شام کے خلاف امریکی سازشیں اور رہبر انقلاب اسلامی کا موقف

02 فروری, 2012 10:46

aytullah syed ali khamenei haرہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کی ہے کہ شام میں امریکہ کے منصوبے کا اصلی مقصد علاقے کی استقامت کو نقصان پہنچانا ہے کیونکہ شام فلسطین اور لبنان کی مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کر رہا ہے ۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اکتیس جنوری کو فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے جنرل سکریٹری ” رمضان عبد اللہ ” اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد سے ملاقات 
کے دوران شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر شام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو جامع اور وسیع نظر سے دیکھا جائے تو شام کے بارے میں امریکی منصوبہ بندی کا مقصد صاف ظاہر ہو جاتا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ بعض بیرونی اور علاقائی ممالک بھی امریکہ کے اس منصوبے میں شریک ہیں۔ 
شام آج علاقائی اور عالمی دشمنوں کی سازشوں سے شکار ہے۔ شام نے ہمیشہ صیہونی دشمنوں کے مقابلے میں مشرق وسطی کے علاقے کی مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کی ہےاور وہ امریکہ کی حامی اس حکومت کی ہٹ دھرمی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔
شام کی اسٹریٹیجک پالیسیوں نے صیہونی حکومت کی سازشوں کو ہمیشہ ناکامی سے دوچار کیا ہے اور اسی طرح شام مشرق وسطی کے علاقے میں امریکی منصوبوں پر عمل درآمد کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج شام بعض عرب ممالک خاص طور پر خلیج فارس کے بعض ملکوں اور اسی طرح بعض مغربی ممالک خصوصا امریکہ کی سازشوں کا شکار ہے ۔
جب کہ شام کی حکومت نے اپنے ملک کا بحران حل کرنے کی غرض سے عرب مبصرین کے ساتھ تعاون کے لیے اپنی نیک نیتی ظاہر کر دی لیکن اس کے باوجود بعض عرب ممالک بالخصوص قطر اور عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری نبیل العربی شام کی مخالفت میں دمشق کے بارے میں امریکی پالیسیوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔
قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ” شیخ حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی” نے گزشتہ ہفتے شام کےحالات کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے میں امریکہ کے جھوٹے وعدوں سے دھوکہ کھا کر شام میں موجود دہشت گرد گروہوں اور شرپسند عناصر کی ہر طرح سے مدد کی ہے تا کہ اس طرح ظاہر کرے کہ شام میں فوجیوں اور عوام کے قتل اور بد امنی کی اصل ذمہ دار خود اس ملک کی حکومت ہے۔
لیکن شام میں گرفتار دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کی گرفتاری اور ٹی وی پر نشر ہو نے والے ان کے اعترافات نے یہ راز فاش کر دیا کہ دہشتگرد گروہ بعض عرب اور مغربی ممالک کی مالی اور لاجیسٹک مدد سے شام میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔
امریکا کہ جوعلاقے میں اسلامی بیداری کی لہر میں شکست خوردہ اور نو سال کے بعد عراق کی سر زمین سےنکلنے اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کی وجہ سے سخت تلملایا ہوا ہے، شام کے ذریعے علاقے میں اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے جس نکتے کی طرف اشارہ اور تاکید کی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک علاقے میں حال ہی میں ہونے والی اپنی شکستوں کا بدلہ شام میں لینا چاہتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح شام کی حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کے بارے میں فرمایا کہ شام کے بارے میں ایران کا موقف اس ملک کے عوام کے حق میں ہر قسم کی اصلاحات کی حمایت اور شام کے داخلی امور میں امریکہ اور اس کے پٹھو ملکوں کی مداخلت کی مخالفت ہے۔ 
حکومت شام نے اعتراضات کے آغاز ہی سے بنیادی اصلاحات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا ہے اور اس ملک کے صدر بشار اسد نے ملک میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئی حکومت کی تشکیل، آئين پر نظرثانی اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کی آزادی پر تاکید کی ہے لیکن بعض مغربی اور عرب ممالک ان اصلاحات پر توجہ نہیں دے رہے ہیں اور سازشیں کر رہے ہیں اس لیے کہ رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں شام میں امریکہ کے منصوبے کا اصلی مقصد علاقے میں استقامت و مزاحمت کی لائن کو نقصان پہنچانا ہے۔

1:22 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top