فوج کے ماتحت، خطروں میں بدلتے اثاثے
سات ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک حکومت اور طالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے علاوہ بات چیت کے عمل میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی حکومت سے مذاکرات کرنے کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کے رابطہ کار پروفیسر ابراہیم کہتے ہیں کہ اصل مذاکرات تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئے اور ایسا تبھی ممکن ہے جب طالبان کی شوریٰ کی طرف سے تفصیلی مطالبات موصول ہوجائیں گے۔ وزیرستان میں طالبان دہشت گردوں کی آپسی لڑائی میں درجنوں طالبان کی ہلاکت کے باوجود حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کی سیاسی شوریٰ کو ہی دہشت گردوں کی نمائندہ قیادت تسلیم کیے ہوئے ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت مختلف مذہبی اور سیاسی حلقے مذاکرات کے موجودہ میکنزم پر مطمئن نہیں۔ جس طرح فوج اور حکومت مذاکرات پر متفق نہیں، اسی طرح طالبان کے مختلف گروپوں کے درمیان بھی ڈائیلاگ کا عمل متنازعہ ہے۔ مذاکرات کا یہ عمل متنازعہ بھی ہے اور کمزور بھی۔ دوسری وجوہات بھی ہیں۔ واضح حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی قوتوں کے مقابلے میں فوج طاقت ور بھی ہے اور بالادست بھی۔ اسکے باوجود کہ آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی، نئی نویلی حکومت کے ساتھ ہی بیٹھے تھے لیکن مسلح افواج نے مذاکراتی کمیٹیوں اور انکے درمیان مطالباتی بیانات کی کبھی تائید نہیں کی۔ مذاکرات میں موجودہ ڈیڈلاک دراصل فوج کی طرف سے مذاکراتی عمل کے دوران حکومت کی طرف سے طالبان قیدیوں کی رہائی پر تحفظات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
پرویز مشرف کی گرفتاری اور سابق آرمی چیف کا عدالتی ٹرائل، فوج کو دباو میں رکھنے کے لیے حکومتی چال تھی، تاکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو حتمی نتیجہ تک لے جانے کے لیے آسانی پیدا کی جاسکے۔ آرمی نے زمینی آپریشن روک دیا، لیکن پاکستان ائیر فورس کے جیٹ طیاروں کی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں بمباری نے حکومت کے نمائشی مذاکراتی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ طالبان کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں کی بمباری اور توپ خانہ کی مسلسل گولہ باری سے حکومت اور طالبان کے مابین جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ جنگ بندی کا اعلان صرف طالبان نے کیا ہے، پاک فوج نے نہیں۔
پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ افغان طالبان کو اسٹریٹیجک اثاثے کے طور پر دیکھتی ہے، جو افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی کردار کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ پاکستانی اور افغان حکومتوں کے درمیان بداعتمادی کی وجہ سے افغان طالبان کی قیادت پاکستان اور پاکستانی طالبان کی قیادت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ پاکستانی طالبان اس صورتِ حال کا مکمل فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے میں ناکامی کی وجہ سیاسی قیادت کی جانب سے اس سلسلے میں حمایت فراہم نہ کرنے کو قرار دیتی ہے۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے کہ وہ افغان طالبان جو پاکستانی پالیسی سازوں کا تزویراتی اثاثہ تھے، انہیں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کا ساتھ چھوڑ دیں، ورنہ وہ تزویراتی اثاثے کی بجائے تزویراتی خطرہ شمار ہوں گے۔
حکومت کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی کے سینیئر رکن، پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار اور موجود وزیراعظم نواز شریف کے معتمد میجر (ر) عامر کا کہنا ہے کہ طالبان قبائلی علاقے میں ان حالات کی واپسی چاہتے ہیں جب فوج وہاں موجود نہیں تھی، اگر فوج وہاں سے نکال لی جاتی ہے تو ممکن ہے طالبان مستقل جنگ بندی کا اعلان کر دیں۔ لیکن فوج نہیں چاہتی کہ جو کچھ اس نے ہزاروں جوانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے وہ مذاکرات کی میز پر ہار دیا جائے۔ جنوبی وزیرستان کے جی او سی جنرل ندیم رضا کا کہنا ہے صرف ایک ہی معاہدہ ہوسکتا ہے کہ آئین اور حکومت کی عمل داری کو تسلیم کریں اور پرامن شہری بن کر رہیں، یہی معاہدہ ہے۔ لیکن ایسی کوئی بات جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں۔
پہلے کی طرح آج بھی خارجہ پالیسی اور حساس داخلی معاملات سیاسی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ سعودی عرب کے فرمانروا کے ساتھ شریف فیملی کے تعلقات بہت گہرے ہیں، لیکن آرمی چیف کے دورہ جات اور ملاقاتیں الگ نوعیت کی ہیں۔ گذشتہ دو برس کے دوران فوج نے قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کئے ہیں۔ امریکی اور سعودی امداد کو استعمال کرتے ہوئے فوج کے انجینیئروں نے وہاں سڑکیں، آبپاشی اور بجلی کا نظام قائم کیا ہے اور یہ کوششیں اتنی بہتر ہیں کہ جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں پاکستان کے کئی علاقوں سے بہتر انفراسٹرکچر موجود ہے۔ فوج ایسے علاقے کو طالبان کو سونپنے کو تیار دکھائی نہیں۔ ان حالات میں یہ ممکن نہیں کہ مذاکراتی عمل کے دوران فوج وزیرستان خالی کر دے، جو طالبان کا مطالبہ ہے اور جماعت اسلامی کی خواہش۔
مذاکراتی عمل کے بعض حامی سمجھتے ہیں کہ فوج ہی اصل مسئلہ ہے اور اگر وہ علاقے سے چلی جاتی ہے تو طالبان کی مزاحمت جلد ہی دم توڑ جائے گی اور حالات معمول پر آجائیں گے۔ ایک طرف فوج اور حساس اداروں کے حق میں ریلیاں نکالنے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان، دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ فوج کچھ نہیں جانتی، فوج کوئی حل بھی نہیں ہے، جب امریکی خطے سے چلے جائیں گے، جہاد بھی ختم ہوجائے گا۔
جس طرح تحریک انصاف فوج کی پیداوار ہے، لیکن طالبان کے ساتھ مذاکرات کے متعلق عمران خان کا اپنا موقف ہے۔ شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والی جماعتیں طالبان اور تمام فرقہ وارانہ گروپوں کو فوجی حساس اداروں کی پیداوار سمجھتے ہیں، لیکن طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وہ فوجی آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔ پی پی کے دور حکومت میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ایم ڈبلیو ایم اور شیعہ علماء کونسل نے اے این پی اور مولانا فضل الرحمان کی طرف سے پیش کئے گئے پیس پراسس اور مذاکراتی عمل کی کافی حد تک حمایت کی تھی، لیکن نون لیگ کی حکومت مذکورہ شیعہ جماعتوں کو اعتماد میں لینے سے قاصر رہی ہے یا انہیں جانتے بوجھتے نظر انداز کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری اس الزام کی زد میں ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈا کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں، وہ مذاکرات کی بجائے آپریشن کے حامی ہیں۔ سنی اتحاد کونسل، سنی تحریک اور سید فیصل رضا عابدی نہ صرف مذاکرات کے خلاف ہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی فوجی حکومت کے حامی ہیں، انکے موقف سے یہ بات جھلکتی ہے کہ نہ صرف وزیرستان بلکہ پورے ملک کا کنٹرول عملی طور پر فوج کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حامد میر پر حملے کے بعد شیعہ اور بریلوی جماعتیں، دفاع پاکستان کونسل کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی اور فوج کی حمایت میں پاکستان کی سڑکوں پر نعرے بازی میں مشغول ہیں۔ البتہ دعووں میں سب جمہوریت کے حامی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی ان فریقین کے درمیان ہوتی ہے جن کے درمیان جنگ ہو۔ اگر ہم وزیرستان کی بات کریں تو جنگ ہے فوج اور فوج کے مخالف طالبان دھڑوں کے درمیان۔ جس طرح سید فیصل رضا عابدی کی خواہش پر اقتدار فوج کے حوالے نہیں کیا جا رہا، اسی طرح جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور نون لیگ کی حکومت کے کہنے پر فوج وزیرستان سے واپس نہیں آئے گی، کیونکہ سوات کی طرح وزیرستان میں بھی اب اچھے طالبان موجود نہیں، اب وہاں صرف فوج مخالف طالبان دھڑے ہیں۔ اگر ان کا صفایا ہو بھی جائے تو بھی فوج موجود رہے گی۔ پاکستان میں جس طرح سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اسی طرح افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں مسلح افواج کے تازہ دم دستے ہمیشہ کے لیے آتے جاتے رہیں گے۔ فوج دہشت گردوں کیخلاف سوات آپریشن کی طرز پہ کارروائی کرکے ریاستی رٹ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ بنوں، ڈی آئی خان اور کوہاٹ سے وزیرستان آنے جانے والے تازہ دستے اور وزیرستان میں ٹانک سے لیکر انگور اڈا تک سپر ہائی وے پر پاک آرمی کا مکمل کنٹرول یہ ظاہر کرتا ہے کہ موٹرولا کے امریکی وائرلیس سیٹ لئے وزیرستان کی شاہراوں پر گشت کرنے والے ڈبل کیبن اور موٹر سائیکل بردار دہشت گردوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔
جنرل راحیل سعودی عرب میں عبداللہ کی شمشیر نامی فوجی مشقوں کے معائنے پر جاتے ہوئے امریکی مہمانوں کو یہ کہہ کر گئے ہیں کہ ہم افغانستان میں موجود اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے اور ہر قیمت پر کریں گے۔ خطے میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور ڈرون حملوں کی بندش یہ بتا رہی ہے کہ علاقے میں یا تو امریکہ کے مفادات مکمل ہوگئے ہیں یا امریکیوں نے مکمل طور پر انڈیا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس صورت میں پاکستانی سیاست اور ریاست کا کنٹرول فوج کے ہاتھ میں رہے گا۔ بے شک ہمارے strategic assets اب strategic Threats میں بدل چکے ہیں لیکن جنگ ہو یا مذاکرات، اسکی باگ ڈور غیر سیاسی ہاتھوں میں ہوگی۔