ممنوعہ بعث پارٹی کے صفائے پرتاکید

28 ستمبر, 2010 12:45

iraqعراق کی سابق خونخوار بعث پارٹی نے اپنی بقا کے لئے ایک بارپھر ہاتھ پیر مارنا شروع کردیا ہے۔ یادرہے عراق سابق بعث پارٹی کی بیخ کنی کردی گئي ہے لیکن اب بھی اس کے کچھ بچے کھچے عناصر موجود ہیں جن میں ایک یونس احمد ہے جس نے اپنے بعثی دھڑے کو فعال کررکھاہے۔ یونس احمد کی بعث پارٹی نے حال میں ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس میں بقول ان کے عراق کو آزاد کرانے کے بعد ایک عبوری حکومت برسرکار آئےگی اور دوبارہ ملک کا آئين لکھا جائے گا نیز بین الاقوامی برادری کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائيں گے۔ اس منصوبے میں عراق کی عرب اور اسلامی جڑوں پرتاکید کی گئي ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک مردہ پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے کی سعی رائیگان ہے۔ بعث پارٹی سابق ظالم ڈکٹیٹر صدام کے زمانے میں حکمران پارٹی تھی جس نے ملک کی اکثریت کو کچلنے کے لئے کوئي کسر نہیں چھوڑی تھی۔ صدام کے خاتمے کےبعد اسکی یہ پارٹی بھی ختم  ہوگئي اور اب عراق میں بعث پارٹی کو ممنوع قراردے دیا گيا ہے۔ بلکہ عراق میں بعث پارٹی دشنام بن چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق بعث پارٹی کے بچے کچھے عناصر کو امریکہ اور بعض عرب ملکوں کی حمایت حاصل ہے اور اپنے ان ہی محسنوں کی حمایت سے یہ پارٹی دوبارہ سراٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔ صوبہ بعقوبہ کی انتظامیہ کے سابق رکن سبحی قدوری نے کہا ہے کہ سابق بعث پارٹی نے اس صوبے میں نام بدل کر اظہار وجود کیا ہے۔ اس پارٹی نے اپنا نام العودہ رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہےکہ بعث پارٹی کے عناصر ہزار حیلوں سے حکومتی اداروں میں گھس گئےہیں جبکہ سکیورٹی ذاریع کا کہنا ہےکہ بہت سے سابق بعثیوں نے برائت نامے پردستخط کرکے سکیورٹی اداروں میں بھی دراندازی کی ہے اور اب یہ ملک کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ اسی بات پر پارلمنٹ کے بعض اراکین خبر دار کرتےہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ اس پارٹی سے سختی سے نمٹا جائے اور اس کا صفایا کیا جائے۔ قراین سے پتہ چلتا ہےکہ ممنوعہ بعث پارٹی خاص طورسے احمد یونس کی پارٹی گذشتہ مہینوں سے فعال ہوچکی ہے اور اس نے مختلف علاقوں پردہشتگردانہ کاروئياں انجام دی ہیں۔ احمد یونس نے مغربی اور شمالی علاقوں میں اسلامی انقلا ب کے مخالف دہشت گروہ ایم کے او سے بھی قریبی تعلقات قائم کرلئےہیں۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہےکہ عراق میں سیاسی خلاء کی بناپر بعث پارٹی کوسراٹھانے کا موقع ملا ہے ۔ اس وقت ممنوعہ بعث پارٹی عراق کے مختلف علاقوں میں دہشتگردانہ کاروائياں کرکے عراق کے سیاسی عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایسے حالات میں عراقی حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہوشیاری سے ممنوعہ بعث پارٹی سے مقابلہ کرے ۔ بلاشبہ عراق کے داخلی مخالف دھڑوں کی سازشوں کو نظرانداز کرنے سے ملک کو شدید خطرے لاحق ہوجائيں گے اسی وجہ سے سیاسی شخصیتوں نے پرزور مطالبہ کیا ہےکہ ممنوعہ بعث پارٹی کے ہراقدام کا شدت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے ۔ عراقی شخصیتوں نے بعث پارٹی کے صفائے کی کمیٹی سے مطالبہ کیا ہےکہ سرکاری اداروں سےاس پارٹی کے عناصر سے پاک وصاف کیا جائے تاکہ ملک کو مستقبل میں کوئي خطرہ لاحق نہ ہو۔

9:04 صبح اپریل 8, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔