راولپنڈی اور بارہ کہو میں درسِ نہج البلاغہ کی نشستوں کا انعقاد، علمائے کرام کا خطاب
شیعیت نیوز : مرکز افکار اسلامی کے زیر اہتمام معاشرے میں امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے عظیم علمی، فکری اور اخلاقی پیغام کو عام کرنے کے لیے درسِ نہج البلاغہ کی نشستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں راولپنڈی اور بارہ کہو میں اہم علمی نشستیں منعقد ہوئیں جن میں جید علمائے کرام نے کلامِ امیرالمؤمنین (ع) کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
تفصیلات کے مطابق، مسجد فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، راولپنڈی میں منعقدہ نشست سے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا لیاقت علی اعوان نے خطاب کیا۔ انہوں نے نہج البلاغہ کے مختلف اقتباسات کی روشنی میں قرآن کریم کے فضائل اور امیرالمؤمنین (ع) کی زبانی سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہم پہلو بیان کیے اور حاضرین کو اس عظیم کلام سے بھرپور استفادہ کرنے کی دعوت دی۔
یہ بھی پڑھیں : اسلامی بینکاری میں مکتبِ جعفریہ کے علمی کردار کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی
دوسری جانب، مسجد محمدی، بارہ کہو (محلہ مہدی آباد) میں درسِ نہج البلاغہ کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا فرحت حسین نے خطبہ نمبر 218 کی تشریح کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خطبہ سورۃ التکاثر کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حضرت علی علیہ السلام صرف ایک مبلغ نہیں بلکہ عظیم مفسرِ قرآن بھی تھے اور ان کی علمی شخصیت کا نمایاں پہلو قرآن کے معانی و حقائق کو واضح کرنا ہے۔
مولانا فرحت حسین نے انسان کو دنیا کی حقیقت اور موت کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ قبرستان فخر کا نہیں بلکہ عبرت اور نصیحت کا مقام ہے۔ انہوں نے انسان کی کمزوری اور موت کی کیفیات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ دنیاوی طاقتیں اور سہولیات ایک وقت کے بعد ساتھ چھوڑ دیتی ہیں اور بالآخر انسان کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ مرکز افکار اسلامی کے مطابق، نہج البلاغہ کی تعلیمات کو عام کرنے کا یہ علمی و فکری سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔







