ایران کی مزاحمت: طاقت، نظریہ اور استقامت کی ایک نئی تاریخ
شیعیت نیوز : تحریر: مجتبیٰ شجاعی
عصر حاضر کی عالمی سیاست میں جب طاقتور اقوام اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خودمختار ریاستوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، تو کچھ قومیں تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی حالیہ جدوجہد اسی نوعیت کی ایک زندہ اور جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں مسلط کی گئی جارحیت کے باوجود ایک قوم نے نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ فکری، اخلاقی اور انسانی سطح پر بھی اپنی برتری ثابت کی۔ ایران پر مسلط کی گئی یہ جنگ کسی ایک محاذ تک محدود نہ تھی، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت دباؤ کا نتیجہ تھی۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، میڈیا جنگ اور عسکری دھمکیاں، سب کا مقصد ایک ہی تھا کہ ایران کو اس کے اصولی موقف سے ہٹانا۔
مگر جمہوری اسلامی ایران کی مضبوط و مستحکم قیادت اور غیور ملت نے جس صبر، حکمت، مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظریاتی قومیں وقتی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔ عسکری میدان میں ایران نے دفاعی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے اپنی سرزمین کے تحفظ کو اولین ترجیح دی، مگر اس کے ساتھ ساتھ انسانی اور اسلامی اقدار کو بھی فراموش نہیں کیا۔ شیطانِ بزرگ اور اس کی ناجائز اولاد کے مقابلے میں جنگ کے دوران عام شہریوں کے تحفظ، اخلاقی حدود کی پاسداری اور غیر عسکری اہداف سے اجتناب کی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ جمہوری اسلامی ایران نے جنگ کو بھی اصولوں کے دائرے میں رہ کر لڑا۔ یہی وہ پہلو ہے، جو اسے محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک اخلاقی قوت بھی بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران میں تعلیمی اداروں پر حملے، سینکڑوں طلباء و اساتذہ شہید
اس پوری جدوجہد میں سب سے نمایاں کردار ایرانی عوام کا رہا۔ ایک ایسی قوم جس نے اپنی جان و مال کی قربانی کو معمولی سمجھتے ہوئے وطن کے دفاع، انسانی اور اسلامی اقدار کے تحفظ کو اپنا دینی، قومی اور انسانی فریضہ سمجھا۔ ناکہ بندی، بمباری، اقتصادی مشکلات اور مسلسل خطرات کے باوجود عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد رہے۔ ان کے مثالی حوصلے، صبر اور ایثار نے دشمن کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ یہ راستہ قربانیوں سے خالی نہ تھا۔ ممتاز فوجی، سیاسی اور مذہبی شخصیات نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان میں سب سے عظیم قربانی رہبر انقلاب، شہید ملت آیت اللہ سید علی خامنہ ای رحمتہ اللہ علیہ کی تھی، جن کی شہادت نے اس جدوجہد کو ایک نئی روح عطا کی۔
ان کی قربانی نے قوم میں ایک بے مثال اتحاد، شعور اور بیداری پیدا کی۔ ان کے افکار نے قوم کو یہ سکھایا کہ استقامت محض ایک عمل نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، جس پر قائم رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان شہادتوں کے ساتھ ساتھ معصوم جانوں کا ضیاع بھی ایک الم ناک حقیقت ہے۔ میناب کے اسکول میں معصوم اور مہکتی کلیوں کی شہادت نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا۔ وہ ننھی کلیاں جو مستقبل کا خواب تھیں، ظالمانہ جارحیت کا نشانہ بن گئیں۔ تباہ شدہ یونیورسٹیاں، اسپتال، ریسرچ مراکز، ادویہ کے مراکز، ریلوے لائنیں، پُل، سڑکیں، زخمیوں کی طویل قطاریں، شہداء کے جنازے اور تباہ حال بستیاں، یہ سب مناظر دل دہلا دینے والے تھے، مگر ان سب کے باوجود ایرانی قوم کے حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔
ہر شہید کا جنازہ ایک پیغام بن گیا، ہر آنسو ایک عزم میں بدل گیا اور ہر قربانی ایک نئی طاقت کا ذریعہ بنی۔ یہی وہ جذبہ تھا، جس نے ایران کو ناقابلِ شکست بنا دیا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔ امریکہ کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات، کبھی سخت لہجہ اور کبھی نرم موقف، اس کی پالیسی کے تضاد کو ظاہر کرتے رہے۔ مگر ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت نے نہایت سنجیدگی اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ وہ چٹان کی مانند اپنے موقف پر قائم رہے اور واضح کر دیا کہ قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ حق و باطل کا یہ معرکہ ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ یہ ایک عارضی جنگ بندی ہے۔ یہ وقفہ بظاہر سکون کا ہے، مگر اس کے پس پردہ کشیدگی اب بھی موجود ہے۔
ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے، وہ شیطانِ بزرگ اور اس کے چیلوں کی منافقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ لہٰذا ان کا موقف واضح اور دوٹوک ہے، وہ کسی بھی قومی، انسانی اور اسلامی اصول پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی طرف آنا دراصل اس کی ایک مجبوری کا اظہار تھا۔ ایران کی استقامت، عوامی اتحاد اور عسکری صلاحیت نے اسے یہ باور کرا دیا کہ یہ قوم دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ یہی وہ مقام تھا، جہاں طاقت کا توازن بدلتا ہوا نظر آیا۔ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے جس جرأت، وقار اور اصولی موقف کا مظاہرہ کیا، وہ اس قوم کے اجتماعی شعور کا عکاس ہے۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ ایران نہ تو دباؤ میں آئے گا اور نہ ہی اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹے گا۔ یہی وہ خودداری ہے، جو ایک قوم کو حقیقی معنوں میں باوقار بناتی ہے۔
اگر اس پوری جدوجہد کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک جنگ کی کہانی نہیں بلکہ ایک نظریاتی استقامت، قومی اتحاد اور اخلاقی برتری کی داستان ہے۔ ایران نے ثابت کیا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ نہ صرف عسکری قوت ہے بلکہ ایک بیدار قوم، ایک مضبوط قیادت اور ایک واضح نظریہ بھی ہے۔ آج ایران ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے، جہاں اسے نہ صرف اپنی کامیابیوں کو محفوظ رکھنا ہے بلکہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے بھی تیار رہنا ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی ایک موقع ہے، اپنی صفوں کو مزید مضبوط کرنے کا، اپنے نظریات کو مزید واضح کرنے کا اور اپنی قوم کو مزید متحد کرنے کا۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایران نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ایک قوم ایمان، اتحاد اور اصولوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو کوئی بھی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ یہ داستان صرف ایران کی نہیں بلکہ ہر اس قوم کے لیے ایک درس ہے جو اپنی آزادی، خودمختاری اور وقار کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔







