حضرت ابا الفضل العباسؑ کی وفاداری، پانی دیکھ کر بھی نہ پیا
شیعیت نیوز : تاسوعائے حسینی اور حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے ایامِ عزاداری کی مناسبت سے حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کی شہادت کے واقعے کی ایک اہم روایت حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے تہران کی جمعہ کی نماز (26 فروردین 1379 شمسی / 14 اپریل 2000ء) کے خطبے سے نقل کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تمنائے علیؑ: حضرت عباسؑ علیہ السلام
حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کی وفاداری سب سے زیادہ اسی واقعے میں ظاہر ہوتی ہے کہ وہ شریعۂ فرات یعنی فرات کے کنارے پہنچے اور پانی نہیں پیا۔
معتبر کتابوں (جیسے ارشادِ مفید اور لہوفِ ابن طاؤس) کے مطابق آخری گھڑیوں میں بچوں، چھوٹی بچیوں اور اہلِ حرم پر پیاس نے اس قدر شدت اختیار کی کہ خود امام حسین علیہ السلام اور اباالفضل علیہ السلام اکٹھے پانی کی طلب میں نکلے۔ حضرت اباالفضل علیہ السلام اکیلے نہیں گئے بلکہ خود امام حسین علیہ السلام بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے اور شریعۂ فرات کی طرف بڑھے۔
یہ دو بہادر بھائی، شانہ بہ شانہ، کبھی ایک دوسرے کی پشت پر، دشمنوں کے سمندر کے بیچ سے لشکر کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے تاکہ فرات کے پانی تک پہنچ سکیں۔
اس سخت جنگ کے دوران اچانک امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباسؑ کے درمیان فاصلہ پڑ گیا۔ حضرت اباالفضل علیہ السلام پانی کے قریب پہنچ گئے، مشکیزہ بھرا۔ جیسا ہی ان کی نظر پانی پر پڑی، فوراً امام حسین علیہ السلام کے پیاسے ہونٹ، بچوں کی العطش کی پکاریں اور علی اصغرؑ کی پیاس یاد آ گئی۔
ان کا دل نہ چاہا کہ پانی پیئیں۔ انہوں نے پانی کو زمین پر بہا دیا اور باہر نکل آئے۔ اسی وقت دشمنوں نے ان پر حملہ کیا اور امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی کی آواز سنی: "یا اخا ادرک اخاک” اے بھائی! اپنے بھائی (کی مدد) کو پہنچیں۔







