ڈی ایچ اے کے نوٹسز پر تشویش، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق پر سوالات

17 اپریل, 2026 10:45

شیعیت نیوز: پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے، جہاں آئین ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے اور اس کے اظہار کا حق دیتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات ایسے اقدامات سامنے آتے ہیں، جو نہ صرف ان آئینی اصولوں کے منافی ہوتے ہیں، بلکہ ایک مخصوص طبقے کے لیے احساسِ محرومی اور ناانصافی کو جنم دیتے ہیں۔ حال ہی میں ڈی ایچ اے کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز، جن میں مذہبی علامات ہٹانے کے احکامات اور عدم تعمیل کی صورت میں پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات منقطع کرنے کی دھمکیاں شامل ہیں، ایک انتہائی تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی شہری کے مذہبی اظہار کو دبانے کے لیے بنیادی انسانی ضروریات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟

تاریخِ اسلام ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب طاقت کو انصاف کے بجائے دباؤ کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ ظلم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کربلا کا واقعہ محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک اصول ہے کہ حق کو دبانے کے لیے وسائل کا استعمال ہمیشہ ایک تاریک روایت کو جنم دیتا ہے۔ اگر آج کسی کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر دباؤ میں لانے کے لیے پانی اور بجلی بند کرنے کی بات کی جا رہی ہے تو یہ طرزِ عمل یقیناً ایک ایسی تاریخ کی یاد دلاتا ہے، جسے ہم سب نے ظلم کی علامت کے طور پر یاد رکھا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ کسی ایک پالیسی کا نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کار کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر سے اہم ملاقات، ایران امریکا معاہدے پر پیش رفت کی کوششیں تیز

اگر کسی قانون کی آڑ میں کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جائے، یا اس کے بنیادی حقوق کو محدود کیا جائے، تو یہ قانون نہیں بلکہ طاقت کا غیر منصفانہ استعمال بن جاتا ہے۔ ڈی ایچ اے جیسے ادارے اپنی ساکھ نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ معیار کی وجہ سے قائم رکھتے ہیں۔ ایسے میں ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف قوانین نافذ کریں بلکہ انصاف، توازن اور سماجی حساسیت کو بھی ملحوظ رکھیں۔ کسی بھی شہری کو یہ احساس دلانا کہ اس کی مذہبی شناخت دبائی جا رہی ہے، ایک خطرناک رجحان ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اقدامات پر فوری نظرِثانی کی جائے اور ڈی ایچ اے کی سینیئر انتظامیہ اس بات پر ایکشن لے۔ بنیادی سہولیات کو بطور دباؤ استعمال کرنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں اور نہ ہی یہ ایک ذمہ دار ادارے کے شایانِ شان ہے۔ مسائل کا حل مکالمے، افہام و تفہیم اور باہمی احترام میں ہے، نہ کہ دھمکی اور دباؤ میں۔ اگر ہم ایک مضبوط اور متحد معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر شہری خود کو محفوظ، باعزت اور برابر محسوس کرے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مسلک یا عقیدے سے ہو۔

12:04 شام اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔