

عراق کے وزیراعظم نوری مالکی نے کابینہ کی تشکیل کے لئے عراق کے سیاسی گروپوں کے ساتھ زیادہ سنجیدگی سے مذاکرات انجام دئے ہیں۔بعض خبری ذرائع نے بغداد میں قومی اتحاد ، کردستان اتحاد اور العراقیہ اتحاد کے مابین بھی اہم اجلاس کی خبر دی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ بغداد میں ہونےوالے سہ جانبہ اجلاس میں مختلف وزارتوں کے بارے میں عراق کے سیاسی گروپوں کے مطالبوں پر غوروخوض کیا گيا۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ قومی اتحاد کے ایک رہنما حسن السنید نے تاکید کی ہے کہ ان کا اتحاد وزارت تیل و منصوبہ بندی سمیت بیس وزارتیں چاہتا ہے۔العراقیہ بھی بعض اہم عہدوں کا خواہش مند ہے اور ثبوت و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ العراقیہ اتحاد نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ناجائز حربے بھی استعمال کئے ہیں۔ادھر قومی
اتحاد کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ نوری مالکی نے العراقیہ اتحاد کے ناجائز حربوں سے مقابلے کے لئے کابینی ارکان کی ایک متبادل فہرست تیار کی ہے تاکہ اگر موجودہ فہرست کے بارے میں ، جس پر بات چیت چل رہی ہے ، سیاسی گروپوں کے مابین اتفاق نہ ہوسکا تو متبادل فہرست پارلیمنٹ میں پیش کی جاسکے۔نوری مالکی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ پندرہ دسمبر سے پہلے کابینی ارکان کی فہرست کو حتمی شکل دے کر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کردیں گے۔قومی اتحاد کے بعض رہنماؤں نے کہا ہے کہ نئی کابینہ میں بھی وزارت خارجہ کردستان اتحاد کے پاس رہے گی اور امکان ہے کہ ہوشیار زیباری ہی ایک بار پھر وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالیں گے۔مجلس اعلی کے حصہ کے بارے میں نوری مالکی نے مجلس اعلی کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ خدمات کی دو وزارتیں اور ایک حکومت کے مشیر کا عہدہ لے لیں یا پھر وزارت خزانہ جیسی کوئي ایک اہم وزارت لے لیں۔عراقی وزیر اعظم نے العراقیہ اتحاد سے بھی کہا ہے کہ وہ وزارت دفاع کے لئے ایک ایسے شخص کا نام پیش کرے جس کا تعلق کسی پارٹی سے نہ ہو۔العراقیہ اتحاد کے سربراہ ایاد علاوی کی حیلہ بازی سے قطع نظر اس وقت عراق کے مختلف سیاسی گروپوں کے درمیان حتی نوری مالکی کے ساتھ العراقیہ اتحاد کے بعض رہنماؤں کا اچھا تعاون اور ہم آہنگي پائي جاتی ہے۔سیاسی حلقے اس امر کو نوری مالکی کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔دریں اثنا نوری مالکی نے کہا ہے کہ وہ اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ عراق کی نئی حکومت ملک کی مختلف اقوام ، قبائل اور تمام سیاسی گروپوں کے اتحاد کی علامت ہو۔