بن سلمان کو ہٹانے کے لیے سعودی عرب کے اندر کسی بھی انقلابی اقدام کی بھرپور حمایت کریں گے، محمد البخیتی
محمد البخیتی
شیعیت نیوز : یمنی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے اعلان کیا ہے کہ یمن، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے سعودی عرب کے اندر اٹھنے والے کسی بھی انقلابی اقدام کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان نے یمن پر جارحیت اس خام خیالی کے ساتھ شروع کی تھی کہ وہ مختصر وقت میں فتح حاصل کر لیں گے، لیکن جب انہیں احساس ہوا کہ فوجی طاقت کے ذریعے کامیابی ممکن نہیں، تو انہوں نے 2017 سے طویل جنگ کی حکمت عملی اپنا لی جو کہ خود سعودی عرب کے مفاد میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دشمنوں کو نہ معاف کریں گے نہ بھولیں گے، ایرانی وزیر خارجہ
البخیتی نے واضح کیا کہ سعودی بنیادی ڈھانچے پر یمنی کارروائیوں کا مقصد انتقام نہیں، بلکہ بن سلمان کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ محفوظ رہ کر یمن کے خلاف جارحیت جاری نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بن سلمان نے ہٹ دھرمی جاری رکھی تو کئی دہائیوں میں تعمیر ہونے والا سعودی بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو سکتا ہے، جس کی قیمت سعودی عرب کو یمن سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔ یمن کے منصفانہ مطالبات میں جنگ کا خاتمہ اور دونوں جانب سے محاصرہ اٹھانا شامل ہے۔
انہوں نے سرزمین حرمین شریفین کے عوام پر زور دیا کہ بن سلمان کی حکمرانی اب سعودی عرب کے مفاد میں نہیں رہی، اس لیے انہیں آگے آنا ہوگا۔ محمد البخیتی نے اعلان کیا کہ انصاراللہ سعودی عرب میں کسی بھی عوامی تحریک، اسلامی بیداری کی تحریک (جس کے ہزاروں کارکنان بن سلمان کی جیلوں میں قید ہیں) یا شاہی خاندان کے اندر سے بن سلمان کو ہٹانے کی کسی بھی کوشش کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی، تاکہ عوام کے پیسوں اور حج و عمرہ کی آمدن سے تعمیر ہونے والے بنیادی ڈھانچے کو تباہی سے بچایا جا سکے۔







