امریکہ اور ایران تنازع کی بنیادی وجہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت ہے، ملائیشین وزیراعظم

13 ستمبر, 2026 10:46

شیعیت نیوز : ملائیشین وزیرِاعظم انور ابراہیم نے بھارتی ٹی وی چینل ’’این ڈی ٹی وی‘‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ تنازع واشنگٹن کی جانب سے تہران کے خلاف غیرقانونی جارحیت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تنازع پر کسی بھی بحث کا آغاز امریکہ اور صیہونی حکومت کی ’’ابتدائی جارحیت‘‘ کے ذکر سے ہونا چاہیے۔

ملائیشین وزیرِاعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی برادری اور بیشتر ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ محاذ آرائی کی بنیادی وجوہات کو تسلیم کرنے اور حقائق بیان کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی مسلسل امریکی اور اسرائیلی جارحیتوں کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ پر اعتماد دھوکہ ہے، این پی ٹی (NPT) سے دستبرداری ایران کے لیے انتہائی آسان قدم ہے، ایرانی رکن پارلیمنٹ

انور ابراہیم نے خطے میں قیام امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک پُرامن حل تک پہنچنا ناگزیر ہے۔ اگر دنیا امن کی بنیاد پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہتی ہے تو تشدد کا خاتمہ انتہائی اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ انصاف کی فراہمی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تشدد روکنے سے ان کی مراد امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کا خاتمہ ہے۔

این ڈی ٹی وی کی جانب سے خطے کی بدامنی کا ذمہ دار دونوں فریقوں کو ٹھہرانے کے سوال پر انور ابراہیم نے واضح کیا کہ تشدد کا فوری خاتمہ تو ضروری ہے، تاہم اس کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینا اور طاقت کے ابتدائی استعمال یعنی امریکی اور صیہونی جارحیت کو مدنظر رکھنا بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہ ایک خودمختار ملک کے خلاف بلاجواز جارحیت ہے اور ان کے لیے یہ بات بالکل واضح ہے۔

11:50 صبح ستمبر 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔