مقالہ جات

اِک دھوپ تھی، جو ساتھ گئی آفتاب کے۔۔۔!

agha aftab majlisشہید علامہ آفتاب حیدر جعفریؒ کا طاقتور ترین حوالہ مجالسِ سیدالشھدؑ ا ہیں
علم و عمل، فکر و فہم اور انقلابی و نظریاتی بُرہان و ادارک کے موتی بکھرتی لب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کرادئے گئے جیسے چاروں جانب اکِ بنجر سا سنّاٹا چھاگیا ھو اب کون شھداء کی مجالس چھوٹے چھوٹے علاقوں میں پڑھنے جایا کرے گا۔۔۔؟ اب اسیروں کے مسائل کو کون حل کرے گا۔۔۔؟ اب عالمی و علاقائی طاغوت کے مدِ مقابل کون سینہ سپر ہوگا؟ ایسے میں جہاں زوال ہر شئے پر چھارہا ہو، نظری جمود طاقتور ہوتا جارہا ہو اور ساتھ ہی ساتھ عالمی شیطانی قوتیں پاکستان میں سازشوں کے نت نئے تجربات میں مصر وفِ عمل ھوں وہاں علامّہ آفتاب حیدر جعفریؒ کی المناک شہادت کسی بڑے سانحے سے کم نہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت کے حامل تھے کہ جن کا طاقتور ترین حوالہ مجالسِ سید الشھداء تھیں انہوں نے مجالس ہمیشہ انقلابی عنوان سے پڑھیں وہ عام مجالس نہیں خاص مجالس پڑھا کرتے تھے وہ جانتے تھے کہ تحریک کربلا کو کس زاوےئے سے دیکھنا چاہیے اور عزاداروں کو بلندی کے اُس مقام تک لیکر جانا چاہیے جن کے وہ مُستحق ہیں یعنی شہید علامہ آفتاب حیدر جعفریؒ عموما یہ کہا کرتے تھے کہ حالات خراب یزیدیوں کیلئے ہیں حسینوں کیلئے نہیں وہ مثال بھی دیا کرتے تھے کہ پوری دنیا ایک طرف تھی اور کربلا میں نبیؐ کے نواسےؑ کے ساتھ صرف 72 نفوسِ قدسیہ تھے وہ عموماً سوال کیا کرتے تھے حالات خراب کس کے لئے تھے جی ہاں یزید کیلئے اور یزیدوں کیلئے یوں آج کی کربلا میں بھی حالات خراب ہیں یزیدیوں کیلئے اور یزید کے نمک خواروں کیلئے گویا حسینی قبیلے کے افراد کل بھی فتحیاب تھے اور آج بھی کامران ہیں بلکہ رہتی دنیاتک سرفرار رہیں گے۔ یہ دنیا تو ویسے بھی مہمان سرا ہے زندگی خواب ہے دیوانے کا اور شہادت تو مطلوب و مقصودِ مومن ہے۔
؂ زندگی خوابِ پریشان ہے کوئی کیا جانے
موت کی لرزشِ مژگاں ہے کوئی کیا جانے
رامش و رنگ کے ایوانوں میں لہلائے حیات
صرف اکِ رات کی مہمان ہے کوئی کیا جانے (جوش ملیح آبادی)

شہید علامہ آفتاب جعفریؒ اکثر اپنی مجالس، تقاریر، محافل اور گفتگو میں یہ کہا کرتے تھے کہ زندگی میں جس شخص کا تعلق جس پارٹی سے ہوتا ہے آخرت میں بھی وہ اسی تنظیم کے نام سے اٹھایا جائے گا لٰہذا مومنین کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے اور مان لینا چاہیے کہ وہ کربلا کی تحریک کے رکن ہیں باالفاظِ دیگر مومنین کا کردار ایسا ھونا چاہئے کہ جیسے وہ اپنے گھر میں، اپنے معاشرے میں، اپنے اردگرد”سفیرحسین ؑ "ہیں لٰہذااعمال و گفتار ایسے ھوں کہ جن سے عکسِ عاشور نمایاں ہو عشقِ کربلا نمایاں ہو۔۔۔!
؂حاکمِ شہر کو دن رات جھنجوڑا ہم نے
خوش کلامی کا قرینہ نہیں چھوڑا ہم نے (منظرایوبیؔ )

شہید آغا آفتاب جعفریؒ نہایت منفرد شخصیت کے حامل تھے وہ وفا کے پیکر ، استقامت کے کوہِ گراں، سیلم الخیال اور اخلاقیات کا اعلیٰ معیار تھے ان کی زندگی کُھلی کتاب تھی جس میں نہ تحریض، نہ بے جا خود نمائی کبھی نظر آئی وہ ہمیشہ قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں پر سختی سے قائم رہے اور جہاں جہاں تک ممکن ہوسکا انہوں نے یہی پیغامِ قرآن و اہلبیتِ ؑ دنیا بھر میں عام کیا وہ ہر سال یکم تا9محرم الحرم سینٹرل جیل کراچی میں مجالسِ عزا سے طاغوت شکن خطاب کیا کرتے جس میں نہ صرف شیعہ بلکہ برادرانِ اہل سنت کی بھی بڑی تعداد شرکت کرتی یوں ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین بھی ان مجالسِ حسینیؑ سے بھرپور استفاد کرتے آپ کی عادت تھی کہ آپ مجالس کو آج کی کربلا سے ضرور جوڑتے اور ہر عزادار کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ آپ لشکرِ حسین ؑ کے سپاہی ہو یوں وہ امام مہدی ؑ کی راہ ہموار کرنے میں مسلسل مصروفِ عمل رہے یہی نہیں بلکہ فلسطین کا مسئلہ ہو یا کشمیر کی تحریکِ آزادی وہ ہر فورم پر کھل کراظہارِ خیال کرتے یہاں تک کہ کراچی کی ٹارگٹ کلنگ، کوئٹہ میں شیعوں کی نسل کشی، پاراچنارا کی بندش، گلگت و بلتستان میں ملتِ جعفریہ کے خلاف ھونے والی سازشوں کو بھی مسلسل بے نقاب کرتے ر ہے یوں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں میں اپنی موجودگی کو یقینی بناتے آپ کراچی کے مرکزی عشرۂ جلوس میں ریڈیو پاکستان پر مصائب عصرِ عاشور پڑھا کرتے تھے اس میں اپنے لئے شہادت کی دُعا ضرور مانگتے تھے مگر اس میں شدت سانحہ عاشور کراچی کے بعد سے آئی کہ ہمیشہ اپنی موت کو مرگِ شہادت کی حاجت والتجاسے جوڑا کرتے یوں اللہ تعالٰی نے ان کی دُعاقبول فرمائی اور انہیں بھی شہدائے راہیانِ کربلا میں شمار فرمایاجو یقیناًہر مو من کی آرزو ہوا کرتی ہے۔
؂منسوب ھوں اتنا تیرے کربل کی زمیں سے
میں دفن کہیں ھوں مگر اٹھوں گا وہیں سے

آغا آفتاب ؒ کی ایک اور سب سے منفرد اوریگانہ بات یہ تھی کہ کراچی کے وہ علاقہ جنہیں تشیع کی مقتل گاہ بنادیا گیا ہے وہاں شہداء کی نمازِ جنازہ، مجلسِ سوئم، مجلسِ چہلم و برسی میں شرکت اور مجلس پڑھنااپنا فرضِ اولین سمجھتے تھے ان علاقوں میں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ، کورنگی، ناظم آباد، نیوکراچی اور سرجانی ٹاؤن قابلِ ذکر ہیں، آپ صرف ملّی کاموں میں ہی نہیں بلکہ فلاحی اُمور میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے پاکستان میں بدترین زلزلے ہوں یا تباہ کن سیلاب آپ ہرمقام پر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنا حصہ ڈالتے تھے۔ یوں احسن انداز میں ایک منظم شہری کے فرائض ادا کرتے۔
؂ایک ایک کرکے سارے شہیدوں میں ضم ہوئے
جو لوگ میرے حلقہءِ احباب میں تھے وہ (عابد جعفری)
شہید آفتاب جعفریؒ ملت کے ہر شعبے میں اپنا فعال کردار بچپن سے ہی ادا کرتے نظر آتے ہیںیعنی زمانہ ء طالب علمی میں آئی ایس او سے وابستگی رہی اس کے ساتھ ساتھ حیدریؑ اسکاؤٹس سے وابسطہ رہے ، مجلسِ ذاکرینِ امامیہ کے عہدے دارون میں رہے، جعفریہ الائنس کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ھوتا رہا اور آخر میں MWMمیں مصروف عمل رہے ۔۔۔۔۔ان کے علاوہ شہید فاؤنڈیشن سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے نہ صرف چرمِ قربانی اور دیگر معاونت کیا کرتے بلکہ دیگر مومنین کی بھی اس جانب توجہ مبذول کراتے تھے کہ شہداء نے اپنا فرض نبھایا اب بچ جانے والوں کو بھی اپنا فرض اچھے انداز میں ادا کرنا چاہئے کہ ہر سطح پرام، درہم اورسُخنِ ملت کی تمام تنظیموں اور اداروں کی مدد کرنی چاہئے۔۔۔۔۔۔
آفتاب صاحب ؒ کی شہادت پر جس قدر عوام و خواص کی جانب سے دکھ و افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ ان سے کتنا پیار کرتے تھے ان کی شہادت پر امریکہ، یورپ، افریقہ سمیت کئی ملکوں میں جبکہ اسلام آباد، لاہور، سکھر، حیدرآباد، کوئٹہ، لاڑکانہ، خیرپور، سکردو، اور نہ جانے کہا ں کہاں مظاہرے اور مجالسِ ترحیم نہیں ہوئیں اور کراچی کا شاید ہی کوئی امام بارگاہ ہو جہاں آپ کی بلندیء درجات کیلئے قرآن خوانی و مجالس کا اہتمام نہ کیاگیا ھو یہ آپ کی عزت و تکریم ہے جو آپ کے خلوصِ دل کے کاموں کی وجہ سے آپ کو اس جہاں میں ملی اور انشاء اللہ آخرت میں بھی اعلیٰ علین میں شمار ھوں گے (آمین) فی زمانہ شہرت کا حصول تو آسان ہے شاید یہ آپ کے اپنے ہاتھ میں بھی ہو لیکن دنیاوی و اُخروی عزت کی سعادت صرف اسے ہی ملتی ہے جِسے اللہ نوازے۔۔۔۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی بلند فکری، تقویٰ و پرہیزگاری اور عمل صالح کے سبب شہادت نے آپ کا انتخاب کیا یوں آپ کے مقدس لُہو کی حرارت سے ملّت میں ایک نیا حوصلہ وجذبہ آیا ہے کیونکہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔۔۔۔۔
آپ کی فکری شائستگی اتنی اچھی تھی کہ غیر محسوس انداز میں دوستوں سے باتوں باتوں میں بڑی بڑی اصلاحی باتیں کر جاتے مثلاً وہ آئی ایس او کی وال چاگنگ کو عموماًکہا کرتے تھے کہ ایسی ہونی چاہئے کہ ملّت کی سنجیدگی کی جھلک نظرآئے کیونکہ آئی ایس او ملتِ جعفریہ پاکستان کا افتخارہے اسی طرح نعروں کا انتخاب بھی اچھا ہونا چاہئے تاکہ سننے اور پڑھنے والوں پر ہماری یادوں کے اچھے نقوش تعمیر ہوں ۔ دستہء امامیہ کے ہمراہ کبھی مجالس پڑھنے اندونِ ملک جانا ہوا کرتا تو آپ سب کے ساتھ جانا پسند کرتے الگ پروٹوکول کا کبھی ذکر تک نہ کرتے ساتھ ساتھ جونےئر و سنئیر کی محسوس اور غیر محسوس انداز میں تربیت کرتے رہتے یہ سلسلہ آپ کا تادمِ شہادت جاری رہا۔۔۔۔۔۔
؂قلم اداس ہے الفاظ مل نہیں پاتے
گربیاں چاک ہوئے ہیں جو سل نہیں پاتے (پروفیسر نثار شیخ)
شہید آفتاب صاحبؒ کی یاد داشتیں مجالس و تقاریر کی صورت شائع ہوسکتی ہیں اور کتابی شکل میں ان کا شگفتہ انداز مومنین کو امرونہی کی دعوت دے سکتا ہے لہٰذا شہید کا ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم اُن کے آثار محفوظ کریں اور انہیں عوام و خواص کے سامنے پیش کریں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کے آثار نمایاں ھوسکیں ۔ ویسے بھی ایسے دل دار اور دل گیر لوگ اب خال، خال پائے جانے لگے ہیں جنہوں نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒ کا سنہری دور دیکھا جب پاکستان سمیت دنیا بھی میں تشیع تحریک بامِ عروج پر تھی جوسلسلہء علم و عمل ماشاء اللہ جاری و ساری ہے، مگر قافلہء حُریت کی رفتار نسبتاً کم ہے جسے شہداء کے پاک لہو کی وجہ سے تیزگی تو آنی چاہئے تاکہ ظہورِ امام مہدی ؑ ھو اور یہ روز روز کا قصہ تمام ہوجائے یعنی
؂دُعا کروکہ ظہورِ امامؑ ہوجائے
یہ روز روز کا قصہ تمام ہوجائے (سرفراز ابدؔ )
شہید آغا آفتاب جعفریؒ مسافرِ کربلا تھے جن کی عظمت کو دوستوں ہی نے نہیں دشمنوں نے بھی سلام کیا کیونکہ واقعاً آپ عظیم المرتبت شخصیت کے حامل تھے شہید کی عظمت و بلندی کے حوالے سے جو میں لکھنا چاہ رہا تھا نہیں لکھ یایا، دل و دماغ پر اک عجب سا سوز و بوجھ ہے کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کب تک جاری رہے گی؟ہمارے اکابرین، ہمارے علماء ، ڈاکٹرز، انجینئرز، افسران اور اعزاداروں اس طرح کب تک لقمہء تر بنتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔؟ اس پر قانون نافظ کرنے والوں کی مجرمانہ غفلتیں اور حکمرانوں کی بے حسی کب تک جاری رہے گی۔۔۔۔۔۔۔ہمیں یقین ہے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ہمارے شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ انقلاب لائے گا۔اللہ ایک نہ ایک دن ظالم کو ظالم سے لڑائے گایوں دشمنانِ اسلام و پاکستان تباہ و برباد ہوکر رہیں گے۔ میری اس بے ربط تحریر پر مجھے معاف فرمائیے گا اور شہداء و صدیقین کی بلندیء درجات کے لیے دُعا کیجئے گا کہ مقصدِ تحریک کربلا میں اور بقائے عزاداری کی خاطر شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہئے یوں ہم بھی اللہ ربِ العزت سے ان کے درجات کی بلندی کیلئے تادمِ شہادت و مرگ دُعاگو رہیں گے(انشاء اللہ و آمین)
؂ہر سمت شہر میں ہے فقط قاتلوں کا راج
حاکم بھی ڈرکے دینے لگاہے انہیں خراج
کوشش یہی ہے اس کی رہے اسکا تحت و تاج
لفظی تسلیوں کے سوا کیا بچا ہے آج

(فیروز خسرو)

از قلم:- سید زوّار زیدیؔ

متعلقہ مضامین

Back to top button