امریکہ کے ایران پر حملے، پل اور سڑکیں شہید، فوجی صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں
شیعیت نیوز : امریکہ کے ایران پر حملے صرف پل اور سڑکیں شہید کر رہے ہیں۔
امریکہ صرف ایران کے پلوں، سڑکوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنا رہا ہے، لیکن اس سے ایران کی فوجی صلاحیتوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا۔
ایران نے چالیس سالوں سے اسی جنگ کی تیاری کی ہے۔ ایران کی 90 فیصد فوجی صلاحیتیں زیر زمین بہت گہرائی میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کویت میں علی السالم ایئربیس پر ایرانی میزائل حملے میں دو یوروفائٹر ٹائفون جیٹس تباہ
میزائل اور ڈرونز بنانے کی فیکٹریاں، اسلحہ سٹوریج اور ترسیل کے لیے سرنگیں — یہ سب زیر زمین ہیں۔ ان کی گہرائی 250 فٹ سے لے کر 1600 فٹ تک ہے۔ کچھ پورے کے پورے میزائل شہر پہاڑوں کے نیچے ہیں ان تک پہنچنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔
جس راستے یا پل پر بمباری ہوتی ہے اگلے ہی دن ایرانی عوام اور سپاہ اس کو تعمیر کر لیتے ہیں یا اس کا متبادل بنا لیتے ہیں۔
ایران کی سٹریٹیجی یہ ہے کہ آگے بڑھنے سے پہلے اپنے دروازے کے سامنے عرب ملکوں میں امریکی اڈوں کا کباڑا کیا جائے۔ پہلے اسرائیل پر ہونے والے حملوں کو 50 فیصد انہیں اڈوں کے دفاعی نظام روک لیا کرتے تھے۔ امریکہ کے یہ اڈے جب 70 سے 80 فیصد تک ناکارہ ہو جائیں گے تب امریکہ کے پاس اس خطے سے بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔







