جنگی مجرم صیہونی وزیراعظم امریکی خون کی بازی لگا کر خود کو بچانا چاہتا ہے، ایرانی وزیر خارجہ
عباس عراقچی
شیعیت نیوز : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو انصاف سے بچنے کے لیے مزید امریکی جانوں اور وسائل کی قربانی دے کر خود کو بچانے کی مذبوحانہ کوشش کر رہا ہے۔ ہفتے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں عراقچی نے نیتن یاہو کو ایک مطلوب جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ہاتھ عربوں، امریکیوں اور ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ناوی پیلای کو نوبل امن انعام کا ملنا غزہ کے لیے انصاف کی جانب اہم قدم ہے، حماس
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انصاف سے فرار کے لیے نیتن یاہو کو اپنے ہی لوگوں کی جانوں کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے صیہونی وزیراعظم کو ایک بدترین جواری سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مزید امریکی خون بہا کر اور امریکی وسائل جھونک کر خود کو بچانے کی مایوسانہ کوشش کر رہا ہے، یہاں تک کہ اب امریکی سینیٹرز بھی اس سے نکلنا چاہتے ہیں۔
عراقچی نے اپنے پیغام کے ساتھ نیتن یاہو کے سابق ملٹری سیکریٹری میجر جنرل آوی گل کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جو جولائی 2021 سے مئی 2024 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ آوی گل کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے قبل نیتن یاہو کو اندرونی طور پر جنگ کے امکان سے خبردار کیا گیا تھا اور عوام کے علم میں موجود حقائق اور اصل واقعات کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے والے اہم انتخابات میں چند ہفتے باقی ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری کے اواخر میں صیہونی خفیہ ایجنسی شن بیت کے پانچ سابق سربراہان سمیت 36 سابق اسرائیلی عہدیداروں نے کہا تھا کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن کی راہ ہموار کرنے والی فوجی اور انٹیلیجنس ناکامیوں کی تمام تر ذمہ داری نیتن یاہو پر عائد ہوتی ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے بعد غاصب اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی مہم شروع کی جس میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 75 ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔







