عراق ميں وسيع مارچ پاسٹ اور مظاہرے

27 مئی, 2011 09:18

Iraq_Flagعراقي دارالحکومت بغداد ميں لاکھوں عراقيوں نے مارچ پاسٹ اور عظيم الشان مظاہرہ کرکے معينہ مدت کے اندر اپنے ملک سے امريکي افواج کے انخلاء کا مطالبہ کيا- اسي کےساتھ مختلف عراقي رہنماؤں نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ بغداد واشنگٹن سيکورٹي معاہدے کي مدت نہيں بڑھائي جاسکتي کہا ہے کہ تمام امريکي فوجيوں کو رواں سال کے آخر تک عراق سے جانا ہوگا-
عراق ميں صدر جماعت کے لاکھوں حاميوں نے جمعرات کو دارالحکومت بغداد ميں مارچ پاسٹ اور پرامن مظاہرے کرکےاپنے ملک سے امريکي غاصبوں کے انخلا کا مطالبہ کيا –
العالم نے خبردي ہے کہ آج کي تقريبات ميں عراقي عوام کي انتہائي وسيع پيمانے پرشرکت، تمام عراقيوں کے دلوں کي ترجماني کررہي تھي جن کا مطالبہ ہے کہ مہلت ختم ہونے سے پہلے ہي امريکي غاصب فوجيں عراق سے نکل جائيں اور ان کي موجودگي مزيد ايک دن بھي برداشت نہيں کي جائے گي – ان تقريبات ميں عراق کي مختلف سياسي اور سرکاري شخصيتوں سميت عراقي پارليمنٹ کے ممبران کي ايک بڑي تعداد نے شرکت کي – صدر جماعت کے علاوہ عراق کي تمام ديگر سياسي جماعتوں نے بھي ہفتوں قبل سے عوام کو دعوت دے رکھي تھي کہ اپنے ملک ميں غاصبوں کي موجودگي کي مخالفت کا اعلان کرنے کے لئے جمعرات کے مظاہروں اور تقريبات ميں شرکت کريں –
دوسري طرف عراق کے نائب صدر طارق الہاشمي نے اعلان کيا ہے کہ بغداد– واشنگٹن کے مابين ہونےوالے معاہدے کے مطابق امريکہ کو مقررہ مدت ميں عراق سے نکلنا ہوگا – طارق الہاشمي نے عراق کے سياسي دھڑوں سے کہا کہ ملک سے امريکي فوج کے انخلا کے بارے ميں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف قومي مفاد کے بارے ميں ہي بحث کريں –
عراق کے ايک اور سينئر سياسي رہنما حسين شہرستاني نے بھي کہا کہ بغداد – واشنگٹن سيکورٹي معاہدے کي مدت ميں جواس سال کے آخر ميں ختم ہورہي ہے مزيد توسيع نہيں کي جاسکتي – حسين شہرستاني نے اپنے ايک بيان ميں کہا کہ مذکورہ معاہدے کي مدت سال رواں کے آخر ميں ختم ہوجائے گي اور اس معاہدے کي مدت بڑھائي بھي نہيں جاسکتي – بيان ميں کہا گيا ہے کہ عراق سے امريکي فوج کے انخلا کے بعد عراقي سيکورٹي فورسز اپنے ملک ميں سلامتي اور امن و امان قائم رکھنے کي پوري توانائي رکھتي ہيں –
عراقي وزيراعظم نوري مالکي بھي بارہا اس بات پر زور دے چکے ہيں کہ امريکي افواج کو معينہ مدت کے اندرہي عراق سے واپس جانا چاہئے – انہوں نے کہا ہے کہ عراق کي سيکورٹي فورسز ملک ميں سيکورٹي اور امن و امان کے قيام کي پوري صلاحيت رکھتي ہيں اور اس کے لئے تيار ہيں -انہوں نے کہا ہے کہ ہماري فوج اور سيکورٹي فورسز جديدترين ہتھياروں سے بھي ليس اور توانا ہيں –
يادرہے کہ بغداد -واشنگٹن سيکورٹي معاہدے کي رو سے سبھي امريکي فوجيوں کو اس سال کے آخر تک عراق سے نکل جانا ہوگ

9:27 صبح اپریل 10, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔