امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ایرانی وزیر خارجہ
عراقچی
شیعیت نیوز : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں 60 روزہ جنگ بندی کا نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ دہشتگرد امریکی حکومت کی جانب سے اس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے بعد دوبارہ کشیدگی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو 60 دن زیر بحث تھے، وہ کسی جنگ بندی کی مدت نہیں بلکہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا موقع فراہم کرنے کی مدت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ کو آبنائے ہرمز میں “سانس لینے کا موقع” نہیں دے گا، ایلن آئر کا تجزیہ
عراقچی نے بتایا کہ ثالث ممالک قطر اور پاکستان مختلف پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم ان رابطوں کو مذاکرات قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے بالکل الگ ہے اور اس کا تعلق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے سمندری راستوں کے تعین سے ہے۔ عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز میں پہلے سے موجود بحری راستے اب قابل استعمال نہیں رہے، اس لیے ایک نیا راستہ متعین کرنا ضروری ہے۔ ایران اور عمان اس وقت ایک عارضی بحری راستے کے ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں، جسے بعد میں حتمی راستے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔







