مکہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے، اہل یمن حرمین کے محافظ ہیں حملہ آور نہیں، مفتی گلزار احمد نعیمی
مفتی گلزار احمد نعیمی
شیعیت نیوز : اہل سنت کے ممتاز عالم دین، جامعہ نعیمیہ کے پرنسپل اور جماعت اہل حرم پاکستان کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے مکہ مکرمہ پر یمنی فوج کے حملے کے جھوٹے پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اہل یمن حرمین شریفین کے محافظ ہیں، حملہ آور نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی رجیم کی جانب سے یہ ڈس انفارمیشن پھیلائی جا رہی ہے کہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون داغے ہیں، جبکہ حوثی (انصار اللہ) مسلسل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ انہیں اس سعودی دعوے کی تردید کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہے، کیونکہ یہ بات سراسر جھوٹ، دجل اور فریب پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مکہ پر حملے کا دعویٰ سعودی رجیم کا جھوٹ ہے، یمنی عوام مقدسات کے حقیقی محافظ ہیں، مہدی المشاط
اہل یمن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حوثی رسول اللہ (ص) سے بے مثال محبت کرنے والی قوم ہیں۔ جس قوم کے لیے نبی کریم (ص) نے برکت کی دعائیں کی ہوں اور جو میلاد النبی (ص) کے موقع پر دنیا کا سب سے بڑا جلوس نکالنے کا اعزاز رکھتی ہو، وہ نبی (ص) کے شہر پر کیسے حملہ کر سکتی ہے؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اہل محبت ہیں، جو حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے تو پیش کر سکتے ہیں لیکن حرمین پر حملہ نہیں کر سکتے۔
مفتی گلزار نعیمی نے پاکستان میں جاری سوشل میڈیا بحث کے حوالے سے عوام کو تحمل کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ خلیج ہے، پاکستان نہیں، لہٰذا پروپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن سے گریز کیا جانا چاہیے۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستانی عوام اور پاک فوج اپنا خون دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔
خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو رہا ہے اور اس کے ‘گریٹر اسرائیل’ کے منصوبے کو جمہوری اسلامی ایران کی بہترین اور قابلِ ستائش حکمت عملی نے خاک میں ملا دیا ہے، جس کی وجہ سے آج مغرب تقسیم ہو چکا ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج امت مسلمہ متحد ہو کر چند کاری ضربیں لگائے تو آنے والی صدیوں تک دنیا پر راج کر سکتی ہے۔
انہوں نے سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کو حرمین شریفین کے تحفظ کے نام پر حجاز مقدس میں قدم رکھنے کا موقع دیا گیا تو امت مسلمہ اسے کبھی برداشت نہیں کرے گی اور نہ ہی ایسا کرنے والے ذمہ داروں کو معاف کرے گی۔ مصر یا کوئی دوسرا ملک بھی ایسی معاونت کی کوشش نہ کرے۔







