سعودی رجیم کو ملنے والی صیہونی انٹیلیجنس پر خاموشی، یمن مخالف خطبے نے طاہر اشرفی کا دوہرا معیار بے نقاب کر دیا
شیعیت نیوز : چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے جمعہ 16 اکتوبر کو لاہور میں عربی زبان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے یمن کی مزاحمتی تحریک انصاراللہ کو ’’دہشت گرد ملیشیا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’ہم حوثی ملیشیا کو، اس کی پشت پناہی کرنے والوں کو اور ان کے عزائم کو جانتے ہیں، اور انہیں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرنے دیں گے‘‘، جبکہ اسی روز جاری بیان میں انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ ’’غیر مشروط یکجہتی‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے مقدس مقامات پر حملے دہشت گردی اور فساد فی الارض ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : حرمین شریفین کے نام پر عوام کو مشتعل کرنا اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانا خطرناک ہے، علامہ سید جواد نقوی
اپنے خطبے میں حافظ طاہر اشرفی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’’حوثی مساجد پر حملے کرتے ہیں اور بے گناہوں، بچوں، عورتوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو قتل کرتے ہیں‘‘، اور اعلان کیا کہ ہم اپنا مال، اپنی جانیں اور اپنی اولاد حرمین شریفین پر قربان کریں گے۔ مگر جس جمعے کو وہ لاہور کے منبر سے یمنیوں پر بچوں کے قتل کا الزام لگا رہے تھے، اسی روز سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے صوبہ ذمار کے ضلع ضوران آنس میں رہائشی گھروں پر عالمی سطح پر ممنوعہ کلسٹر بم برسائے جن میں ایک ہی خاندان کے تین بچے شہید اور خواتین سمیت 15 افراد زخمی ہوئے، جبکہ یمنی وزارت خارجہ کے مطابق آل سعود نے 12 برسوں میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں اور مساجد تک کو نشانہ بنایا ہے، لیکن اس پر حافظ صاحب کی زبان سے مذمت کا ایک لفظ بھی نہ نکلا۔
حافظ طاہر اشرفی کا دعویٰ ہے کہ وہ جانتے ہیں ’’حوثیوں کے پیچھے کون ہے‘‘، تو ان سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ آل سعود کے پیچھے کون کھڑا ہے؟ یورپی ذرائع ابلاغ نے 17 اکتوبر کو صیہونی سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ غاصب اسرائیل نے امریکی ثالثی کے ذریعے انصاراللہ کے خلاف سعودی عرب کو انٹیلیجنس معلومات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں، ریاض کی درخواست واشنگٹن کے راستے تل ابیب تک پہنچی، اور امریکی نمائندوں نے قاہرہ میں ہونے والی بات چیت میں کہا کہ اسرائیل یمن کے خلاف اپنے جنگی تجربے کی بنیاد پر سعودی عرب کو وسیع انٹیلیجنس مدد دے سکتا ہے۔ ایک صیہونی اخبار نے بھی 13 اور 16 اکتوبر کی تفصیلی رپورٹس میں لکھا کہ سعودی عرب نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ذریعے انصاراللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سے انٹیلیجنس مانگی، جبکہ صیہونی ذرائع ابلاغ ستمبر کے وسط میں ہی یہ انکشاف کر چکے تھے کہ صیہونی انٹیلیجنس سینٹکام کے راستے ریاض پہنچ رہی ہے۔
17 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر حافظ طاہر اشرفی نے طنزیہ سوال اٹھایا کہ حوثیوں اور ان کے اتحادیوں نے فلسطین کے لیے کیا کیا، اور خود ہی جواب دیا ’’کچھ نہیں‘‘۔ شاید حافظ صاحب بھول گئے کہ یمن نے غزہ کی حمایت میں بحیرہ احمر میں صیہونی جہاز رانی کا راستہ روکا اور اسی ’’جرم‘‘ میں صنعاء اور حدیدہ پر صیہونی بمباری سہی، جبکہ آج وہی آل سعود جس کی وکالت میں وہ منبر گرما رہے ہیں، غزہ کے قاتل غاصب اسرائیل سے مخبری لے کر یمن کے مسلمانوں پر بم برسا رہا ہے۔ قبلۂ اول پر قابض صیہونیوں کی آنکھوں سے یمنی بچوں کو نشانہ بنانے والوں کی حمایت کو حرمین شریفین کا دفاع کہنا امت مسلمہ کے ساتھ کھلا مذاق ہے، اور یہ درباری بیانیہ دراصل امت کو تقسیم کرنے والے تکفیری اور صیہونی ایجنڈے ہی کی خدمت ہے۔







