آیت اللہ اعرافی کا مکہ معائدے پر ردعمل
آیت اللہ اعرافی
شیعیت نیوز : قم کے امام جمعہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ایران کی حالیہ جنگ اور مزاحمت کو عالمی و تہذیبی سطح پر اہم تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ نے دنیا کے سامنے آٹھ اہم اسباق پیش کیے، جن میں عالمی اخلاقی و قانونی نظام کی ناکامی، دہشتگرد امریکی حکومت اور دہشتگرد اسرائیلی رجیم کی حقیقت کا آشکار ہونا اور مزاحمت کی اہمیت کا دنیا پر واضح ہونا شامل ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ مزاحمت دراصل بڑے اہداف کے حصول کے لیے ایک دانشمندانہ صبر کا نام ہے۔ انہوں نے حالیہ جنگ کے آٹھ اہم اسباق بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا سبق معاصر دنیا میں اخلاقی نظام کا انہدام ہے، دوسرا عالمی قانونی و بین الاقوامی نظام کی ناکامی ہے، تیسرا امریکہ اور صہیونی حکومت کی حقیقی ماہیت کا آشکار ہونا ہے، چوتھا دشمن کے وعدوں اور مذاکرات پر اعتماد کی ضمانت نہ رہنا، پانچواں خطے کے ممالک کا امریکہ سے عاریتی سلامتی کو فائدہ مند نہ سمجھنا، چھٹا امریکہ کو "شیشے کے محل” سے تعبیر کرنا، ساتواں ایرانی قوم کا عزم و استقامت، اور آٹھواں اور اہم ترین سبق یہ ہے کہ دنیا نے مزاحمت کی قدر و قیمت کو سمجھ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چھ ماہ کی جنگ کے بعد امریکہ کا اعتراف: ایران کی مزاحمت نے دہشت گرد ٹرمپ کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کے تسلسل کے لیے بیداری، بصیرت، شجاعت، میدان میں موجودگی، سائنسی و تکنیکی ترقی، اجتماعی اتحاد اور قیادت کی پیروی ضروری ہے۔ انہوں نے مضبوط عسکری و دفاعی طاقت کو آج کے دور میں ملک کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے جهادی طرزِ مدیریت اور عوامی تعاون پر زور دیا۔ آیت اللہ اعرافی نے اربعین کے شاندار انعقاد کو ایک عظیم تہذیبی سرمایہ قرار دیا اور مزاحمت کے دو بنیادی عناصر عزتِ نفس اور صبر کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب صبر معاشرے کی اجتماعی ثقافت بن جائے تو قوم مشکلات کے مقابلے میں شکست ناپذیر ہو جاتی ہے۔







