بحرین میں مظاہرین پرتشدد کا سلسلہ جاری،علماء و مراجعین اور اہم شخصیات کا اظہار مذمت

بحرین میں پرامن مظاہرین پرسعودی وہابی فوج کےوحشیانہ حملے کی مختلف شخصیتوں نےمذمت کی ہے۔رپورٹ کےمطابق عراق کےبزرگ مرجع تقلید آيت اللہ العظمی سیستانی نے بحرین کےنہتےمظاہرین پرتشدد کی مذمت کرتےہوئےبحرینی حکام سےمطالبہ کیاہے وہ مظاہرین پروحشیانہ تشدد کاسلسلہ بند کریں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ علی اکبرصالحی نےبحرین کی صورت حال اوربعض پڑوسی ممالک کی مداخلت پرتشویش ظاہرکرتےہوئےاقوام متحدہ کےجنرل سکریٹری بان کی مون، اسلامی کانفرنس تنظیم کےجنرل سکریٹری احسان اوغلو اورعرب لیگ کےجنرل سکریٹری عمروموسی کےنام الگ الگ خط روانہ کرکےبحرین کےامورمیں بعض پڑوسی ممالک کی مداخلت پرتشویش ظاہرکی ہے۔ علی اکبرصالحی نےاپنےخط میں بحرین میں بعض عرب ممالک کی جانب سےفوج بھیجےجانےکوعالمی قوانین کےخلاف قراردیتےہوئےکہاکہ یہ کیسےقبول کیاجاسکتاہےکہ کوئی حکومت اپنےہی شہریوں کوکچلنےکےلئےغیرملکی فوجیوں کوبلائے۔
علی اکبرصالحی نےبحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت پرعالمی برادری کےسکوت کوعالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی قراردیتےہوئےاسےعالمی تعلقات میں غلط بدعت سےتعبیرکیا۔








