوئے الکوت سے کاظمین کے لئے نکلنے والے زائرین کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد زخمی ہوئے اور شہید ہوئے۔ کرکوک میں بھی کار بم دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔
کل منگل کو بھی السماوہ شہر کے مرکز میں بھی دھماکہ خیز مواد کی حامل کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے لیکن اس واقعے کی تفصیلات بھی معلوم نہيں ہوسکی ہیں۔

شہداء کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ مزید بم دھماکوں کا بھی امکان ہے۔

3:18 صبح مارچ 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔