یکم محرم 61 ہجری: کربلا کا وہ میدان جہاں انسانیت کو حق و باطل کا فرق سکھایا گیا
شیعیت نیوز : یکم محرم 61 ہجری کا سورج طلوع ہوا تو شاید زمینِ کربلا کو بھی معلوم نہ تھا کہ چند ہی دنوں میں وہ تاریخِ انسانیت کا سب سے روشن باب اپنے دامن میں سمیٹنے والی ہے۔ فرات کے کنارے پھیلا ہوا ایک خاموش میدان، چند کھجوروں کے درخت، تپتی ہوئی ریت اور ایک مختصر سا قافلہ۔ بظاہر یہ ایک مسافر قافلہ تھا، لیکن حقیقت میں یہ انسانیت کے مستقبل کا قافلہ تھا۔ یہ وہ قافلہ تھا جو آنے والی نسلوں کو یہ سکھانے آیا تھا کہ حق کی حفاظت کے لیے کبھی کبھی تلوار سے زیادہ خون کی ضرورت پڑتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام جب اس سرزمین پر پہنچے تو دریافت فرمایا: “اس مقام کا نام کیا ہے؟” کسی نے کہا: نینوا۔ کسی نے کہا: غاضریہ۔ پھر عرض کیا گیا: “اس کا ایک نام کربلا بھی ہے۔” کربلا کا نام سنتے ہی امام حسینؑ کی نگاہیں آسمان کی طرف بلند ہوئیں اور آپؑ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَرْبِ وَالْبَلَاءِ» “اے اللہ! میں تجھ سے کرب اور بلا سے پناہ مانگتا ہوں۔” پھر آپؑ نے فرمایا: «هٰهُنَا مَحَطُّ رِحَالِنَا وَمُهْرَاقُ دِمَائِنَا وَمَدْفَنُ رِجَالِنَا» “یہی ہماری قیام گاہ ہے، یہی ہمارے خون بہنے کی جگہ ہے اور یہی ہمارے مردوں کی قبروں کا مقام ہے۔”
یہ کوئی عام جملہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے امام کا اعلان تھا جو اپنی منزل، اپنے انجام اور اپنے مقصد سے پوری طرح آگاہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ چند دن بعد اسی سرزمین پر حق و باطل کا ایسا معرکہ برپا ہوگا جس کی گونج قیامت تک سنائی دے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی قوم کسی بھی صورت میں دشمن کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی، ایرانی صدر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللّٰهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا» “حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔”
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «إِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ حَرَارَةً فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَبْرُدُ أَبَدًا» “بے شک حسینؑ کی شہادت کی ایک حرارت مؤمنوں کے دلوں میں ہے جو کبھی سرد نہیں ہوگی۔”
کربلا ایک جنگ کا نام نہیں بلکہ ایک فکر، ایک پیغام اور ایک تحریک کا نام ہے۔ آج بھی انسان دو راستوں کے درمیان کھڑا ہے۔ ایک راستہ مفاد، مصلحت اور خاموشی کا ہے، جبکہ دوسرا راستہ اصول، سچائی اور قربانی کا۔ کربلا ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم حسینؑ کے راستے کا انتخاب کریں، چاہے اس میں مشکلات ہی کیوں نہ ہوں۔
پروردگار! ہمیں امام حسینؑ کی معرفت عطا فرما، ان کے مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں ہر دور کے یزید کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینے والا بنا۔
السلام علیک یا ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام







