فوجی دفاع کی طرح علمی و فکری دفاع بھی ناگزیر ہے، آیت اللہ حسینی بوشہری
آیت اللہ حسینی بوشہری
شیعیت نیوز : جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے سربراہ آیت اللہ حسینی بوشہری نے کہا ہے کہ جس طرح ملک کے لیے دفاعی جدوجہد ناگزیر ہے، اسی طرح علمی، فکری اور تحقیقی جدوجہد بھی کسی صورت نہیں رکنی چاہیے۔ قم میں مجتمع آموزشی و پژوهشی ائمہ اطہارؑ کے نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ دشمن فوجی اور سیاسی ذرائع کے ساتھ ساتھ فکری سطح پر بھی اسلام، تشیع اور دینی اقدار کے خلاف شبہات پیدا کر رہا ہے، جن کا مؤثر جواب دینے کے لیے حوزہ علمیہ کو مضبوط علمی و تحقیقی بنیادیں فراہم کرنا ہوں گی۔
مزید پڑھیں : حملہ آور کے پشیمان ہونے تک پوری قوت سے مزاحمت جاری رکھیں گے، ایرانی صدر
آیت اللہ بوشہری نے عظیم عالمِ دین شیخ انصاریؒ کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے جدید سماجی، اقتصادی، طبی اور حکومتی مسائل کو فقہی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہمیں نئے دور کے ‘شیخ انصاریوں’ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حوزہ کی روایتی اور بنیادی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے پر زور دیا۔ آخر میں انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ گزرتے وقت اور تعلیمی مواقع کی قدر کریں اور اپنی علمی و روحانی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کریں۔







