خدا کی قسم اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے، بنت جبیل کی 45 دن کی تاریخی استقامت
Hezbolah and Israel war on gaza
شیعیت نیوز : جنوبی لبنان کے علاقے بنت جبیل میں گزشتہ 45 دنوں سے جاری مزاحمت نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
لبنانی اخبار کے مطابق، غاصب صہیونی فوج کے ساتھ اس طویل اور شدید جنگ کے بعد بنت جبیل ایک علامتی شہر بن چکا ہے، جو ظالم و غاصب اسرائیل کے سامنے استقامت اور حوصلے کی مثال پیش کر رہا ہے۔
یہ چھوٹا سا شہر، جو ثقافتی، ادبی، مذہبی اور سیاسی ورثے سے مالا مال ہے، ہمیشہ سے مزاحمت اور آزادی کی علامت رہا ہے۔ جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی سے لیس تقریباً 15 ہزار فوجیوں پر مشتمل اسرائیلی فوج کے پانچ ڈویژن بھی اس شہر کو اپنے قبضے میں لینے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں : شیعہ کانفرنس کا کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ سے اظہار تشکر
حیرت کی بات یہ ہے کہ جس شہر کا ذکر دشمن کے بیانات میں ایک بڑے خطرے کے طور پر کیا جا رہا ہے، وہ دراصل ایک سادہ سا دیہی علاقہ ہے، جو سرحد کے بالکل قریب واقع ہے۔ مگر اس کی اصل طاقت اس کے لوگوں کے حوصلے اور ثابت قدمی میں ہے۔
نتائج کچھ بھی ہوں، بنت جبیل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حوصلہ، قربانی اور سچ پر ڈٹے رہنے والے لوگ تاریخ بدل سکتے ہیں۔ محاصرے اور شدید دباؤ کے باوجود 45 دن تک ڈٹ کر مقابلہ کرنا خود ایک بڑی کامیابی ہے۔
بنت جبیل آج اس حقیقت کی زندہ مثال ہے کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، استقامت اور ایمان کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔ واقعی آج بنت جبیل ثابت کر رہا ہے کہ اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے۔







