ایران

حضرت امام خمینی ؒ کی پچیسویں برسی کے موقع پر رہبر انقلاب امام خامنہ ای کے خطاب کا مکمل اردو ترجمہ

rehbar ali khamnaiبسم اللّٰہ الرّحمن الرّحیم
الحمدللہِ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا محمّد و آلہ الطّاھرین سیّما بقیّۃاللہ فی الارضین.
رَبَّنا اغفِر لَنا وَ لِاِخوانِنَا الَّذینَ سَبَقونا بِالایمانِ وَ لا تَجعَل فی قْلوبِنا غِلًّا لِلَّذینَ آمنوا رَبَّنآ اِنَّکَ رؤوف ٌ رَحیم، ۔ رَبَّنآ اِنَّکَ آتَیتَ فِرعَونَ وَ مَلائہ زینَۃً وَ اَموَلًا… رَبَّنا لِیْضِلّوا عَن سَبیلِکَ رَبَّنا اطمِس عَلیٰ اَموَلِھِم وَ اشدْد عَلیٰ قْلوبِھِم فَلا یْؤمِنوا حَتیٰ یَرَوْا العَذابَ الاَلیمَ.
قال اللّٰہ الحکیم فی کتابہ: اَ لَم تَرَ کَیفَ ضَرَبَ اللّٰہ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصلھا ثابِت وَ فَرعھا فِی السَّمآء۔ تْؤتی اْکْلھا کْلَّ حینٍ بِاِذنِ رِبِّھا.

آج کے اِس یاد گار دن کی مناسبت سے میں اپنے عرائض کو تین حصوں میں پیش کروں گا۔پہلے حصے میں جمہوری اسلامی کے بارے میں ایک بہت ہی اہم نوعیت کی حقیقت موجود ہے کہ جس کی جانب توجہ ہمارے لئے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔دوسرے حصے میں ہم حضرت امام خمینی ؒکے عظیم اور یادگار مکتب کی اہم خصوصیات کو آپ کے سامنے پیش کریں گے ۔اگر چہ حضرت امام خمینی ؒ کے مکتب کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے ، ہم نے بھی بہت سی باتیں کہیں اور سنی ہیںلیکن یہاں موجودہ صورتحال میں اِس مکتب کی خصوصیات کا تذکرہ اور اُس کی جانب توجہ ہمارے لئے لازمی و ضروری ہے ۔ ہم گفتگو کے اِس حصے میںمکتب ِامام خمینی ؒ کے بے نظیر اُصولوں کا اجمالی جائزہ لیں گے کہ جسے اُنہوں نے دنیائے عصر میں بشریت کے سامنے پیش کیا ۔گفتگو کا تیسرا حصہ اُن دو رکاوٹوںکے بارے میں ہے جو ہمارے اسلامی نظام اور ہماری قوم کی راہ میں موجود ہیں!اِن دو مشکلات و چیلنجوں کی جانب توجہ درحقیقت ہمارے اپنے مقصد کی جانب سفر کرنے اوراِس راہ میںصحیح طور پر قدم اُٹھانے کیلئے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔
پہلاحصہ ؛اسلامی جمہوریہ کی حقیقت !
عالمی سطح پر اسلامی انقلاب کی حقیقت کو پانے اور درک کرنے کی لہر میں رو ز برو ز اضافہ ہوتا جا رہا ہے!
پہلے حصے میںمیںنے جس حقیقت کا تذکرہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ امام خمینی ؒ کی رحلت ۲۵ سال ہو رہے ہیں لیکن اب بھی اُن کے بارے میں سننے کا شوق و اشتیاق نہ صرف یہ کہ پہلے سے زیادہ ہوتا جارہا ہے بلکہ روز بروز اِس کی شدت میں اضافہ بھی ہورہا ہے ۔یہ شوق و اشتیاق اوراِس حقیقت کی جانب توجہ صرف ہمارے ملک سے ہی مربوط نہیں ہے بلکہ یہ دنیائے اسلام بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر پوری دنیا میں موجود ہے۔یہ صرف ہم سے ہی متعلق نہیں ہے کہ جب ہمارے ملک میںاسلامی انقلاب کی تیسر ی نسل پروان چڑھ رہی ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ اِس انٹر نیت اور عصر ارتباطات میںکہ اپنے ماحول ومعاشرے سے آگے بڑھ کر دنیا کے دوسرے علاقوں اور معاشروں سے رابطہ برقرار کرنے والے اُمت ِ مسلمہ کے جوانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اسلامی انقلاب اوراسلامی جمہوریہ سے مربو ط مسائل اور معمار ِانقلاب کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔دینی سائے میںعوامی جمہوریت و حکمرانی اورولایت ِ فقیہ جیسے مسائل کے بارے میں غور وفکرآج کی امت ِ مسلمہ کے فکری مسائل میں قابل اہمیت و جاذبہ ہیں۔
دشمن کی احمقانہ کوششوں نے دنیا کو ہماری حقیقت کی جانب متوجہ کیا ہے !
ہمارے دشمنوں نے اسلامی انقلاب کے روزِ اول سے ہمارے خلاف بڑے پیمانے پر اپنی سازشوں کا آغا ز کر دیا تھااور جتنا جتنا ہم آگے بڑھتے رہے یہ سازشیں اور بھی زیادہ ہوتی رہیں۔اُنہوں نے آ ج ہزاروں لاکھوں ٹی وی چینلوں ،ریڈیو اسٹیشنوں اور انٹر نیٹ کی ویب سائٹس کا سہارالے کر ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا تاکہ اسلامی جمہوری ،امام خمینی ؒ اور اُن کے حامیوں کو برا کہا جائے ۔اُن کی اِس حرکت نے ہماری بہت مدد کی ہے یعنی اُن کی اِسی بات نے دنیا میں اُن کی باتوں کوسننے والوں اور اُن کے مخاطب افراد کو تجسس اور کھوج لگانے پر شوق دلایاہے اوروہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اِس سنگ باری،کیچڑ اُچھالنے اور برا کہنے کی آخرکیاوجہ ہے اور وہ حقیقت جسے آج دنیا کی استکباری طاقتوں نے اپنے حملو ں کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے اُس کی کیا اصلیت وماہیت ہے؟!یہی وجہ ہے کہ ہمارے دشمن نے دشمنی اور خصومت کی وجہ سے ہمارا نام لیا اور امام خمینیؒ اور ہمارے نظام اسلامی کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔لیکن وہ جان لیں یہ قرآنی حقیقت ہے جسے خدا وند عالم نے (سورہ طارق آیت ۱۵۔۱۶میں)بیان کیا ہے:’’اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْداً وَّ اَکِیْدُ کَیْداً‘‘’’وہ اپنی جانب سے چالیں چل رہے ہیں اور میں اپنے مکر سے کام لے رہا ہوں!‘‘
اسلامی بیداری رکنے والی نہیں ہے ،یہ اب مزید آگے ہی بڑھے گی!
یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اِس نیت اور مغرضانہ اندازمیں ہمارے خلاف وسیع پیمانے پرکام کا آغاز کیا۔اُن کی اِس احمقانہ حرکت کی وجہ سے ہمیں ایک فرصت وموقع ملا کیونکہ اُن کی اِن باتو ں کو سننے والوں کی حس تجسس میں اضافہ ہوا۔اسلامی ممالک سمیت ہمارے خطے میں اسلامی بیداری کی لہر دوڑی کہ جس پر عالمی استکبار سے متعلق نفرت غلبہ رکھتی تھی،یہ بھی دوسرے واقعات کی طرح اُس حس تجسس،جواب سننے اور جواب پانے کی علامت ہے اور یہ ابھی بھی جاری و ساری ہے ۔ممکن ہے کہ مغربی اور امریکی جاسوسی ایجنسیاں اپنے افسران بالا کو یہ رپورٹ دیں کہ ہم نے اِس خطے میں اسلامی بیداری کو سرکوب کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں!اگر ایسا ہے تو یہ بھی اُن کے نا پختہ طریقہ کار اورغلط تجزیہ کرنے کی مانند ایک اور سنگین غلطی محسوب کی جائے گی۔ممکن ہے کہ اسلامی بیداری دنیائے اسلام کے کسی حصے میں وقتی طور پر سر کوب کر دی جائے لیکن اِس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہے اُس کی جڑیں کبھی خشک نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ مزید آگے بڑھے گی!
اسلامی جمہوریہ کے خلاف عالمی استکبار کے متحدہ محاذ کی ناکام کوششیں
اسلامی ممالک میں پائے جانے والایہ احساس،حق و حقیقت کو دریافت کرنے کا عزم اوراُس کا ادراک کوئی ایسی چیز نہیں کہ جسے اتنی آسان سے دبایا جا سکے۔وہ اپنی کوششیں کر رہے ہیں او رممکن ہے کہ اُن کی کوششوں کی وجہ سے امت ِ مسلمہ میں کہیں کچھ دیر کیلئے وہ اسلامی بیداری کو روکنے یا اُسے سر کوب کرنے میں بظاہر کامیاب ہو جائیںلیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ ابتر ہیں اور اُن کے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔آج پوری دنیا میں خصوصاً دنیائے اسلام میں وجود میں آنے والی تجسس اور کھوج لگانے اورحقیقت کو پانے کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ اسلامی اپنی ابتدا سے لے کر اِن گزشتہ ۳۵ برسو ں سے دنیا پر مسلط بڑی طاقتوں کی دشمنی اور تند و تیز خصمانہ سلوک کا سامنا کرتی رہی ہے ۔عسکری مداخلت ، میڈیا کے پروپیگنڈے،اقتصادی خصومت اوراسلامی انقلاب کے آغاز سے اب تک روز بروز اقتصادی محاصروں کی شدت میں اضافہ ہی ہواورساتھ ہی ہم پرسیاسی دباؤ ڈالا گیا۔
یہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف مغرب کا ایک متحد ہ اور طاقتور محاذ تھاجس نے گزشتہ ۳۵ برسو ں میں وہ سب انجام دیا جو وہ کر سکتا تھا۔فوجی حملے کیے،ہم پر فوجی حملہ کرنے والوں کی امداد کی ،دنیا کے کونے کونے میں اسلامی جمہوریہ کے دشمنو ں کی حمایت کی ،وسیع پیمانے پر زہریلاپروپیگنڈا کیا اور میڈیا نے زہر اُگلا،اعلیٰ پیمانے پر اقتصادی محاصرے کیے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔لیکن اسلامی جمہوریہ اِن سب شدید اورسخت ترین حملوں کے جواب میں نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوا بلکہ مغرب کو بھتہ بھی نہیں دیتااوردن بہ دن ترقی کرتا چلا گیا۔یہ وہ چیز ہے جو اِس عالمی برادری کے تجسس کو بڑھاتی چلی جاتی ہے ۔دنیا کی ایک نمبر کی اقتصادی،سیاسی اورعسکری طاقتیںہاتھوں میں ہاتھ دیں اور ایک ملک اورملت کے خلاف اپنی تما م تر دشمنی کو بروئے کار لائیں اور وہ ملک وقوم اُن کی تمام تر کوششوں کے باوجود نہ صرف یہ کہ ختم نہ ہو بلکہ روز بروز ترقی کرتا چلاجائے اوراِس کے ساتھ اُنہیں بھتہ نہ دے اور اُنہیں کسی خاطر میں نہ لائے ۔ اسلامی جمہو ریہ نے مختلف حالا ت میں مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں اور اپنی بقا کیلئے اِن تمام کاموں کوانجام دیا ۔
اسلامی جمہوریہ کی ترقی کی چند مثالیں!
علمی میدان
آج جب وہ اسلامی جمہوریہ پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آج یہاں یونیورسٹی کے کئی ملین طلبہ و طالبات،علوم دینی کے کئی ہزار فاضل علماء و عالمات، کئی ہزار محقق او ر ریسرچرز،اسلامی مدارس اور جامعات کے کئی ہزار استاد و پروفیسر حضرات ،ہزاروں تعلیم یافتہ ذہین ترین افراد کہ جن میں سے کئی بین الاقوامی سطح پر شہرت کے حامل ہیں،اِس کے علاوہ ہزاروں سیاسی فعال افراد، تجزیہ کاراوراقتصادی وثقافتی میدان سے وابستہ افراد آج ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ۔یہ ہے ہمارا معاشرہ ہے !
ٹیکنالوجی کا میدان
علمی میدان میں بھی اسلامی جمہوریہ دشمن کی تمام تراقتصاد ی پابندیوں کے باوجود فضا میںاپنا سٹلایئٹ بھیجتا ہے ، ایک زندہ جانور اُس میں بھیجتا ہے اور وہ زندہ واپس لوٹ کر آتا ہے ،ایٹمی انرجی بناتاہے اورعلمی دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کر کے دنیا کی پہلے دس نمبر پر آنے والے ممالک میںشامل ہو جاتا ہے !علمی مراکز کی جانب سے علمی میدان میں اسلامی جمہوریہ کی رفتاردنیا کی متوسط رفتار کے ۱۳ گنا زیادہ اعلان کی گئی ہے ۔اِس کے علاوہ وہ دنیا کو علمی اور فنی خدمات پیش کرتا ہے اوربے سابقہ اقتصادی بائیکاٹ کے باوجود ساڑھے سات کروڑ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے سر گرم عمل ہے !
سیاسی میدان
خطے کی سیاست میں اِس کا مقام پہلے نمبر پر ہے ،غاصب صہیونی حکومت سمیت دنیا کے تمام ظالموں کے سامنے تن تنہا ڈٹ جاتا ہے ،ظالم کی حمایت نہیں کرتا اور مظلوم کا دفاع کرتا ہے ۔یہ وہ نکات ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک عاقل وتجسس گر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کیسا نظام ہے کہ دشمن کی اتنی دشمنی کے باوجو دیہ کیسے باقی ہے ؟!یہ وہ چیز ہے جو لوگوں کی تجسس کر اُبھاررہی ہے ۔
دین کے سائے میں عوامی حکمرانی کی اعلیٰ تریں مثال
سیاسی ،عسکری ،علمی ،ثقافتی میدانوں میں دین کے سائے میں عوام کی حکمرانی کا جلوہ بھی ایک ایسا عنصر ہے جو سب سے زیادہ نمایاں ہے کہ اِن ۳۵ برسوں میں ہم نے ۳۲ انتخابات برپا کیے ہیں!کیا یہ کوئی عام بات اور شوخی ہے کہ یہاں کے انتخابات میں ووٹوں کی شرح دنیا کے اکثر ممالک کی متوسط شرح سے بہت زیادہ بلکہ بہت زیادہ ہے۔ ہمارے انتخابات میں عوامی شرکت کی شرح ۷۰ فیصد اور ۷۲ فیصد ہے ۔یہ ہے دین کے سائے میں عوامی حکمرانی اور عوامی حکومت کی زندہ مثال!
اسلامی انقلاب کی سالگرہ اور یوم القدس کے عالمی شہرت یافتہ اجتماعات
اِس کے علاوہ دواور چیزیں بھی موجود ہیں کہ جن کی ہمیں اب تو عادت ہو گئی ہے لیکن وہ ایک عالمی مبصر کیلئے بہت جذاب ہیں اور وہ۱۱؍فروری کو اسلامی انقلاب اورماہ رمضان میں یوم القدس کے ملک گیر اجتماعات اور عظیم الشان مظاہرے ہیں۔اسلامی انقلاب کی ابتدا سے لے کر آج تک ہماری عوام نے ہر سال ملینوں کی تعداد میں سخت برفانی موسم میں اسلامی انقلاب کا جشن منایا ہے ۔ہمیں تواِ ن چیزوں کو دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے اوراِس با ت کی اہمیت و عظمت کا بھی ہمیں اندازہ نہیں ہے لیکن جب ایک عالمی مبصر اور تجزیہ کار یہ مناظر دیکھتا ہے تویہ سب اُس کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں۔یہ سب اُن جذابیت کے عوامل ہیں جو عالمی برادری کو اِس کے تجسس پر اُبھارتے ہیں۔یہ ہے ہمارا اسلامی نظام کہ جو اہل تحقیق اور اہل فکر کیلئے نئی راہیں کھولتا ہے ۔یہ ہمارے زمانے کی اہم ترین حقیقت ہے کہ جو دنیا کے جوانوں،روشن فکروں،آگاہ انسانوں اورمسائل کو سمجھنے والے افراد کو اِس نظام کے بارے میں تحقیق کرنے پر مجبور کررہی ہے ۔آج جمہوری اسلامی کانام موجود ہے اور وہ روز بروز ترقی کی منازل طے کر رہاہے۔
دوسرا حصہ؛ مکتب ِ امام خمینی ؒ کی خصوصیات
یہ حقیقت‘ اسلامی انقلاب کے معمار و بانی کے اپنے ہاتھوں کی تیار کر دہ ہے ۔ہم نے امام خمینی ؒ کے بارے میں بہت سی باتیں کی ہیں یہاں تک کہ کچھ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ ہم اُن کے بارے میں قلابے ملا رہے اور مبالغہ سے کا م لے رہے ہیں۔نہیں جناب! جو کچھ ہم نے امام خمینی ؒ کے بارے میں کہا ہے وہ نہ اِغراق ہے اور نہ مبالغہ بلکہ یہ اُن کی ہمہ جہت شخصیت کی حقیقت کا ایک صرف پہلو اور حصہ ہے ۔جو کچھ ہم نے امام خمینی ؒ کے بارے میں کہا ہے وہ اِن باتو ں سے زیادہ آگے ،اُونچے اور بلند تھے۔
۱۔امام خمینی ؒ کا دیا ہو ا نقشہ و نسخہ خدا کی جانب سے تائید شدہ تھا!
آج جو کچھ بھی ہماری قوم یا اقوام عالم کی نگاہو ں کے سامنے موجود ہے وہ اُس عظیم شخصیت کے توانا ہاتھوں کا تیار کردہ نسخہ اوراُس کی زحمتوں کانتیجہ ہے ۔ہم صحیح راہ پر چلنے کیلئے محتاج ہیں کہ معمار کے بتائے ہوئے نقشے کے مطابق عمل کریں۔ ایک معمولی سی عمارت کی تعمیر میں اُس کا نقشہ اگر ہاتھ میں نہ ہوتو کتنے ہی ماہر معمارکیوںنہ موجود ہوں اور وہ ایک دوسر ے کا ساتھ بھی دیں تب بھی وہ غلطی کے مرتکب ہوں گے ۔اِس بنا پر ضروری ہے کہ ہم اصلی نقشے کو جانیں تا کہ اُس کے مطابق اگر تعمیر میں کوئی ہنر ہے تو اُسے بروئے کا ر لایا جائے ۔امام خمینی ؒ کا دیا ہو ا نقشہ کوئی ایسا نقشہ نہیں تھا جو کسی ایک انسا ن کا دیا ہوا ہوتا ہے بلکہ وہ یقینا اللہ کی طرف سے تائید شدہ تھا۔خو د امام خمینی ؒ بھی اِس بات کو جانتے تھے او ر معترف تھے۔وہ خود فرماتے تھے کہ یہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا کے دست ِ غیبی سے وجود میں آیاہے ،اُنہوں نے صحیح سمجھا تھا اور اُن کی چشم بصیر اور بینائی نے بالکل صحیح دیکھا تھا۔
۲۔منزل تک رسائی کیلئے ضروری ہے کہ امام خمینی ؒ کے نقشے کوسامنے رکھا اور اُس کے مطابق عمل کیا جائے!
ہمیں ہوشیار اورچوکنا رہنے کی ضرورت ہے اورہمیں چاہیے کہ ہم اُس نقشے کو پہچانیں تا کہ صحیح راہ میں حرکت کر سکیں۔اگر ہم نے اُ س اصلی نقشے کو نہیں پہچاناہم پہلے پہل تواصل راستے سے ذرہ برابر اور ایک معمولی سے زاویے کے برابر ہٹ جائیں گے اور جتنا جتنا آگے بڑھتے جائیںگے یہ انحرافی زاویہ بڑھتا چلا جائے گااورہم صراط مستقیم اور اصلی راہ سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔ یا د رکھیں کہ ہم اگر صراط مستقیم سے دور ہوں گے تو اِس کا مطلب ہے کہ اپنی منزل اور ہدف سے دور ہو جائیںگے ۔اگر ہم ہدف تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ راہ کو گم نہ ہونے دیں اور اگر چاہتے ہیں کہ راہ ہمارے سامنے موجود رہے تو ہمیں چاہیے کہ اصلی نقشے کو سامنے رکھیں ، اُسے سمجھیں اور اُس کے مطابق حرکت کریں۔
۳۔امام خمینی ؒ کا بنیادی کارنامہ ؛اسلامی عقلانیت کے سائے میں مدنی اور سیاسی نظم کی تشکیل!
امام خمینی ؒکا اصل کام اور نقشہ یہ تھا کہ وہ اسلامی عقلانیت کی اساس پر ایک مدنی اورسیاسی نظم کو تشکیل دیں۔اِس کام کیلئے لازمی تھا کہ وہ اِس فاسد،غیر ملکی طاقتوں سے وابستہ اورآمرانہ نظام شہنشائیت کو جڑوں سے اُکھاڑ دیں۔اُس نظام شہنشاہی میں یہ تینوں خصوصیات موجود تھیں؛وہ ایک فاسد او ر کرپٹ نظام تھا جس میں مالی بد عنوانیاں اور اخلاقی برائیاں اپنے عروج پر تھیں،دوسرایہ کہ وہ استکباری طاقتوں سے وابستہ اور اُن کے رحم وکرم پر تھا ۔ایک وقت برطانیہ سے جا ملتاتو ایک وقت امریکہ سے اور اِس بات کیلئے تیار تھا کہ وہ اپنے ملک اور منافع کو اغیار کے مفادات کے سامنے فراموش کردے اور تیسرایہ کہ وہ ایک آمرانہ اور ڈکٹیٹر نظام تھا کہ جس میں لوگوں کی رائے اور ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔وہ اپنے عظیم مقصد کے حصو ل کیلئے اِس کرپٹ نظام کو جڑوں سے اُکھیڑنا چاہتے تھے ۔ہمارے ملک میں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایک بادشاہی نظام جائے اور اُس کی جگہ ایک اور بادشاہی نظام یا ایسا ہی کوئی اور نظا م آجائے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ بادشاہی نظام جن خصوصیات کا حامل تھا اُنہیں ختم ہونا چاہیے اور امام خمینی ؒ نے بعینہٖ یہی کام انجام دیا۔امام خمینیؒ کی تمام گفتگو،فرمودات اور آپ کا طرزِعمل سب اِسی جہت میں تھا۔
۴۔مدنی اور سیاسی نظم کے طریقہ کارکے دو بنیادی اُصول !
اُس مدنی اور سیاسی نظم کو وجود میں لانے کیلئے دو اساسی اور بنیادی نکات کی جانب توجہ ضروری ہے ،یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیںاور ساتھ ساتھ ہیں۔
۱۔ایک عوامی حکمرانی اور انتخابات کے ذریعے ملکی باگ دوڑ عوام کے سپرد کرناہے ۔
۲۔ دوسرا نکتہ اسلامی تعلیمات سے سرچشمہ لینے والی اِس حرکت کے اسلامی شریعت کے دائرے میںہونے سے عبارت ہے۔یعنی ہر وہ چیزجوعوامی حکمرانی اور عوام کے سپرد کرنے سے متعلق ہے اُن سب کو اسلامی دائرے میں ہونا چاہیے۔یہ ایک حقیقت کے دو پہلو ہیں۔
شریعت کی حکمرانی تمام اُمور پر حاوی رہنی چاہیے!
افراد یہ گمان نہ کریں کہ امام خمینی ؒ نے انتخابات کو مغربی ثقافت سے لیا ہے اور اُسے اسلامی فکر اور شریعت سے ملا دیا ہے !ہر گز نہیں جناب۔اگر انتخابات ،عوامی حکمرانی اور عوامی رائے دین کا حصہ نہ ہوتی اور شریعت سے متصادم کوئی چیز ہوتی تو امام خمینی ؒاُس سے ہر گز استفادہ نہیں کرتے ۔امام خمینیؒ صاف صاف او رواضح طور پر چیزوں کو بیان کرنے والے انسان تھے کہ کیا دین کا حصہ ہے اور کیا دین میں شامل نہیں ہے۔لہٰذا اسلامی شریعت وہ دائرہ ہے کہ جس میں سارے کام انجام پانے چاہییں۔چنانچہ اِس مدنی اور سیاسی نظم کے تمام قوانین کو مرتب کرنے ،نصب و عزل کرنے کے ساتھ ساتھ تما م عام نوعیت کے کام اور فیصلے جات‘ اسلامی شریعت کے تابع ہوں۔اِس نظام میں تمام کاموں کی گردش عوامی حکمرانی کے وسیلے سے ہے یعنی عوام اپنے ووٹوں سے ممبران اسمبلی اور صدر مملکت کا انتخاب کرتے ہیں،تمام وزیروں کا ممبران اسمبلی کے ذریعے چناؤ کرتے ہیں،خبرگان کا انتخاب کرتے ہیں اور رہبر کا ایک واسطے سے انتخاب کرتے ہیں۔تمام کام عوام کے ہاتھوں میں ہے اور یہ امام خمینی ؒکے کاموں کی بنیاد یہی ہے ۔
شریعت کی حقیقی پابندی معاشرے کی خوشیوں اور ترقی کی ضامن ہے!
امام خمینی ؒ کا یہ نظام اِن دو بنیادوں پر قائم ہے ۔شریعت کی پابندی اِس اسلامی نظام کی روح اورحقیقت سے عبارت ہے ۔اگر اسلامی شریعت ہمارے معاشرے میں مکمل طور پر نافذ ہو جائے تویہ نہ صرف عمومی اور مدنی آزادی بھی یعنی انفرادی آزاد ی کی بھی ضامن ہوگی اوراِس کے ساتھ ساتھ قومی آزاد ی کی بھی ضمانت دے گی جسے خودمختار ی اور استقلال کہا جاتا ہے ۔استقلال و خود مختاری کا مطلب یہ ہے کہ ایک قوم کے تمام پہلوؤں میںآزادی کی مالک ہو یعنی وہ کسی سے وابستہ نہ ہو۔ایک آزاد قوم کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے دشمنوں اور مخالفوں کے زیر اثر اور تحت تسلط نہ آنے دے ۔اگر اسلامی شریعت صحیح معنیٰ میں نافذ ہو جائے تو نہ صرف یہ کہ عدل وانصاف معاشر ے میں قائم ہو جائے گا بلکہ معنویت بھی جلوہ دکھائی گی۔یہ ہمارے اسلامی انقلاب کے چار بنیادی ارکان ہیں؛استقلال، آزادی ،عدل و انصاف اور معنویت وروحانیت!اگر شریعت ہمارے معاشرے میں نافذ ہو جائے تو یہ چارو ں ارکان ‘اسلامی معاشرے کے نظم میں اپنی تمام حقیقت کے ساتھ ظاہر ہوں گے ۔یہی وجہ ہے کہ امام خمینی ؒ نے اسلامی شریعت پر جو ہمارے اسلامی نظام کی حقیقی روح ہے ،بہت زیادہ تکیہ کیا ہے اوردین کے سائے میں عوامی جمہوری حکومت کوہی جو ایک وسیلہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی شریعت سے بھی اخذ شدہ ہے ، تمام کاموں کی بنیاد قرار دیا ہے !
۵۔ عوامی انتخاب سے حاصل ہونے والا اقتدار قابل احترام ہے اور اِس کے مد مقابل آنا فتنہ انگیزی ہے!
امام خمینی ؒ کے سیاسی او ر الٰہی مکتب میں ایسی کوئی چیز قابل قبول نہیں جو چور راستے ،دھوکے یا زور زبردستی کے طریقوں سے تھونپی جائے ۔اسلامی نظام میں قہر و غلبہ کوکوئی حقیقت حاصل نہیں لیکن عوام کے اختیار و انتخاب کے نتیجے میں سامنے آنے والے اقتدار کو اہمیت حاصل ہے ۔ایسااقتدار،تسلط اور حکومت جو زور زبردستی اور اسلحے کے زور پر حاصل کی جائے اُس کی اسلام،اسلامی شریعت اور امام خمینی ؒ کے مکتب میں کوئی جگہ نہیں ہے !بس جو قدرت و اقتدار لوگوں کے انتخاب سے وجود میں آئے وہ قابل احترام ہے ۔ایسے اقتدار و قدرت کے مد مقابل کسی کو بھی سینہ سپرنہیں ہونا چاہیے اورنہ ہی وہ قہر و غلبہ کو استعمال کرے۔اگر کسی نے ایسا کیا تو اُس کے کام کو فتنہ کہا جائے گا۔
۶۔مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت
یہ وہ جدید نسخہ ہے کہ جسے امام خمینی ؒ نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور دنیا کی سیاسی ادبیات میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا۔اِس نئے نسخے کا ایک بنیادی عنصر مظلوم کی مدد کیلئے جلدی کرنا اور ظالموں کی مخالفت ہے ۔مظلو م کی ہر حال میں مدد کرنی چاہیے اور اِس مظلوم کا واضح اور کامل مصدا ق فلسطینی قوم ہے کہ جس کے بار ے میں آپ نے دیکھا کہ امام خمینی ؒ نے ابتداء سے اپنی حیات کے آخری سانس تک مسئلہ فلسطین کی حمایت کی ،تاکید کی اور وصیت کی کہ ذمہ داراو راعلیٰ حکام اِس مسئلے کو کبھی فراموش نہ کریں۔مظلوم کی اعانت و مدد ،ظالم کے سامنے استقامت،ظالم طاقتوں کے اثر ونفوذ کی نفی ،ظالم کی ہیبت و رعب کا انکار او راُس کی شان و شوکت کو خاک میں ملانا یہ وہ عناصر ہیںجو اس اِسلامی نظام اورامام خمینی ؒ کے پیش کردہ جدید نسخے میں شامل ہیں۔
یہ اُس سیاسی نظام و مکتب کاایک اجمالی جائزہ اور مختصر سی توصیف تھی کہ جسے امام خمینی ؒ شہنشاہی نظام کی نابودی کے بعد ملک میں لائے ۔جسے اُنہوں نے عوام کے سامنے پیش کیا اور لوگوں کی اکثریت نے اُسے دل وجان سے تسلیم کیا اوریہ نظام وجود میں آیا۔امام خمینی ؒ کا پیش کردہ سیاسی نظام او ر نسخہ کتابوں میں رہ جانے والے افکار و نظریات کی مانند نہیں تھا بلکہ اِس نے حقیقت میں جامہ عمل پہنا ،معاشرے میںآیا اور جلوہ گر ہوا۔ ایرانی قوم نے ہمت و حوصلے سے کام لیا ،ایثار و فداکاری کی ،اِس کی حفاظت کی اوراِسے استحکام بخشا کہ یہ آج یہاں تک پہنچا ہے ۔
امام خمینیؒ کے راستے کی بقاہماری ہوشیاری اور ہمت و حوصلے سے وابستہ ہے!
یوں امام خمینی ؒ کامیاب ہو گئے اوروہ جو کام انجام دینا چاہتے تھے اُس میںاُنہیں کامل توفیق حاصل ہوئی لیکن اب یہاں ایک سوال یہ ہے کہ یہ عظیم کام کیا جاری رہے گا؟ کیا ِاِ س پزل کے بقیہ حصے حاصل ہوسکیں گے کہ یہ مکمل ہو جائے؟یہ بات مجھ سے اور آپ سے وابستہ ہے کہ ہم اِس راہ میں کتنی ہمت و حوصلے سے کام لیتے ہیں،کتنے آگاہ اور ہوشیار رہتے ہیں ،اِس راہ کی کتنی حفاظت کرنے والے اوراُس روشن راستے میں کہاں تک قدم اُٹھانے والے ہیں۔ یہ کام ممکن ہے ایسی قوم کے ساتھ کہ جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیںکہ جس نے گزشتہ۳۵ برسوں میں اورامام خمینیؒ کی رحلت کے بعد ۲۵برسوںمیں مسلسل اپنے تجربات اور کامیابی سے یہ بات ثابت کرد ی ہے اِس راہ پر قدم اٹھانا ممکن ہے اور اِس پزل کے تمام خالی خانے مکمل ہو کر ریں گے ،بڑے بڑے کام انجام دیئے جائیںگے او ر یہ قوم ان شاء اللہ وہ ترقی کی چوٹی پر پہنچے گی۔
تیسرا نکتہ؛راہ کی رکاوٹوں کی پہچان و شناخت اور اُن کا مقابلہ و استقامت
لیکن یہ راستہ بھی بڑی اور عظیم منزلوں تک جانے والے دوسرے اہم ترین راستوں کی ماننداپنی خاص مشکلات اور رکاوٹیں رکھتا ہے ۔ہمیںاِس کی رکاوٹو ں کو سمجھنا چاہیے تا کہ اُن سے صحیح وسالم عبور کرسکیںلیکن اگر ہم نے اِن رکاوٹوں کو نہیں پہچانا تو اُن سے عبور بہت مشکل ہو جائے گایا ممکن ہے کہ نا ممکن بھی ہو جائے ۔میں آج اِس عظیم اجتماع میں آ پ بہن بھائیوں سے او ر درحقیقت اپنی قوم سے جو میری باتوں کوسنے گی،خطا ب کر رہا ہوں لیکن ہمارے جوانوں،تعلیم یافتہ انسانوں،ماہرین اوراہل فکر افراد کو چاہیے کہ اِن ابواب کی سرخیوں پر غور وخوص سے کام لیںاورتحقیق و مطالعہ کریں۔روشن فکری کا عنوان لگا کر صرف ذہنی بحث میں نہ پڑیںبلکہ کارآمد،عملی اور حقیقت کی جانب متوجہ بحث کا آغاز کریں۔یہ جو کچھ ہم عرض کر رہے ہیں یہ سرخیاں ہیں فکری کاموں کیلئے اوراِن شاء اللہ ہمارے جوان جو ہم سے زیادہ بہتر اور اِس کام کو انجام دینے کیلئے تیار ہیں،اِسے انجام دیں گے۔
الف:بیرونی یا خارجی رکاوٹ؛عالمی استکبار کی ایجاد کردہ مشکلات
میں یہاں دو رکاوٹوں کو بیان کروں گا؛ایک اندرونی اور ایک بیرونی ۔بیرونی روکاوٹیں عالمی استکبار کی مزاحمتوں اوراُس کی ایجاد کردہ مشکلات سے عبارت ہے ۔صاف صاف آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ یہ امریکی مزاحمتیں اوراُس کی ایجاد کردہ مشکلات ہیں ۔یہ بات صحیح ہے کہ خود اُن کے سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں شاید یہی موجودہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ کی راہ میںاِن تمام رکاوٹوں کے کھڑے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے !اتنی عظیم تحریک کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے لیکن اُس کے باوجود وہ روہڑے اٹکاتے ہیںلہٰذا اُن کی سازش کو سمجھنا چاہیے۔
دنیا کوتین حصوں میں تقسیم کرنے کا امریکی منصوبہ بے نقاب !
امریکی سازش پکڑ ی جا چکی ہے ۔یہ امریکہ کی بہت بڑی منصوبہ بندی ہے جو خود اُن کے بیابات، رپورٹوں،تجزیوںاوراُن کے عمل سے نظر آرہی ہے :امریکہ دنیا کے ممالک،تحریکوں اور انسانوں کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہے ۔
پہلاگروہ:ایک وہ گروہ ہے جس میں اُن کی ہاں میں ہاں اور جی جی کرنے والے ممالک،اُس کی مرضی سے اُٹھنے اورچلنے والی تحریکیں اور جی آقا کہنے والے انسان شامل ہیں۔
دوسرا گروہ:دوسرے گروہ میں وہ ممالک ،تحریکیں اور افراد شامل ہیں جو اُس کی نہیں سنتے تو اُن سے نرم رویہ اور مداراکرنا امریکی سیاست ہے ۔ایسے میںاُن کے اور اپنے درمیان مشترک مفادات کو سامنے لانا ضروری ہو جاتاہے یعنی کسی بھی طرح اُن سے بنا کررکھو کہ جس کی تفصیل بعد میں عرض کروں گا۔
تیسرا گروہ؛تیسرا گروہ وہ ہے جوامریکہ کانافرمان ہے،اُس کے زیر بار نہیں ہوتا او راُسے بھتہ نہیں دیتا۔
دنیا کے تمام ممالک، دنیا کی تمام سیاسی ،اجتماعی ،مدنی اور اقتصاد ی تحریکیں اور فعالیتیںنیز دنیا کے تمام انسان ،منفرد و ممتاز شخصیات امریکی نظر میںاِن تین گروہوں سے باہر نہیں ہیں۔یا وہ سینے پر ہاتھ رکھے سر کو جھکائے ’’یس سر‘‘اور’’جی میری آقا‘‘ کہنے والے ہیں،یا مستقل و خود مختار ہیں کہ اُن سے بنا کررکھی جائے یا نا فرمان ہیںاور اُس کے سامنے شجاعت وبہادری دکھاتے ہیں تو ایسے گروہ کیلئے امریکی سیاست کسی اور طریقہ کار کو وضع کرتی ہے !
پہلے گروہ کیلئے امریکی سیاست :جی سر کہنے والے ممالک کی حمایت کرو اور اِن کا ’’تیل ‘‘نکال لو!
پہلے گروہ کیلئے امریکی سیاست یہ ہے کہ اُن کی مکمل حمایت کی جائے لیکن توجہ رہے کہ یہ کوئی مفت اور خالی حمایت نہیں ہے !اُن ممالک کی حمایت کرتے ہیں اور اُن کا ’’تیل ‘‘نکال لیتے ہیں اور اپنے مقاصد کوعملی جامہ پہنانے کیلئے اُن کے وسائل و امکانات کو استعمال کرتے ہیں،اُنہیں اپنی سواری قرار دیتے ہیں اور اُن سے ہر قسم کا کام اور خدمت لیتے ہیں۔جیسا کہ عرض کیا کہ اتنی خدمت لیتے ہیں کہ اُن کاپسینہ تک نچوڑ لیتے ہیںاوراُ نہیں کوئی اہمیت بھی نہیں دیتے !اگر اُن سے کوئی ایسی حرکت سر زد ہو جو بین الاقوامی سطح پر بری تصور کی جائے تو اُن کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اُن کی حمایت اور اُن کے کاموں کی توجیہہ بیان کرتے ہیں۔مثلاً بہت سے ایسے مستبد ممالک ہیں جو ارتجاعی اوردقیانوسی نظام کے تحت نہایت آمرانہ انداز میں چلتے ہیں،اُن کے تعلقات امریکیوں سے بہت اچھے ہیں،وہ امریکہ کو اپنے اوپر سواری بھی دیتے ہیںاوراُس کی خدمت کیلئے بھی دل وجان سے حاضر ہیں ،یہ پہلے گروہ میں شامل ہیں۔ امریکی جب ایسے ممالک کی تعریف کرتے ہیںتو یہ نہیں کہتے کہ یہ آمراور ڈکٹیٹر ممالک ہیں بلکہ اُنہیں دنیا کے عظیم ممالک اور’’بڑے شریف‘‘ کا خطاب دیتے ہیں۔ اُن کی آمریت کو چھپاتے اوراُنہیں ’’بڑاشریف‘‘اور’’پدر سالار‘‘ کہتے ہیں۔سیاسی نظام میں ’’پدر سالار‘‘اور’’ بڑے شریف ‘‘کا کیا مطلب ہے ؟ یعنی و ہ ممالک کہ جن میں کوئی پارلیمنٹ وجود نہیںرکھتی،جن میں کوئی انتخابات نہیںہوتے ہیں،جن میںآزادی رائے پر پابندی ہے،قلم اورزبانیں زنجیروں میں قید ہیں اور حاکم کی خواہشات کی تھوڑ ی سی بھی مخالفت کو نہایت شد ت اوربے رحمانہ طریقے سے کچل دیا جاتاہے !کیا ایسے ہوتے ہیں ’’پدر سالار‘‘اور’’ بڑے شریف‘‘ ممالک؟!
صدام ایک زمانے میں اُن کا سب سے بڑاحمایت شدہ حکمران تھا!
صدام حسین اپنی سیاسی زندگی کے ایک حصے میں اِن کے سامنے سر جھکانے والا اور ’’جی میرے آقا ‘‘کہنے والا(بخشو) تھا۔وہ جب تک اُن کی ہاں میں ہا ں ملاتا اور اطاعت کرتا رہا اُنہوں نے بھی اُس کی ہر صورت میں حمایت کی،اُس کی امدا د کی ،کیمیائی اسلحہ دیا ،سٹیلائیٹ سے لیے گئے ہماری فوجی نقل و حرکت کے نقشوں کو اُس کے حوالے کیااور اُسے جنگی نقشے دئیے!کیونکہ وہ اُ ن کی خدمت کر رہا تھا،وہ اسلامی جمہوریہ کے نظام کے خلاف تھااوراِس لیے کہ اسلامی جمہوریہ تیسرے گروہ میں شامل تھا!
دوسرے گروہ کیلئے امریکی سیاست :فی الوقت کام نکالو اور پھر خنجر گھونپ دو!
دوسرے گروہ میں وہ ممالک شامل ہیں کہ جن کیلئے امریکی سیاست یہ ہے کہ اُن کے ساتھ بنا کر رکھی جائے اورمداراکیا جائے !اِس امریکی مدارا اور بنا کر رکھنے سے کیا مرا دہے؟یعنی اُن سے مشترک مفادات کی بات کرتے ہیںاوراُنہیں اپنے پاس بٹھاتے ہیں اور جیسے ہی اُنہیںموقع ملتا ہے اُن کی پشت میں خنجر گھونپ دیتے ہیںاوراِس راہ میں اُن کی اور اپنی دوستی کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ! اِس دوسرے گروہ میں کون سے ممالک شامل ہیں؟ یورپی ممالک! موجودہ زمانے میں یورپی ممالک کی یہ صورتحا ل ہے ۔امریکہ اِن سے بنا کر رکھتا ہے اور مدارا کرتا ہے تو اِس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ وہ اُن کے مفادات کی رعایت کرتا ااور اُن کا خیال رکھتا ہے !نہیں جناب ایسا نہیں ہے بلکہ جہاں تک ہو سکتا ہے در پردہ رہ کراُنہیں نقصان پہنچانے کی فکر میں لگا رہتا ہے ۔اپنے ہم پیمان اور دوست ملک(جرمنی) کی ایک انتہائی اہم شخصیت کی انٹر نیٹ کے ذریعے سے جاسوسی بھی کرتا ہے !اُس کی انفرادی زندگی کے رازوں کوحاصل کرنے کے علاوہ اُس کے فون ٹیپ کرتا ہے ۔جب یہ پول کھل جاتا ہے تو کہتا ہے کہ معاف کیجئے گاکہ ہم سے یہ کام ہو گیا ہے ،مگر کیا کریں کہ اِس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چارہ کار موجود نہیں تھا!یعنی وہ اِس بات کیلئے بھی تیار نہیں ہیں کہ ڈھنگ سے معذرت خواہی کریں۔
یورپی ممالک کی خطرناک غلطی!
ْ سیاسی مسائل کے فہم میں میرا نظریہ یہ ہے کہ یورپی ممالک اپنی راہ میں ایک بہت بڑ ی غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیںکہ اُنہوں نے خو دکو امریکہ کا غلام بنا ڈالا ہے ۔وہ امریکی مفادات کاخیال رکھتے ہیںلیکن امریکہ اُن کے مفادات کا خیال نہیں کرتا ہے اور نہ کرے گا!آخر تک ایساہی ہوگا!
تیسرے گروہ کیلئے امریکی سیاست :جہا ں تک ہو سکے اِن کو جلدی نابودکردو!
تیسرے گروہ میں وہ ممالک شامل ہیں جو امریکہ کی نہیں سنتے ،اِن کیلئے امریکی پایسی یہ ہے کہ اِن نا فرمان مماک کیلئے جو حربہ ہو سکے استعمال کیا جائے اورہر ممکن وسیلے سے اِن کا راستہ روکا جائے اور اِس بارے میںوہ کسی قانون اور حد کا خیال نہیں رکھتے ۔اگرآ پ یہ دیکھیں کہ دنیا میں امریکہ کا کوئی عاصی و نا فرمان ملک ہے اور امریکہ اُس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرتا اُس پر فوجی حملہ نہیں کرتا تو سمجھ جائیے کہ وہاںکوئی نہ کوئی مسئلہ درپیش اور رکاوٹ موجود ہے جو امریکہ کو روکے ہوئے ہے۔سادی زبان میں اِسے یوں عرض کروں کہ وہ انجام نہیںدے سکتا اِسی لئے تو انجام نہیں دے رہا ہے اوراگر یہ مشکل یا رکاوٹ نہ ہوتی تو وہ اُس ملک کے خلاف ضرورکاروائی کرتا۔اِس نا فرمان ملک کا واحد قصور یہ ہے کہ یہ امریکی غنڈہ گردی کے سامنے سر جھکانے کیلئے تیار نہیں،وہ اِس بات کیلئے آمادہ نہیں کہ وہ امریکہ کو بھتہ دے اور اُس کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دے۔ یہ ہے امریکہ کا نا فرمان ملک! امریکی سیاستداں اِسے ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کیلئے کسی بھی قسم کے کام کو انجام دینے سے دریغ نہیں کرتے اور جو کام بھی اُن کیلئے ممکن ہو اُسے انجام دیتے ہیں ۔اگر انجام نہیں دیتے تو یہ اُن کی ناتوانی کی دلیل ہے!
امریکی سمجھ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی حملہ حماقت ہے !
اب جو امریکی کام انجام دے رہے ہیںوہ کیا ہیں ؟آج عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے کسی ملک پر فوجی حملہ کرنا امریکی سیاست کی اولویت میں شامل نہیں ہے۔اُنہوں نے سمجھ لیا ہے کہ عراق اور افغانستان پر فوجی حملے کر کے اُنہوں نے بڑی غلطی کی ہے ۔وہ یہ بات سمجھ چکے ہیں فوجی حملہ جتنا اُس ملک کیلئے خطرناک ہے کبھی اتنا ہی اور کبھی اُس سے زیادہ حملہ آور ملک کیلئے ضررو نقصان کا باعث ہے!یہ تو وہ ٹھیک سمجھے ہیں۔لہٰذا یہ بات کہی جا سکتی ہے وہ فوجی حملے اور فوجی کاروائیوں سے دور ہی رہنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں!
مدمقابل نافرمان ممالک کی نابود ی کیلئے امریکہ کی چالیں
مدمقابل ملک کو نقصان پہنچانے کیلئے اُن کے پاس او ر دوسرے راستے موجود ہیں ۔ جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ایک راستہ یہ ہے کہ وہ اُس ملک میںکہ جس پر حملہ کرنے کے خواہشمند ہیں، اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اُسی ملک کے اندر سے کچھ افراد کو یہ ذمہ داری سونپیں۔یہ صرف اسلامی جمہوریہ ایرا ن سے مربوط نہیں ہے بلکہ وہ پوری دنیا میں یہ کام انجام دے رہے ہیں کہ جس کی زندہ مثالوں کا ہم اپنی آنکھوں سے خود مشاہدہ کر رہے ہیں۔
۲۔ایک اور راستہ انقلاب یا بغاوت ہے ۔وہ اپنے سامنے تسلیم نہ ہونے والے ملک میں ایسے عناصر کی مدد کرتے اور اُن کی پشت پناہی کرتے ہیں کہ وہ اُس نظام کا تختہ اُلٹ دیں۔
۳۔ایک اور راستہ عوامی شورش کی مدد کرنا اور اُنہیں کسی نظام کے خلاف سڑکوں پر لے کر آنا ہے ۔گزشتہ چند سالوں میں اِس خطے میں جو مختلف رنگوں اور شکلوں کے انقلاب رونما ہوئے ہیں،اِسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
ایک حکومت بر سر اقتدار آتی ہے،ممکن ہے کہ کوئی حکومت ساٹھ فیصد وووٹوں سے برسر اقتدار آئے اور چالیس فیصد عوام نے اُسے ووٹ نہ دیئے ہوں تو یہ امریکی اُن چالیس فیصد عوام کے پاس جاتے ہیں۔اُن کے درمیان لیڈرو ں کا انتخاب کرتے ہیںاور لالچ،پیسہ اور دھمکیوں سے اُنہیں مجبورکرتے ہیںکہ وہ اُن چالیس فیصد یا اُن میں سے کچھ افراد کو سڑکوں اور خیابانو ں پر لے آئیں۔آپ نے مختلف رنگوں والے انقلابات کا مشاہد کیا ہو گا،یہی نارنج رنگ کا انقلاب بھی اِسی کی ایک کڑی ہے۔اِن مختلف سالوںمیں مختلف ممالک میں جو انقلابات آئے ہیںاُن کے پیچھے امریکہ موجود تھا!
یوکرائن میں امریکہ مداخلت
ہم حالیہ دنوں میں یورپ کے ایک ملک (یوکرائن)میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے لیکن جب انسان حالات کو دیکھتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ ایک امریکی سنیٹر اور ذمہ دارفرد(جان میک کن)ایک ملک کی اقلیت کے اُس ملک کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں کتنا مؤثر کردار ادا کرتاہے اور وہاں موجود ہوتا ہے ! اُن کے کاموں میں سے ایک کام یہ ہے کہ وہ اِنہیںتسلیم نہ کرنے اور اِن کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے والے ملک کے کچھ افراد کو سڑکوں پر شور ش و بغاوت اور سول نا فرمانی کیلئے نکال کر لاتے ہیں تا کہ اُس نا فرمان نظا م کو تباہ کردیں!
۴۔اُ ن کے کاموں میں سے ایک کام دہشت گردی کا فروغ اور دہشت گردوںکی حمایت کرنا ہے ۔اُنہوں نے یہ کام عراق میں انجام دیا ،افغانستان میں کیااورخطے کے بعض عرب ممالک میں اِن دہشت گردوں کوکھلا چھوڑدیاہے ۔اورتو اور ہمارے اپنے ملک میں بھی یہ کام انجام دیا کہ وہ کسی خاص افراد کو نشانہ بنائیںاور دہشت گردی کریں!اُنہوں نے ہمارے ملک میں ایٹمی انرجی کے سائنسدانوں کو نشانہ بنایا،علمی ماہرین کو شہید کیااور اِس سے قبل سیاسی ،ثقافتی ومعاشرتی اور علمی شخصیات نیز علماء کو نشانہ بنایا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امریکی دامن کے سائے میں پرورش پائی ہے ۔اِن میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ جنہیں امریکی خدمت کے عوض امریکی پذیرائی ملی ہے ۔آج منافقین امریکہ کی گود میں بیٹھے ہیں۔یہ منافقین وہ ہیں جو امریکی کانگریس کے مختلف اجلاسوں اور کمیشنوں میں شرکت کرتے ہیں۔یہ وہی ہیں کہ جنہوں نے ہماری عوام ،سائنسدانوں، علمی شخصیات،علما ،ماہرین اور سیاسی افراد کو نشانہ بنایا ،بم دھماکے کیے اور آج وہاں بیٹھے ہیں!
۵۔اُن راستوں میں سے ایک راستہ یہ ہے کہ وہ حاکم افراد کے درمیان پھوٹ اور تفرقہ ڈالیں۔وہ اپنے ساتھ نہ چلنے والے نظام کے اعلیٰ حکام کے درمیان اختلافات ایجاد کرتے ہیںاوروہاںدو اقتدار کووجود میں لانے کی کوششیںکرتے ہیں۔وہ اپنے طریقہ کار میں بعض مقامات پر کامیاب نہیں ہوئے ہیں لیکن بعض مقامات پر افسوس ہے کہ وہ کامیا ب ہو گئے ہیں۔
۶۔ایک اور روش یہ ہے کہ وہ اپنے مسموم پروپیگنڈے سے عوامی رائے عامہ ،دلوں،افکار اور اعتقادی اورایمانی بنیادوں کو متزلز ل کرناچاہتے ہیںاوراِسی طرح کی اور دوسری راہوں اور روشوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت نے ہمارے عزیز اسلامی ملک کے خلاف یہ تمام کام انجام دئیے ہیںاور خدا کے فضل وکرم سے اُسے شکست فاش کا سامنا ہوا ہے ۔فوجی بغاوت ،شورشیو ں اور فتنہ گروں کی حمایت،عوام کو سڑکوں پر لانا، انتخابات کی مخالفت اور تفرقہ اندازی وغیرہ کہ یہ سب کام یا انجام دے چکے ہیں یا انجام دینے کی کوششیں کر رہے ہیںلیکن الحمد اللہ اِن سب میں ناکام رہے ہیں!اِس کی وجہ کیا ہے؟وجہ یہ ہے کہ قوم بیدا راور ایمان رکھنے والی قوم ہے ۔اب میں یہا ں اُس اندرونی رکاوٹ اور مشکل کو بیان کرو ںگا۔
ب:اندرونی یا داخلی رکاوٹ!امام خمینیؒ کی تحریک کی روح اورجہت سے صرف ِ نظر کرنا
میرے بھائیوں اور بہنو!اسلامی انقلاب کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کی راہ میں جو رکاوٹ ہے وہ امام خمینیؒ کی تحریک کی روح اورجہت سے صرف ِ نظر کرنا ،اُسے فراموش کرنا اور اُسے ہاتھ سے جانے دیناہے ۔میری نظر میں یہ بہت بڑی غلطی اور خطرہ ہے ۔اگر ہم دشمن کو نہ پہچانیں، دوستوں کی پہچان حاصل نہ کریں،دوست و دشمن کو آپس میں ملادیں کہ پتا نہ چلے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون؟یا اِسی طرح اگر اصلی اور ثانوی حیثیت کے حامل دشمن کی شناخت میں غلطی کریں تو یہ بھی خطرناک غلطی ہے ۔
اصلی اور ثانوی دشمن میں شناخت بہت ضروری ہے
میرے بھائیوںاور بہنو اور اے میر ی قوم توجہ رکھیں کہ ممکن ہے کہ آپ کسی کو دیکھیں کہ وہ آپ سے دشمن کر رہا ہے لیکن اگر آپ باریک بینی سے ملاحظہ کریں تو دیکھیں گے کہ وہ آپ کا اصلی دشمن نہیں ہے بلکہ کسی اور عامل کی پیروی کر رہا ہے ۔یہ آ پ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اصلی دشمن کو تلاش کریں۔اگر انسان ثانوی حیثیت کے دشمن کے سامنے ڈٹ جائے تو نہ صرف یہ کہ اُس کی طاقت کم ہو جائے گی بلکہ اِس دشمنی کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا!
جاہل و نادان اورفریب خوردہ تکفیری ،سلفی اور وہابی ہمارے ثانوی دشمن ہیں!
آج دنیائے اسلام کے مختلف حصوںمیںتکفیری،وہابی اور سلفی ناموں سے ایران اورتشیع کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیںاوربرے اور قبیح کام انجام دے رہے ہیںلیکن سب کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ یہ ہمارے اصلی دشمن نہیں ہیں۔یہ ہم سے دشمنی کرتے ہیںاوراحمقانہ کام انجام دیتے ہیں لیکن اصلی دشمن وہ ہے جو اِنہیں اُکسا تا او ر شے دیتا ہے ،اِنہیں پیسہ دیتا ہے ،جب اُن کے حوصلے پست اور فکریں کمزور ہوتی ہیںتو اُنہیںمختلف وسائل کی فراہمی سے شوق دلاتا اور ہمت بندھاتا ہے ۔ ہمار ااصلی دشمن وہ ہے جو جاہل ونادان افراد اور ہماری قوم کے درمیان اختلافات کا بیج بوتا ہے اوریہ سب تودشمن کی جاسوسی ٹیمیں اور کارندے ہیں۔ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ عقل سے پیدل افراد جو سلفیت ، تکفیریت اور اسلام کے نام پر اسلامی جمہوریہ سے دشمنی کر رہے ہیں ہم اُنہیں اپنا اصلی دشمن نہیں سمجھتے ہیں۔
اے دشمنو! ہم تمہیں فریب خوردہ سمجھتے ہیں۔ہم نے اُن سے کہا ہے :’’لَئِنْ بَسَطْتَ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِی مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ اِنِّی اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ ‘‘(سورہ مائدہ آیت ۲۸)(اگرتم نے میری جانب مجھے قتل کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایاتو میں تمہیں قتل کرنے کیلئے اپنا ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا،بے شک میں اللہ رب العالمین سے خوف کھاتا ہوں)۔اگرتم خطااور غلطی کرو گے اور اپنے ہی مسلمان بھائی کو مارے کیلئے کمر کسو گے تو اے جاہل ونادان دشمن ہم تمہیں کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے کہ تمہیں مارنے کیلئے کمر بستہ ہوںلیکن توجہ رہے کہ ہم اپنا دفاع کرناخوب اچھی جانتے ہیں اور جو بھی ہم پر حملہ کرے گا وہ ہمارا مشت آہنی کھائے گا!یہ ایک فطری بات ہے ۔ہمیں یقین ہے کہ یہ ہمارے اصلی دشمن نہیں ہیں بلکہ یہ فریب خوردہ ہیں۔ ہمارااصلی دشمن پشت پردہ موجود ہے اور وہ آسانی سے نظر آنے والا دست پنہاں ہے جو اِن خفیہ ایجنسیوں کی آستین سے باہر آتا ہے اور مسلمانوں کو باہم دست و گریباں کرتا ہے ۔
اندرونی رکاوٹوں کی مزید مثالیں
ہماری اندرونی مشکلات او ر رکاوٹیں یہ ہیں:ملک کے داخلی اختلافات میں سرگرم ہو جانا،فرعی ،ثانوی اور سطحی اختلافات ہمیں اپنے دامن میں پھنسا لیں،ہمیں ایک دوسرے کے مد مقابل قرار دیں ،اختلاف و تعارض پیدا کرنے کا سبب بنیں اورہمیں اصلی اور بنیادی مسائل اوربنیادی اصولوں سے غافل کردیں ۔اِس کے علاوہ قومی اتحاد و وحدت کو کھودینا بھی ایک رکاوٹ ہے ،سستی و کاہلی کا شکار ہونا، ہمت و حوصلے کا ہاتھ سے نکل جانا،اپنی ذمہ داری کو صحیح ادا نہ کرنا اور محنت سے جی چرانا،مایوسی اور نااُمیدی ،کچھ نہ کرنے کا خیال ذہن پر سوار کر لینایا ابھی تک اپنے کامیاب نہیں ہونے کے خیال کے سامنے گھٹنے ٹیک دیناوغیرہ سب داخلی رکاوٹیں ہیں۔
امام خمینی ؒ کے نقشے کو سامنے رکھناہمارا مدد گار اور حوصلہ دینے والا ہے!
امام خمینی ؒ نے فرمایا تھا کہ ہم انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیںلہٰذا ہمیں عزم وحوصلے کا مالک ہو نا چاہیے تا کہ ہمارا قومی عزم اور تعمیر و ترقی کی مدیریت سے اِن تمام گرہوں کو کھولیں۔ہمیں اِن تمام داخلی رکاوٹوں سے مقابلہ کرنا چاہیے ۔جیسا کہ عرض کیا کہ یہ سرخیاں اور عنوانات ہیں اور ہمارے جوانوں ،تعلیم یافتہ اورفضلا کو چاہیے کہ وہ بیٹھیں اور اِن کے بارے میں گفتگو کریں۔امام خمینی ؒ کا نام ،اُن کا تذکرہ اورمعمار انقلاب کا دیا ہوا نقشہ اِن تمام سرخیوں کے بارے میں نہ صرف بحث و تحقیق کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے بلکہ ہمیںاُمید ،نشاط اور حوصلہ دینے میں مدد گار ثابت ہوگا۔جیسا کہ آج تک اِس نے مدد کی ہے اور اللہ کی عطا کردہ توفیق سے آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔
خدایا! اپنی برکتوں کو اِس قوم پر نازل فرما،اسلامی نظام کے اُس آئیڈیل عمارت کی تعمیر میں ہمار ے جوانوں کی مدد فرما،بارِ الٰہا !ہمیں کجروی اور انحراف سے محفوظ فرما،ہماری قوم کو ہمارے دشمنو ں سے زیادہ قوی قر ار دے ،اُسے اُس کے دشمنو ں پر کامیابی عطا فرما،قلب مقدس حضرت امام عصر ؑکو ہماری نسبت مہربان فرما،اُن کی دعاؤں کو ہمارے شامل حال فرمااور امام خمینی اور شہدا کی ارواح کو پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ محشورفرما۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

متعلقہ مضامین

Back to top button