آئیڈیل امامیہ نوجوان محض ایک نعرہ نہیں، فکری اور تربیتی کردار کا نام ہے، سید انجم رضا
آئی ایس او پاکستان
شیعیت نیوز : معروف تجزیہ کار سید انجم رضا نے اپنے ایک خصوصی کالم میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) پاکستان کے مرکزی کنونشن کے تناظر میں ’’آئیڈیل امامیہ نوجوان‘‘ کے تصور پر تفصیلی اور فکر انگیز روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ موضوع محض ایک تنظیمی سوال نہیں بلکہ ایک فکری، تربیتی اور اجتماعی سوال ہے۔ امامیہ نوجوان کی شناخت صرف اس کے نام یا لباس سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق، علم، تقویٰ اور انسان دوستی سے ہونی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک امامیہ نوجوان کا آئیڈیل وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہیں مکتبِ اہل بیتؑ نے ہمارے لیے نمونۂ عمل قرار دیا ہے، بالخصوص میدانِ کربلا کے عظیم نوجوان کردار حضرت قاسمؑ اور حضرت علی اکبرؑ، جو مقصد، وفاداری اور قربانی کے شعور کی اعلیٰ ترین علامت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : راولپنڈی اور بارہ کہو میں درسِ نہج البلاغہ کی نشستوں کا انعقاد، علمائے کرام کا خطاب
سید انجم رضا نے عصرِ حاضر کے جدید چیلنجز، سوشل میڈیا کی یلغار، مصنوعی ذہانت اور فکری انتشار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آج کے نوجوان کو اپنے ایمان اور شعور کو مسلسل تازہ (اپ ڈیٹ) رکھنے کی ضرورت ہے۔ امامیہ نوجوان کو چاہیے کہ وہ جدید دور میں محض معلومات کا صارف بننے کے بجائے علم، تحقیق اور مثبت ابلاغ کا فعال کردار ادا کرے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ اور میڈیا سمیت دیگر شعبوں میں مہارت حاصل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ نوجوان کو چاہیے کہ وہ خود کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کے بجائے اصلاح اور خدمت کے ذریعے معاشرے کا مؤثر حصہ بنے۔
انہوں نے آئی ایس او کے بنیادی تربیتی فلسفے ’’Enter to Learn, Leave to Serve‘‘ (سیکھنے کے لیے داخل ہوں، خدمت کے لیے نکلیں) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس او سے وابستہ نوجوان کا سفر تنظیمی وابستگی کے اختتام پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ عملی زندگی میں قدم رکھ کر معاشرے کی خدمت کا نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے تنظیم کے سابقین (Alumni) کو ان کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے زور دیا کہ جس شجرۂ طیبہ نے انہیں سایہ اور ثمر دیا ہے، اسے مزید مضبوط اور سایہ دار بنانے کے لیے وہ اپنا عملی کردار ادا کریں اور چراغ سے چراغ روشن کرنے کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے نئی نسل کی رہنمائی کریں۔







